مون سون شجر کاری مہم، تمام محکموں اور شراکت داروں کو غیر معمولی کارکردگی کامظاہرہ کرنا ہوگا 

    مون سون شجر کاری مہم، تمام محکموں اور شراکت داروں کو غیر معمولی کارکردگی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت مون سون شجرکاری مہم برائے سال 2021 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں اس مہم کو ایک کامیاب مہم بنانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے مختلف امور پر غور وخوص کے بعد متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اس سلسلے میں صوبائی سطح پر چیف سیکرٹری کی سربراہی میں سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جو متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے علاوہ مہم پر عملدرآمد کے لئے شیڈول اور پلان بھی تیار کرے گی۔ اجلاس میں پلان پر عملدرآمد کے لئے اضلاع کی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔  چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، ڈویڑنل کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو شجرکاری مہم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ صوبے میں اس مہم کے دوران چار کروڑ انیس لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے اوراس مقصد کے لئے صوبے کو تین ریجنز میں تقسیم کیا گیا ہیجن میں ضم اضلاع بھی شامل ہیں۔ریجن ون میں 25 ملین سے زائد پودے لگائے جائیں گے، ریجن ٹو میں 10 ملین سے زائد جبکہ ریجن تھری میں 4.811 ملین پودے لگائے جائیں گے۔ مزید بتایا گیا کہ مہم کے دوران دیہی اور پہاڑی علاقوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی شجرکاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں محکمہ جنگلات ہر ضلع کے لئے شجرکاری کے ہدف اور پودوں کی اقسام کا تعین کرے گا۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنر ضلع کے لئے شجرکاری پلان پرعملدرآمد کو یقینی بنائے گااور محکموں کے درمیان روابط قائم کرنے کے ساتھ ساتھ شجرکاری کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے افرادی قوت، مشینری اور مالی وسائل کا موثر استعمال یقینی بنائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کی شجرکاری مہم کو ہر لحاظ سے ایک تاریخی اور مثالی مہم بنانے کے لئے تمام متعلقہ محکموں اور شراکت داروں کو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کے لئے رضاکاروں، کمیونٹی اور عوام کی بھر پور شرکت کو یقینی بنایا جائے، مہم کے دوران ضم شدہ اضلاع میں تمام دریاوں، اہم شاہراہوں اور موٹر ویز کے کناروں پر پودے لگائے جائیں جبکہ محکمہ آبپاشی نہروں کے کناروں پر بھی شجرکاری کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ شجرکاری مہم کے دوران لگائے گئے پودوں کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تحصیل میونسپل آفسران اپنی اپنی حدود میں لگائے گئے پودوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ مہم کے اختتام پر تمام متعلقہ محکمے اور ادارے لگائے گئے پودوں کے بارے میں سرٹیفیکیٹ بھی فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے کلین اینڈگرین پاکستان کے وڑن کی تکمیل میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی۔ 
پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ممبر صوبائی اسمبلی فخر جہان خان کی قیادت میں ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی عہدیداروں اور کارکنان کے 20 رکنی وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد میں شامل سیاسی کارکنان نے اپنے دیگر ساتھیوں اور عزیزواقارب کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق تحصیل ناظم سید معمبر باچا، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری جاوید اقبال، ڈپٹی جنرل سیکرٹری نادر خان، سابق وائس چیئرمین ویلج کونسل گوہر علی خان اور دیگر شامل تھے۔ وفد کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی منشور کی تکمیل کیلئے بھر پور جدوجہد کا یقین دلایا۔ اُنہوں نے وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبائی حکومت کے عوام دوست اور غریب پرور اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے جو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر عوام کی یکساں خدمت پر یقین رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور یہ صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت بن چکی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت پارٹی منشور کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع کی یکساں بنیادوں پر ترقی کیلئے اقدامات اُٹھار ہی ہے۔ صوبے کے پسماندہ اضلاع کو ترقی کے میدان میں دوسرے ترقیافتہ اضلاع کے برابر لانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اسی مقصد کیلئے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان تشکیل دیا گیا ہے جس پر عمل درآمد سے پسماندہ اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔ 

مزید :

صفحہ اول -