مون سون اور اس کی تیاری 

 مون سون اور اس کی تیاری 
 مون سون اور اس کی تیاری 

  

 مون سون بلاشبہ نعمت خداوندی ہے جن ممالک کو یہ نعمت میسر ہے وہ خوش قسمت ہیں جب مون سون شروع ہوتا ہے تو اللہ کریم ہماری زمینوں کی پیاس بجھانے کا انتظام فرماتا ہے ہمارے ڈیم بھر جاتے ہیں دریا ندی نالے جھیلیں اس پانی کو جمع کرکے زمین کے واٹر لیول کو سہارا دیتی ہیں میرا ایک عرصہ ملائشیا، تھائی لینڈ  اور  سنگاپور میں گزرا ہے وہاں پر بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں ملائیشیا میں تین سو  دن بارش کا ریکارڈ موجود ہے وہ ممالک ا س پانی سے اپنے  ڈیم  بھر  کے اسے پن بجلی اور زراعت کے لئے استعمال کرتے ہیں ان کے کسی شہر میں پانی زیادہ دیر تک جمع نہیں ہوتا کیونکہ وہ ا پنے برساتی نالوں کی صفائی قبل از وقت کر لیتے ہیں جب کہ وطن عزیز میں بھی ہر سال ندی نالوں کی صفائی اور سیلابوں سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ ٹاسک فورس تشکیل دی جاتی ہیں، ندی نالوں کی صفائی کا انتظام بھی کیا جاتا ہے جو کہ خوش آئند عمل ہے لیکن میں اپنے آج کے کالم کے ذریعے وزیراعظم اور وزیراعلی کی توجہ ایک ایسے روہی نالے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو گزشتہ 25  سالوں سے صفائی کا منتظر ہے یہ نالہ بحریہ ٹاون، سوئی گیس سوسائٹی،اے ڈبلیو ٹی سوسائٹی،شریف میڈیکل سٹی، سلطان کے، سمال انڈسٹریل سٹیٹ سمیت بہت سی سوسائٹیوں کے سیوریج  کے اخراج کا ذریعہ ہے آج سے پچیس سال قبل سلطان کے اور بہت سے چھوٹے گاؤں اس میں اپنا پانی ڈرین کرتے تھے تب تک یہ نالہ ان آبادیوں کی واٹر ڈرینج کے لیے کافی رہا اور اس میں کبھی سیلابی صورتحال نہیں رہی لیکن گزشتہ چند سالوں میں بحریہ ٹاؤن اور دیگر سوسائٹیوں نے  اس میں اپنا سیوریج ڈال دیا ہے اس لئے اب اس روہی نالے کی صفائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اب سلطان کے اورگردونواح کے بہت سے دیہاتوں میں سیوریج بلاک ہونا معمول بن گیا ہے ہلکی سی بارش ہوتے ہی نالے اور گٹر حکومتی دعوؤں کے آگے کھڑے ہوجاتے ہیں گزشتہ دنوں ہونے والی صرف ایک دن کی بارش نے سب دیہاتوں کو پانی سے بھر دیا تھا لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے اہلکاروں کی دن رات محنت کے بعد راستے خشک  ہوئے ہیں ابھی مون سون شروع نہیں ہوا اہل علاقہ آنے والے خطرات سے پریشان ہیں اس حوالے سے میں نے اپنے قلم کے ذریعے ان کی مدد کرنے کا بیڑہ اٹھایا میں نے  اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ لاریب اسلم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کے روہی نالا اور گاؤں کے بند سیور کو بحال کرنے  میں مدد کریں گے لیکن پھر انہوں نے دوبارہ فون اٹھانا مناسب نہیں سمجھا  میں نے واسا کے ایم ڈی غفران صاحب کو فون کیا جن  کے بعد ڈائریکٹر وا سا  سلیم اشرف صاحب، ڈپٹی ڈائریکٹر فضیلہ انجم صاحبہ کو فون کیا جب سارے فون ہی بے سود نظر آئے تو میں نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کا رخ کیا۔ ڈائریکٹر ایریگیشن ڈاکٹر ریاض ،سیکرٹری ایریگیشن  شہریار سلطان ، چیف انجینئر راشد عزیز اور ان کے بعد چیف انجینئر لاہور حبیب اللہ بودلا کو فون کیا اور جب یہ تمام فون بھی بے سود نظر آنے لگے تو میں نے وزیراعلی کے آفس میں فون کیا جہاں پر یاسر صاحب سے میری بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے میں نے تمام گزارشات پیش کیں اور وزیر اعلی جناب حمزہ شہباز صاحب  سے ملاقات کے لئے وقت لیا لیکن اس وقت وزیر اعلیٰ عدالتی حکم کی زد میں ہیں اس لئے میری کوشش رہے گی کہ عید کے بعد جب وہ دوبارہ سے وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائیں گے تو میں خود ان سے ملنے جاؤں اور اس ملاقات کا ایجنڈا صرف سلطان کے ہوگا مجھے یقین ہے کہ انشاء  اللہ وہاں   تک پہنچتے ہی سلطان کے مسائل حل ہو جائیں گے لیکن اگر پھر بھی کوئی گنجائش نظر آئی تو میں وزیراعظم صاحب سے ملنے کی بھرپور کوشش کروں گا پاکستان شاہد  دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بارشوں کے موسم میں ہم ڈوب جاتے ہیں اور مون سون کے بعد خشک سالی اپنے ڈیرے جما لیتی ہے، اگر ہم مون سون  سے پہلے حکمت عملی کو کاغذ کے ٹکڑوں سے نکال کر ”آن گراؤنڈ“ لے آئیں تو مجھے یقین ہے کہ مون سون کی وجہ سے پیدا ہونے والے بہت سے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔ کافی تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوا ہوں کہ روہی نالوں کی صفائی کی ذمہ داری دراصل محکمہ ایریگیشن کی  ہے۔ اب انشاء اللہ محکمہ ایریگیشن سے مسلسل رابطے میں رہو ں گا اور تب تک ان سے گزارشات کرتا رہوں گا جب تک اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر د یا جاتا اب بات کرتے ہیں روہی نالہ کی صفائی پر آنے والے اخراجات کی اس کا حل یہ ہے کہ اگر حکومت کے پاس اس وقت بجٹ موجود نہیں ہے تو وہ بحریہ ٹاون، لاہور سٹی، اے ڈبلیو ٹی سوسائٹی،بیکن ہاؤس سوسائٹی اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹ سے  فنڈ ز لے کر روہی نالے کی صفائی کروا سکتی ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ انہی لوگوں نے ان زمینوں کو سستے داموں خرید کر اربوں روپے کمائے ہیں اگر یہ لوگ ان اربوں میں سے چند لاکھ روہی نالوں کی صفائی پر خرچ کر بھی دیں گے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتاجناب وزیراعظم جس طرح آپ نے میرے سابقہ کالموں کو عزت بخشی جن میں سرکاری اخراجات میں کمی، سولر کی قیمتوں میں کمی اور تمام سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے احکامات صادر فرمائے ہیں میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ جب میرا یہ درخواست نما کالم آپ  تک پہنچے گا تو آپ اس پر بھی نظرکرم فرماتے ہوئے اور اس پر عملدرآمد کا  حکمنامہ جاری فرما دیں گے  اس سے  ہمارے علاقے کا بھلا ہو جائے گا اور مون سون کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی انشاء  اللہ۔!

مزید :

رائے -کالم -