دلیپ کمار بھی دنیا چھوڑ گئے!

دلیپ کمار بھی دنیا چھوڑ گئے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

عالمی شہرت کے حامل بے مثل اداکار
نصف صدی سے زائد شوبز انڈسٹری پر راج کرنے والے یوسف خان نے بھرپور زندگی گزاری

حسن عباس زیدی
لاتعداد فلموں میں اپنی بے مثل اداکاری کی وجہ سے شہرت رکھنے والے برصغیر پاک و ہند کے لازوال فنکار دلیپ کمار 98برس کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کرگئے۔یوسف خان المعروف دلیپ کمار 11دسمبر1922ء کو صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر پشاور میں واقع قصّہ خوانی بازار کی ایک حویلی میں پیدا ہوئے۔دلیپ کمار کے والد  غلام سرور خان جو ڈرائی فروٹ کا کاروبار کرتے تھے، 12 بچوں کے باپ تھے جن میں یوسف کا نمبر چوتھا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل ہی یوسف خان کے والد کاروبار کے سلسلے میں پہلے شملہ اور بعد ازاں پورے خاندان سمیت بمبئی منتقل ہو گئے۔پشاور سے ممبئی منتقلی کے بعد یوسف نے وہاں سکول اور کالج میں تعلیم پائی۔دلیپ کمار کے والد قدامت پسندتھے اور وہ سنیما سے وابستہ ہر شخص کو نوٹنکی والا کہتے تھے۔جنگ عظیم دوئم کے دنوں میں والد کا کاروبار نقصان میں جانے کے باعث مرحوم نے ایک دو جگہ نوکری بھی کی لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ایک روز اچانک ان کی ملاقات اس زمانے کی مشہور اداکارہ اور بمبئی ٹاکیز کی دیویکا رانی سے ہوئی جنہوں نے یوسف کو اداکار بننے کی پیشکش کرتے ہوئے 500 روپے کی بیش قیمت تنخواہ کے ساتھ ساتھ سالانہ 200 روپے اضافے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ایک اتفاقی ملاقات نے یوسف کی زندگی بدل دی لیکن اس ملاقات کے ساتھ ہی فلم کی دنیا میں اداکاری کا انداز بھی بدل گیا۔دلیپ کمار کو رومانوی ہیرو بھی کہا جاتا رہا۔دیویکا رانی کا خیال تھا کہ رومانٹک ہیرو پر یوسف خان کا نام زیادہ نہیں جچے گا۔اس وقت بمبئی ٹاکیز میں کام کرنے والے نریندر شرما جو بعد میں ہندی کے ایک بڑے شاعر ہوئے انھوں نے تین نام تجویز کئے۔جہانگیر، واسودیو اور دلیپ کمار۔ یوسف خان نے اپنا نیا نام دلیپ کمار کے طور پر منتخب کیا۔اس کے پس پشت ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نام کی وجہ سے ان کے پرانے خیالات کے حامل والد کو ان کے حقیقی پیشے کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکتا تھا۔ فلم اور اس سے منسلک لوگوں کے بارے میں ان کے والد کی رائے اچھی نہیں تھی اور وہ انھیں نوٹنکی والا کہہ کر مذاق اڑاتے تھے۔ایک زمانے میں دلیپ کمار انڈیا کے بہترین فٹبال کھلاڑی بننے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ان کے ساتھ خالصہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے راج کپور جب پارسی لڑکیوں سے فلرٹ کرتے تھے تو تانگے کے ایک کونے میں بیٹھے شرمیلے دلیپ کمار کبھی کبھی صرف ان کی طرف نگاہ ڈال دیتے تھے۔کون جانتا تھا کہ ایک دن یہ شخص انڈیا کے فلمی شائقین کو خاموشی کی زبان سکھائے گا۔دلیپ کمار، راج کپور اور دیوآنند کو انڈین فلمی انڈسٹری کا مثلث کہا جاتا ہے لیکن جتنے کثیر جہتی پہلو دلیپ کمار کی اداکاری میں تھے شاید ان دونوں کی اداکاری میں نہیں تھے۔اگر راج کپور نے چارلی چیپلن کو اپنا آئیڈل بنا رکھا تو دیوانند گریگوری پیک کے مہذب انداز والے مسحور کن شخص کی شبیہہ سے باہر ہی نہیں آ سکے۔یوسف خان یعنی دلیپ کمارنے تھیٹر کے انداز سے اداکاری کرنے کے بجائے عام زندگی میں بات چیت کے لئے اپنائے جانے والے انداز کو ترجیح دی، جس کے بعد دوسرے اداکاروں نے ان کی نقل شروع کر دی۔یوسف نے 1943ء سے 1998ء کے درمیان 55 سال میں فقط 63 فلموں میں کام کیا لیکن اس دوران وہ جو کردار کیااس میں خود کو ڈھال لیتے۔ دلیپ کمار نے انڈین سنیما میں اداکاری کے فن کو ایک نئی تعریف ایک نئی معنویت دی۔نے 1944 میں 22 سال کی عمر میں فلم ”جوار بھاٹا“سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔دلیپ کمار کو حقیقی شہرت شوکت حسین رضوی کی ڈائریکشن میں بنائی جانے والی بلاک بسٹرفلم ”جگنو“سے ملی۔یہ بات بہت ہم لوگ جانتے ہیں کہ شہنشاہ جذبات کی شہرہ آفاق فلم تقسیم ہند کے بعد لاہور میں بنائی گئی تھی۔اس فلم میں دلیپ کمار کو کاسٹ کروانے کا سہرا شوکت حسین رضوی کے اسسٹنٹ لڈن میاں کے سر تھا۔”جگنو“پاکستان  اور ہندوستان دونوں ممالک میں ایک ساتھ عام نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی۔5اگست1960ء کو عام نمائش کے لئے پیش کی جانے والی فلم ”مغل اعظم“نے مرحوم کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔دلیپ کمار نے جس انداز اور تمکنت کے ساتھ فلم ”مغل اعظم“میں شہزادے کا کردار ادا کیا اتنا ہی انصاف انھوں نے ”گنگا جمنا“میں ایک گنوار دیہاتی نوجوان کے کردار کو ادا کرنے میں کیا۔ فلم کوہ نور کے ایک منظر میں ستار بجانا تھا تو انہوں نے اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے خصوصی طور پر ایک ستار کے استاد سے تربیت لی۔اس طرح جب فلم ”نیا دور“میں انہیں ٹانگے ڈرائیور کا کردار ملا تو انہوں نے اس کام سے وابستہ لوگوں کی زندگی اور ان کے کام کے انداز کو جاننے کے لئے خاص طور پر اس پیشے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ کچھ وقت گذارا۔دیو آنند اور راج کپور کو کبھی کبھی دلیپ جی کا ہم عصر اداکار کہا جاتا ہے تاہم اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ان جیسا ورسٹائل اور ہرفن مولا کوئی نہیں ہے۔ایک زمانے میں دلیپ کمار اور مدھو بالا کے درمیان بھی رومانوی تعلقات کی خبریں گردش کرتی رہی تھیں۔راج کپور عام طور پر چارلی چپلن کے انداز کے کردار کیا کرتے جبکہ دیو آنند بوڑھے ہونے کے باوجود بھی جوانی کے سحر سے باہر نہیں نکل پائے اور اسی طرح کے کردار ادا کرتے رہے۔دلیپ کمار نے”گنگا جمنا“ میں ایک عوامی کردار ادا کیا تو دوسری جانب اس سے کہیں زیادہ آسانی سے برصغیر کے اس عظیم اداکار نے فلم مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کا لازوال کردار ادا کیا جہاں ایک کنیز کے پیار میں پاگل سلیم شہنشاہ وقت سے ٹکرا جاتا ہے، اس فلم میں مدھو بالا نے بھی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔رومانوی کردار ہو یا کامیڈی، دلیپ کمار نے جس کردار کو بھی اپنایا اسے امر کر دیا۔یہی وجہ تھی کہ معروف فلم ہدایتکار ستیہ جیت رے نے انھیں عظیم ترین ”میتھڈ ایکٹر“کا خطاب دیا تھا۔اگرچہ انھوں نے بہت سی اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی سب سے مقبول جوڑی مدھوبالا کے ساتھ بنی اور ان کے ساتھ انھیں محبت ہو گئی۔دلیپ کمار نے اپنی سوانح عمری میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ مدھوبالا پر فریفتہ تھے ایک فنکار اور ایک خاتون دونوں حیثیت سے۔ دلیپ کا کہنا ہے کہ مدھوبالا ایک بہت ہی زندہ دل اور پھرتیلی خاتون تھیں جنھیں مجھ جیسے شرمیلے اور تشویش کرنے والے انسان سے بات چیت کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی۔لیکن مدھوبالا کے والد کی وجہ سے محبت کی یہ کہانی زیادہ دنوں تک نہیں چل سکی۔ مدھوبالا کی چھوٹی بہن مدھر بھوشن یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ابا کو لگتا تھا کہ دلیپ ان سے عمر میں بڑے ہیں۔ حالانکہ وہ میڈ فار ایچ ادریعنی ایک دوسرے کے لئے بنے تھے۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت جوڑاتھا۔ لیکن ابا کہتے تھے کہ رہنے دویہ صحیح نہیں ہے۔ لیکن وہ ان کی نہیں سنتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ وہ ان سے محبت کرتی ہیں۔ لیکن جب ”نیا دور“فلم سے متعلق بی آر چوپڑا کے ساتھ عدالتی معاملہ ہوا تو میرے والد اور دلیپ کمارکے مابین پھوٹ پڑ گئی۔ عدالت میں ان کے مابین ایک سمجھوتہ بھی ہو گیاتھا جس کے بعددلیپ کمار نے کہا تھاکہ آؤ ہم شادی کر لیں جس پر میری بہن مدھوبالا نے کہا کہ ہم شادی ضرور کریں گے لیکن پہلے آپ میرے والد سے سوری کہیں گے۔ لیکن دلیپ کمار نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گھر میں ہی ان سے گلے مل لیجیے لیکن دلیپ کمار اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔وہیں سے ان دونوں کا بریک اپ ہو گیا۔ فلم 'مغل اعظم' کی شوٹنگ کے درمیان صورتحال اس حد تک پہنچ گئی کہ دونوں کے مابین بات چیت بھی بند ہو گئی تھی۔ مغل اعظم کا وہ کلاسک رومانٹک منظر اس وقت فلمبند کیا گیا جب مدھوبالا اور دلیپ کمار نے ایک دوسرے کو عوامی سطح پر پہچاننا بھی چھوڑ دیا تھا۔1966ء میں دلیپ کمار کی سائرہ بانو سے شادی کے بعد جب مدھوبالا بہت بیمار تھیں تو انھوں نے دلیپ کمار کو پیغام بھیجا کہ وہ ان سے ملنا چاہتی ہیں۔جب وہ ان سے ملنے گیا تو وہ بہت کمزور تھیں۔ دلیپ کمار یہ دیکھ کر بہت افسردہ خاطر ہوئے۔ ہمیشہ مسکراتی رہنے والی مدھوبالا کے لبوں پر اس دن بہ دقت تمام ایک پھیکی سی مسکراہٹ آئی۔دلیپ کمار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مدھوبالا نے کہاہمارے شہزادے کو اس کی شہزادی مل گئی ہے، میں بہت خوش ہوں۔مدھوبالا 23 فروری 1969 ء کو 35 سال کی کم عمری میں وفات پا گئیں۔فلم ”مغل اعظم“کے بعد جس فلم میں دلیپ کمار کی بہت زیادہ تعریف ہوئی وہ ان کی فلم ”گنگا جمنا“تھی۔انہوں نے بہت سی فلموں میں مختلف قسم کے کردار ادا کئے لیکن ”مغل اعظم“میں ان کی رومانوی اداکاری اور ”رام اور شام“میں ان کے کردار کو آج بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔ان کی دیگرسُپرہٹ فلموں میں ”ملن“، ”جگنو“، ”شہید“، ”ندیا کے پار“، ”انداز“،”جوگن“،”بابل“، ”آرزو“،”ترانہ“،”ہلچل“، ”دیدار“، ”سنگدل“، ”داغ“، ”آن“،”شکست“، ”فٹ پاتھ“،”امر“،”اڑن کٹھولا“،”انسانیت“، ”دیوداس“، ”نیا دور“،”پیغام“، ”کوہ نور“،”شکتی“،”قانون اپنا اپنا“،”سگینہ“،”آدمی“،”گوپی“،”ودھاتا“،”مدھومتی“،”سنگھرش“،”دل دیادردلیا“،”مزدور“،”میلہ“،”عزت دار“،”کرانتی“اور”قلعہ“ شامل ہیں۔ان کی آخری فلم ”قلعہ“1998 میں ریلیز ہوئی تھی۔ہندوستانی حکومت نے دلیپ کمارکی شاندار اور بے مثال اداکاری کا اعتراف کرتے ہوئے 1991 میں پدمابھوشن، 1994 میں دادا صاحب پھالکے اور 2015 میں پدماوی بھوشن ایوارڈ سے نوازا جبکہ حکومت پاکستان نے بھی انہیں سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا تھا، وہ مرار جی دیسائی کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے ہندوستانی تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -