فکسڈ ٹیکس سسٹم

فکسڈ ٹیکس سسٹم

میاں محمد نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بن کر ایک نئی تاریخ رقم کر چکے ہیں، لیکن اِس بار حالات اُن کے گزشتہ دونوں ادوار سے قطعاً مختلف ہیں،کیونکہ ملک کو بہت سے معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بجلی اور گیس کا سنگین بحران ہے،ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ہے، جبکہ سرمایہ کاری بہت کم ہے۔ ظاہر ہے اپنے امور مملکت چلانے کے لئے حکومت کو دولت کی ضرورت تو شدت سے ہو گی، لیکن قومی خزانہ تقریباً خالی ہو چکا ہے، اِس مسئلے سے نمٹنے کا سب سے بہترین حل یہ ہے کہ حکومت اپنے محاصل بڑھائے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو لوگ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں، اُن کو ہی مزید نچوڑا جائے، بلکہ اس کے لئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے اُن لوگوں سے ٹیکس وصول کرنا ہو گا، جو آمدن ہونے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کر رہے اور اس کا خمیازہ موجودہ ٹیکس دہندگان کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جب تک تمام صاحب حیثیت افراد سے بلا امتیاز ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا، تب تک رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں آنے کے رجحان کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔

انکم ٹیکس کا جو نظام پاکستان میں رائج ہے، وہ دُنیا بھر میں فرسودہ ہو چکا ہے اور اس کی جگہ فکسڈ ٹیکس نے لے لی ہے۔ موجودہ حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشی بحالی کے چیلنج سے نمٹ سکے۔ یہ ایک فطری چیز ہے کہ جب کوئی انسان ترقی و خوشحالی کی طرف قدم بڑھاتا ہے، تو سب سے پہلے وہ اپنے رہن سہن اور خاندان کی حالت درست کرنے پر اخراجات کرتا ہے، مثلاً ذاتی سواری، گھر اور ایئر کنڈیشنر وغیرہ جیسی سہولتوں کا حصول، جن سے اُس کی مالی حیثیت کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو650 سی سے لے کر 5000 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، آٹھ مرلے سے لے کر بہت بڑی لگژری گھروں میں ر ہائش پذیر ہیں، جن کے بچے ایسے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، جن کی ماہوار فیس2000روپے سے زائد ہے۔

ایسے افراد کا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور نادرا سے ریکارڈ حاصل کر کے انہیں فکسڈ ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ معیشت کو استحکام دینے کے لئے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ ملک کے تمام صاحب حیثیت ٹیکس ادا کریں۔ بدلے میں حکومت کو چاہئے کہ اُن کو مختلف مراعات دے، جس سے مزید لوگ خودبخود ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔ میری تجویز ہے کہ کُل ادا شدہ رقم کے ساتھ مزید تین صفر لگا کر اس رقم کو وائٹ منی تصور کیا جائے، جس کے تحت اثاثے ظاہر کئے جا سکیں۔ اچھے ٹیکس دہندگان کو وی آئی پی کارڈ جاری کئے جائیں، جس کے تحت وہ انٹرنیشنل سفری سہولتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ انہیں زکوٰة کمیٹیوں، ثالثی کمیٹیوں، تعلیمی اداروں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں نمائندگی دی جائے۔ 650 سے1000سی سی تک کی گاڑیوں کی ویلیو پر پہلے چارسال تک5فیصد اور اس کے بعد ہر سال پوری قیمت پر10فیصد ڈیپریسی ایشن دی جائے۔ اگلے تین سال کے لئے3فیصد ویلیو کا ٹیکس10فیصد ڈیپریسی ایشن پر دیا جائے گا اگلے پانچ کے لئے 0.5فیصد ویلیو کا ٹیکس 10فیصد ڈیپریسی ایشن پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس گاڑی کا مالک کوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا۔

1000سی سی سے2000سی سی تک کے گاڑی مالکان پہلے چار سال و یلیو کا ٹیکس10 فیصد اور ڈیپریسی ایشن ہر سال 7.5فیصد جائے۔ اگلے 3سال کے لئے7.5ویلیو کا ٹیکس ڈیپریسی ایشن 5فیصد کی قیمت پر دی جائے، اگلے 3سال کے لئے5فیصد ویلویز کا ٹیکس ڈیپریسی ایشن 5فیصد کی قیمت پر دیا جائے، اگلے5سال کے لئے3فیصد ویلویز کا ٹیکس، اگلے3سال کے لئے5فیصد کی قیمت پر دیا جائے، اگلے5سال کے لئے 1.5فیصد ویلوز کا ٹیکس، اگلے3سال کے لئے5فیصد کی قیمت پر دیا جائے۔2000سی سی سے3000سی سی تک کی گاڑیوں کے لئے اگلے 4سال کے لئے10فیصد ویلیو کا ٹیکس، اگلے3سال کے لئے5فیصد کی قیمت پر دیا جائے، اگلے 3سال کے لئے7.5فیصد ویلویز کا ٹیکس ڈیپریسی ایشن 4فیصد کی قیمت پر دیا جائے،اگلے5سال کے لئے 3فیصد ویلویز کا ٹیکس ڈیپریسی ایشن 4فیصد کی قیمت پر دیا جائے، اگلے5سال کے لئے2فیصد کا ٹیکس ڈیپریسی ایشن 6فیصد کی قیمت پر دیا جائے۔

65سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو ایک ہزار کی گاڑی پر ٹیکس کی چھوٹ دی جائے، اگر ان کا ذریعہ آمدن واضح ہو۔ تمام فکسڈ ٹیکس دینے والے حضرات جن کا فکس ٹیکس پہلے ہی مختلف جگہوں پر لیا جا رہا ہے، جیسے کہ بجلی کا بل، گیس کا بل، سپلائی پر ٹیکس، امورٹ پر ٹیکس کو جمع کرے فیکس ٹیکس منہا کر کے بقایا ٹیکس لیا جائے۔ یہ قانون تمام ملک میں بلاتفریق تمام شہریوں پر لاگو ہو گا، کسی کو بھی اِس سے استثنا حاصل نہیں گا، اس کو ختم کرنے کی کسی کے پاس پاور نہیں ہو گی۔ ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام کو آسان کرنا اور ٹیکسوں کی تعداد کم کرنا بھی اشد ضروری ہے، کیونکہ ان سے تنگ آ کر لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے سے گریز کرتے ہیں۔ ٹیکس اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات کم کرنا اور ون ونڈو سسٹم متعارف کروانا بھی بہت ضروری ہے، لہٰذا نئی حکومت کو فوری طور پر ٹیکس اصلاحات کا عمل شروع کر دینا چاہئے۔ ٭

مزید : کالم