گوادر پورٹ سے افغانستان، وسطی ایشیا اور روس تک تجارتی نیٹ ورک میں وسعت آئی: عاصم سلیم

گوادر پورٹ سے افغانستان، وسطی ایشیا اور روس تک تجارتی نیٹ ورک میں وسعت آئی: ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ   نے کہا ہے کہ سی پیک بڑی ترجیح ہے، اب فیز ٹو میں جا رہے ہیں، منصوبوں پر کام رکا نہ سست روی کا شکار ہے، چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد کم نہیں ہوا، کسی کی طرف دیکھے بغیر آگے بڑھ رہے ہیں۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ  نے کہا  کہ سی پیک کے ہر منصوبے کی نگرانی کر رہا ہوں، آپریشنل ایشوز پر بھی ہماری نظر ہے، سی پیک فیز ون میں 1200 نوکریاں پیدا ہوئیں، کورونا سی پیک کیلئے بڑا امتحان تھا، کامیابی سے نکل گئے۔ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک چین زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی مشترکہ نیٹ ورک بنا رہے ہیں، چینیوں نے وزیراعظم سے اکنامک زون میں زمین دینے کا کہا، گوادر پورٹ کا قومی اور مقامی معیشت پر بڑا اثر ہے، بلوچستان کے مغربی روٹس کے علاقوں میں روزگار کے مسائل ہیں، اسلام آباد سے کوئٹہ، خضدار سے سندھ لنک ہونے سے غربت کم ہوگی، چین کی ایک ڈالر سرمایہ کاری سے ووکیشنل انسٹیٹیوٹ بنے گا، ماہی گیروں کیلئے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کی کامیاب فعالیت سے افغانستان کیساتھ ساتھ  وسطی ایشیا اور روس تک تجارتی نیٹ ورکنگ میں وسعت آئی ہے پچھلے کچھ مہینوں کے دوران بندرگاہ پر 67000 میٹرک ٹن سے زیادہ سامان ہینڈل کیا گیا،گوادر پورٹ دنیا کی تقریبا تمام بڑی بندرگاہوں کو جوڑ دے گی۔پورٹ اکانومی میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر ہو رہی ہے گوادر فری زون پاکستان کا پہلا جدید صنعتی پارک ہے، اس سے نمایاں سرمایہ کاری اور ترقی ہو رہی ہے۔ گوادر پرو کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب دورے کے بعد گوادر ترقی کے نئے سفر پر گامزن ہو گیا،۔اس دورے کے دوران دستخط کیے گئے معاہدوں میں چین کی طرف سے روزانہ 1.2 ملین گیلن پانی صاف کرنے والے پلانٹ اور جنوبی بلوچستان کے لئے دیئے جانے والے سولرجنریٹرز پر عمل درآمد کیا گیا۔ یہ پروگرام جنھیں گوادر کو فراہمی، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے با ضابطہ آغاز کے بعد گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران چینی کاروباری اداروں اور مقامی لوگوں کی مسلسل تلاش اور کوششوں کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین عاصم باجوہ کے ساتھ انٹرویو کے مطابق پچھلے کچھ مہینوں کے دوران، بندرگاہ پر 67000 میٹرک ٹن سے زیادہ سامان ہینڈل کیا گیا۔ گوادر پورٹ کی کامیاب فعالیت نے افغانستان کیساتھ ساتھ  وسطی ایشیا اور روس تک تجارت کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اس سے تجارتی نیٹ ورکنگ میں وسعت بھی آئی ہے جو کہ اور گوادر گلف ایکسپریس کے آغاز کے لئے 2018 میں COPHC اور COSCO شپنگ لائنوں کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جسکی وجہ سے مزید توثیق کردی گئی ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے مینا جیبل علی، کراچی، قاسم، اور ابوظہبی، کوسکو (COSCOs)کی 16 بین الاقوامی خطوط کے ساتھ گزرنے والی بندرگاہوں کو بطور ٹرانزٹ پورٹ استعمال کیا جا سکتا ہے اور عالمی صارفین کے لئے بھی دستیاب ہونگے، اور گوادر پورٹ دنیا کی تقریبا تمام بڑی بندرگاہوں کو جوڑ دے گی۔پورٹ اکانومی میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر ہو رہی ہے۔ 
عاصم سلیم

مزید :

صفحہ اول -