عباسیہ کیمپس ایشو، سول سوسائٹی کا تحریک چلانے کااعلان

عباسیہ کیمپس ایشو، سول سوسائٹی کا تحریک چلانے کااعلان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بہاولپور(بیورو رپورٹ، ڈسٹرکٹ رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی عباسیہ کیمپس کی اراضی پر قبضہ گروپوں کی نظر یں جم گئیں عدالتوں سے قبضہ گروپوں نے یونیورسٹی کی اراضی پر اپنے حق میں ڈگریاں حاصل کرلیں۔ دوسری طرف عباسیہ کیمپس کو جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بنانے کے لئے بھی حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں مختلف شخصیات،شہریوں اور طالب علموں (بقیہ نمبر46صفحہ7پر)
 کی طرف سے یونیورسٹی کا تشخص پامال کرنے کی کوششوں پر شدید اضطراب پیدا ہوگیا ہے شہریوں نے یونیورسٹی کے تشخص کی پامالی پر بھرپور تحریک چلانے احتجاج اور دھرنے دینے کا اعلان کردیا۔  نواب سرصادق محمد خان خامس عباسی نے بہاولپور میں خصوصی جامعہ الاظہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ بنانے کی داغ بیل ڈالی اور 1950میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے اس جامعہ کے ئے 26ایکڑ 2کنال 15مرلے اراضی وقف کی۔ جامعہ عباسیہ کی تعمیر کے بعد اس میں اسلامی علوم کی درس و تدریس کا کام شروع ہوگیا۔ 1951میں ریاست بہاولپور کے پاکستان سے الحا کے بعد جامعہ عباسیہ ترقی کرتے ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بن گئی اور اس کا سابقہ جامعہ عباسیہ کا کیمپس اسلامیہ یونیورسٹی کا عباسیہ کیمپس بن گیا۔ عباسیہ کیمپس میں یونیورسٹی کے دفاتر ہاسٹل اور دیگر عمارات 80کنال یعنی10ایکڑ رقبہ پر تعمیر ہوچکی ہیں جبکہ بقیہ 18ایکڑ 2کنال 15مرلہ اراضی یونیورسٹی میں کھیلوں کے میدانوں،صحن،بس اسٹینڈ اور دیگر ضروریات کے لئے استعمال میں لائی جارہی ہے۔ بہاولپور مٰں جعلی کلیموں کے ذریعے سرکاری اراضٰ ہتھیانے والے ایک گروہ نے شہر کے مختلف مقامات پر محکمہ مال کے کرپٹ افسران اور عملہ کی ملی بھگت سے اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر پنجے گاڑلئے  1978میں بہاولپور کی ہی ایک علوی فیملی نے عائشہ بی بی نامہ خاتون کے نام سے عدالت میں دعوی دائر کیا کہ اس کی 69کنال اراضی عباسیہ کیمپس میں موجود ہے جو اسے دلائی جائے اسلامیہ یونیورسٹی کی لیگل ٹیم اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت،غفلت یا سستی کے باعث عائشہ بی بی وغیرہ نے عدالت سے اپنے حق میں ڈگری حاصل کرلی اور چلتے چلتے یہ قصہ عدالت عظمیٰ تک جاپہنچا جہاں سے بھی عائشہ بی بی کے حق میں فیصلہ صادر ہوا لیکن اس فیصلے میں بھی واضح طورپر یونیورسٹی سے عائشہ بھی بی وغیرہ کو اس کا معاوضہ دینے کا نہیں کہا گیا ہے اب یونیورسٹی انتظامیہ کی طر ف سے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کو شاہی فرمان کے تحت الاٹ کردہ اراضی کی حد براری کرائی جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ یونیورسٹی الاٹ شدہ اراضی پر ہی قائم ہے یا اس میں کوئی زائد اراضی موجود ہے۔دوسریہ طر ف حکومت پنجاب کی طرف سے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بہاول پور کے دفاتر بنانے کے لئے عباسیہ کیمپس کا انتخاب کیا گیا ہے اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب نے بھی اس کی سفارش کی ہے۔ ایک طرف تو قبضہ گروپوں کا یونیورسٹی اراضی پر نظر یں جمانا اور دوسری طرف حکومتی سطح پر اسے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ باننے کا فیصلہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ شاید حکومتی سطح پر اس ساری سازش کے تانے بانے بنے جارہے ہیں تاکہ یہاں سے تعلیمی ادارہ ختم کرکے قبضہ گروپوں کو اس اراضی پر قبضہ کا پورا موقع فراہم کیا جاسکے۔ بہاولپور کے معتبر حلقوں،سیاستدانوں،سماجی شخصیات اور شہریون کی طرف سے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جارہاہ ہے اور یونیورسٹی کا تدریسی تشخص مجروح کرنے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عندیے دیئے جارہے ہیں بہاولپور کے شہریون نے اس سارے قضیے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سازش کے کرداروں کو بے نقاب کرنے کے لئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرے اور قبضہ گروپوں کے خلاف کاروائی کی جائے دوسری طرف عدالت عظمیٰ سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا اہم کردار ادا کرے۔اسلامیہ یونیورسٹی عباسیہ کیمپس کو جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تبدیل کرنے کے ممکنہ فیصلے کے خلاف جماعت اسلامی کی یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔احتجاجی کیمپ میں نائب امیر جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے پرہجوم پریس کانفرنس میں عباسیہ کیمپس کوسیکرٹریٹ میں تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اہلیان بہاول پور کا دل ہے اور حکمران سن لیں بہاولپور کوئی لاوارث شہر نہیں ہے بہاول پور کی تاریخی مادر علمی کو سیکرٹریٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو جماعت اسلامی بہاول پور کی عوام کیساتھ مل کر تحریک چلائے گی اگرسیکرٹریٹ بنانا ہے تو ایکڑوں پر محیط کمشنر ہاؤس، آر پی او ہاؤس اور دیگر بیوروکریسی کے ہاؤسز میں بنائیں اسلامیہ یونیورسٹی کی جانب کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو سخت مذاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک عظیم مادر علمی کو ایک زبانی آڈر کے ساتھ سیکرٹریٹ میں تبدیل کیا جارہا ہے اگر اس فضول فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو ہم آ ل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے گلیوں محلوں میں عوام کو منظم کرکے تحریک چلائیں گے اور یونیورسٹی کے سٹیٹس کو کسی صورت تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔امیر جماعت اسلامی بہاولپور نصراللہ ناصر نے کہا کہ اس حکومت نے صوبہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھامگر آدھا تیتر آدھا بٹیر  کے مصداق ایک ایسا سیکرٹریٹ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ہم پر معاشی بوجے کے سوا کچھ نہیں ہے پی ٹی آئی حکومت کے دو سال باقی رہے گے ہے اس کے جانے کے بعد آنے والی حکومت اس سیکرٹریٹ کو لپیٹ دے گی۔اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس کو بہاولپور سول سیکرٹریٹ میں تبدیل کرنے کا معاملہ پرجامعہ کے اسلامی جمعیت طلبا ء کاحکومتی فیصلوں کیخلاف یونیورسٹی چوک پر شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت عبداللّہ عزام قائم مقام ناظم اسلامی جمعیت طلبہ بہاولپور اور الیاس بلوچ قائم مقام ناظم اسلامیہ یونیورسٹی نے کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومتی دعوے تو تھے سیاسی رہائش گاہوں کو تعلیمی اداروں میں بدلنے کے مگر عملی اقدام بالکل الٹ ہے یہ حکمران تو تعلیمی اداروں کو اپنے سیاسی مفادات کے بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں مگر یہ سن لیں اگر حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی تو ہم دھرنا دینگے اور بھوک ہڑتال کرینگے ہم اپنی مادر علمی کے ساتھ یہ کھلواڑ نہیں کھیلنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے ماضی کے حکمرانوں سے سبق سیکھے اور جانیں کہ طلباء کتنی پڑی طاقت ہے حکمران ہم سے ٹکرائے گے تو پاش پاش ہو جائیں گے۔ شعبہ قانون اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طلباؤطالبات نے آج دوسرے روز بھی عباسیہ کیمپس کو جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کیخلاف یونیورسٹی چوک میں احتجاج کیا۔ان طلباوٗطالبات کا کہنا تھا کہ بغدادالجدید کیمپس میں اور ریلوے کیمپس میں شعبہ قانون منتقل کرنے کیلئے کوئی متبادل عمارت نہ ہے۔ اسی طرح جنرل پوسٹ آفس کے بالمقابل یونیورسٹی کا سب آفس پہلے ہی جنوبی پنجاب انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔شعبہ قانون میں پانچ سو سے زائد طلباوٗطالبات زیرتعلیم ہیں اور کسی کرائے کی عمارت میں منتقل نہیں ہو سکتے۔حکومت کی جانب سے عباسیہ کیمپس کو جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو طلباوٗ طالبات کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرینگے اور ہائیکورٹ باراور ڈسٹرکٹ بارکونسل بھی اس احتجاج میں شامل ہوجائیں گے۔ موجودہ حکومت جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بنانے کیلئے یونیورسٹی کاقربانی کابکرابناناچاہتی ہے حکومت کی اس بے رحمانہ‘علم دشمن پالیسی کی ہم بھرپورمذمت کرتے ہیں ان خیالات کااظہار چیرپرسن بہاول پورصوبہ اتحاد آسیہ کامل نے اپنے ایک بیان میں کیاانہوں نے کہا کہ یہ وہی عمران خان ہے جنہوں نے وزارت عظمی کاحلف اٹھانے کے بعد اعلان کیاتھا کہ گورنرہاوس‘وزیراعظم ہاوس میں یونیورسٹی بنائی جائیں گی مگرافسوس کہ وہ بھی سابق حکومتی ادوار کی روایت کوبرقراررکھتے ہوئے علمی اورتحقیقاتی اداروں کی زمین وعمارات کودیگرمنصوبوں کے لئے حاصل کرناچاہتی ہے بدقسمتی سے ہمارے ارباب واختیار کے نذدیک علمی وتحقیقاتی اداروں کی حیثیت ثانوی ہے حالانکہ ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم اورتحقیق سے ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔
اعلان