کون کہتا ہے آزاد کشمری سے پیپلز پارٹی ختم ہو گئی، ابھی تو ہم میدان میں اترے ہیں، جو کہتے تھے آریا پا ر ہو گا، وہ پاؤں پکڑنے تک آگئے: بلاول بھٹو

      کون کہتا ہے آزاد کشمری سے پیپلز پارٹی ختم ہو گئی، ابھی تو ہم میدان میں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 عباس پور (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن)پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے جو کہتے تھے آر یا پار ہوگا، وہ پاؤں پکڑنے تک آگئے، سیاسی حلیف کٹھ پتلی کوگرانے میں سنجیدہ نہیں، کون کہتا ہے آزاد کشمیر سے پیپلز پارٹی ختم ہوگئی، ہماری جماعت کل بھی زندہ تھی، آج بھی زندہ ہے، آئندہ برسوں میں پیپلز پارٹی ہی نظر آئیگی،25 جولائی کو آزاد کشمیر کا وزیر اعظم منتخب کرنے کے بعد اسلام آباد اور بنی گالہ کی طرف رخ کریں گے اور کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے،کشمیر کے عوام جو فیصلہ کریں گے وہ اسلام آباد اور نئی دہلی کو بھی ماننا ہوگا،امید ہے شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن بجٹ کے دن غائب اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس دلوائیں گے۔ بدھ کو یہاں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کشمیر کے جیالوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کیساتھ مل کر تاریخ رقم کی تھی۔آزاد کشمیر میں 25جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات بہت اہم ہیں کیونکہ ہم سرحد کے اس پار (بھارت) اور سرحد کے اس پار (اسلام آباد) کو ایک ہی پیغام دیں گے کہ کشمیر پر سودا نامنظور، کشمیر پر سودا نامنظور۔ ہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیابی کیلئے دعا نہیں مانگتے، مودی کو شادیوں میں شرکت کی دعوت نہیں دیتے کیونکہ ہم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو وزیر اعظم عمران خان بے بسی کے عالم میں کہتے ہیں کہ میں کیا کروں، ہمیں ذوالفقار علی بھٹو نے سکھایا ہزار سال جنگ لڑنی پڑے لڑیں گے لیکن کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ عمران خان کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ کر کشمیر کا معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم عوام کے فیصلے پر چلتے ہیں، آپ حکم کریں، کل عمل ہوگا، ا گر آپ چاہتے ہیں بھارت سے جنگ ہو تو کل جنگ ہوگی۔کشمیر کے عوام جو فیصلہ کریں گے وہ اسلام آباد اور نئی دہلی کو بھی ماننا ہوگا اور یہ ہی ہماری پارٹی کا بنیادی فلسفہ ہے۔چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہا ہر ووٹ قیمتی ہے کیونکہ اسی ووٹ کی بدولت نااہل وزیر اعظم کو حقیقی معنوں میں نااہل کرنا ہے اور اپنے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ الیکشن میں تیر پر انتخابی نشان لگا کر کٹھ پتلی حکومت کو بھاگا کر کشمیر کو بچانا پڑیگا، جس طریقے سے عمران خان پورے پاکستان میں تبدیلی کا اصل چہرہ سامنے لے کر آئے ہیں اور یہ اصل چہرہ تاریخی غربت اور مہنگائی ہے۔ہمارے ملک میں مہنگائی کی شرح جنگ زدہ افغانستان سے بھی زیادہ ہے، یہ کس قسم کی سیاست اور معاشی پالیسی ہے،جو روز گار پر اسے بیروزگار کردیا جائے۔ ہم نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کو ٹف ٹائم دیا اور موجودہ حکومت کو ختم کرنے کیلئے اپنے سیاسی حریف سے جیل میں ملاقات کی اور انہیں نظریاتی بنایا۔ ہم نے پہلے دن عمران خان کو سلیکٹڈ کا نام دیا تو وہ ڈیسک بجا رہے تھے لیکن الگی مرتبہ میری موجودگی پر خوف کے مارے قومی اسمبلی میں ہی نہیں آئے۔ جیالے ہمیں منع کرتے تھے تاہم اب حساس ہوا ہمیں آپ کی بات سنی چاہیے تھی، معلوم ہوا عمران خان کو ہٹانے میں کوئی دلچسپی نہیں، ان کی کوئی نیت نہیں پاکستان کے عوام کو مشکل سے نکلیں۔ انتخابات عوام کا فیصلہ ہے تاہم پیپلز پارٹی نے نہ ہی گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کو اوپن فیلڈ دی تھی اور نہ یہاں دیں گے۔ حکومت کو اوپن فیلڈ دینا دیگر کی سیاست ہوسکتی ہے پیپلز پارٹی کی نہیں۔ہم اپوزیشن کی جماعتوں کیساتھ اتحاد کی سیاست صرف عوام کیلئے کرتے ہیں، اگر آج بھی وہ وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف عدم اعتماد لانے کے ہمارے موقف پر راضی ہوجائیں تو میں یقین دلاتا ہوں ہم ان کو گرادیں گے،لیکن نہاری، حلوہ کھانا ہے تو اس کیلئے ہم سیاسی اتحاد میں شامل نہیں ہونگے۔
بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -