دو قومی نظریہ

دو قومی نظریہ
دو قومی نظریہ

  

ہندوستان کی جنگ آزادی 1857ءمغل بادشاہ کے پرچم کے تلے مسلمانوں اور ہندو¶ں نے یکجا ہوکر لڑی تھی۔ 1920 ءتک ہندو مسلم آپس مےں شیر و شکر تھے۔ اس دور مےں قائد اعظمؒ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے طور پر پہچانے جاتے تھے، مگر1920ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے انتشار، نفاق اور نفرت و حقارت کی خوب آبیاری کی اور ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے مےں کامیاب ہوگئے۔ سر سید احمد خان شروع میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست پرچارک تھے، مگر پھر اچانک اُنہوں نے ہندوﺅں کی عددی اکثریت کا ہوا کھڑا کر دیا اور مسلمانوں کو خود اعتمادی سے محروم بنانے اور خوف و ہراس کا شکار کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ سر سید احمد خان کو اس شے کا احساس نہیں تھا کہ قوت کا دارومدار تعداد پر نہیں، بلکہ کردار اور روحانی طاقت پر ہوتا ہے۔ جنگ آزادی کے جان نثاروں کو مطعون ٹھہرانے والے بھی ہمارے ممدوح سرسید احمد خان ہی تھے۔

دور حاضر مےں ان دو قوموں کے درمیان محبت اور نفرت کے دریا ساتھ ساتھ بہہ رہے ہےں۔ کسی فرد کے مطمح نظر کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کس دریا کے کنارے پر کھڑا ہے۔ دراصل دو قومی نظریے کی ضرورت ہمےں اس وقت ہوتی ہے، جب مسلمان تکثیر مےں کمزور عنصر بن کے رہ جائیں اور ان کو ےہ خطرہ لاحق ہوجائے کہ وہ اپنے دین کا تحفظ نہیں کرپائیں گے یا پھر ان کا دین ان کا تحفظ نہیں کرسکے گا۔ پاکستان مےں غیر مسلموں کی تعداد فقط دو فیصد ہے، اس لئے اب ہم کو دو قومی نظریے کی ضرورت نہیں۔

دو قومی نظریے کے تناظر مےں دراصل بات سمجھنے کی ےہ ہے کہ مسئلہ زبان و نسل کا نہیں ہے۔ در حقیقت دو قومی نظریہ کی اصل اساس قرآن کریم مہیا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی صورت مےں دو نظریات حیات پیش کرتا ہے۔ کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے صالح درخت کی ہے، جس کی جڑیں تو زمین کی گہرائی مےں ہوں، مگر شاخیں آسمان تک پہنچی ہو اور ہمہ وقت پھل سے لدی ہوئی ہوں۔ اس کے برعکس کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے، جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا گیا ہو.... (سورئہ ابراہیم:24 تا 27).... کلمہ طیبہ (توحید، رسالت اور آخرت) پر ایمان رکھنے والے لوگ، قوم حقہ، کہلاتے ہےں، جبکہ کلمہ خبیثہ (شرک، بے حیائی اور فحاشی) کے پیروکار، قوم باطلہ، قرار دئیے جاتے ہےں۔ ان دو جماعتوں کو قرآنِ حمید حزب اللہ (المائدہ:56؛ المجادلہ:22) اور حزب الشیطان (المجادلہ:19) بھی کہتا ہے۔ دراصل دو قومی نظریہ انہی دو قوموں کے درمیان خط تقسیم ہے۔ ےہ ایسا خط ہے، جو باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے متصادم کرادیتا ہے۔ اس دو قومی نظریے کے سامنے تو وطن، زبان، جغرافیہ اور تاریخ حتیٰ کہ حسب و نسب بھی ملیا میٹ ہوجاتے ہےں، چنانچہ اس پیرائے مےں ہمےں اپنے معاشرتی حالات کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا، کیونکہ قرآنِ کریم سرکشوں کو کبھی معاف نہیں کرتا، خواہ وہ انبیاءکے قریبی رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں.... (سورہ ھود :46).... پاکستان میں دراصل مسئلہ اسلام کو کلّی طور پر اپنانے کا ہے، نہ کہ نظریہ پاکستان کی رٹ لگانے کا۔

ہمےں ےہ بھی جان لینا چاہیے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد وطن پرستی (Nationalism) پر ہے، جسے علامہ اقبالؒ مذہب کا کفن قرار دیتے ہےں۔ انسانی وحدت کا مغربی تصور مشترکہ زبان، نسل اور علاقے پر مبنی ہے، جبکہ انسانی وحدت کا اسلامی تصور ایک مشترکہ مطمح¿ نظر ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ تا دم آخر دور حاضر کے تین فتنوں وطنی قومیت (Territorial Nationalism) دین و ریاست کی دوئی (Secularism) اور دہریانہ مادہ پرستی (Atheistic Materialism) کے خلاف برسر پیکار رہے۔ ےہ تینوں فتنے ایک دوسرے سے مربوط ہےں۔ لادینیت ہی مادیت کی اساس ہے اور مادیت کا وطنی قومیت کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مادیت ہی سے غلبے کا تصور ابھرتا ہے، جو تشدد کو جنم دیتا ہے۔ ےہ مادی انداز فکر ہی تھا، جس کے باعث اللہ کی مخلوق پر پچھلی صدی مےں دو خوفناک جنگیں مسلط کی گئیں اور اب ایک تیسری عالمی جنگ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ جب مادیت زیادہ قوت پکڑتی ہے تو وطن پرستی سے نسل پرستی اور قبیلہ پرستی کی طرف سفر کرتی ہے، پھر اللہ کی زمین پر ہر طرف فساد برپا ہوجاتا ہے اور وہ عبادت گاہیں، جن مےں صبح و شام اللہ کا نام لیا جاتا ہے، تباہ و برباد ہوجاتی ہےں.... (سورة البقرہ:114)۔

جنگ و جدل سے مغلوب یورپ کے مقتدر دانشور اور مو¿رخ آرنلڈ ٹائن بی (Arnold Toynbee ) نے 1952ء مےں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ مغربی وطن پرستی کی روایت عالم اسلام کے لئے ایک مشتبہ نعمت ہے۔ ان کے خیال مےں عالم اسلام کے لئے ےہ بہتر ہوتا کہ وہ مختلف مملکتوں مےں بٹ جانے کی بجائے اسلام کی اخوت پر ایک علاقائی ریاست (خلافت) کی ترویج کرتے تو ان کا یہ عمل عالمی اخوت انسانی کے قیام کی طرف ایک مثبت قدم ہوتا، جس کی جوہری اسلحہ کے اس دور مےں اشد ضرورت ہے۔ اسی پیرائے مےں علامہ اقبالؒ کی فکری کاوش اور قائد اعظمؒ کی سیاسی جدوجہد ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک خطہ ارضی حاصل کرنے تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کا مطمح نظر اس خطہ زمین کے لئے اسلام کے آفاقی نصب العین کی طرف پیش قدمی تھا، مگر پاکستان کے معرض وجود مےں آنے کے بعد اس طویل عرصے مےں اسلام کی آفاقی نصب العین کی طرف پیش رفت تو درکنار، ہم نفاذ اسلام کا مرحلہ بھی طے نہیں کرپائے۔ آج حالات اس ڈگر کو پہنچ گئے ہےں کہ ملک مےں دہشت گردی اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ مسجدیں تک محفوظ نہیں رہےں اور اسلام وحدت سازی کے اعتبار سے بے اثر ہوتا جارہا ہے۔ اگر وحدت خیز قوت کی حیثیت سے اسلام پاکستان ہی مےں بے اثر رہ گیا تو دنیا مےں انسانی اخوت کی ایک عالم گیر تحریک برپا کرنے مےں کیا کردار ادا کرسکے گا؟

کیا پاکستان اسلام کے لئے بنایا گیا تھا یا مسلمانوں کے لئے؟ کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے ہمارے بیشتر دانشور قلمکار غلط بحثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کا رویہ آرزومندانہ اور خودستائی پر مبنی ہوتا ہے، اس لئے وہ حقیقت کو پانے کی بجائے اس سے دُور ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ مسلمان اور اسلام ایک دوسرے سے جُدا نہیں ہیں۔ اگر پاکستان اسلام کے لئے بنایا گیا تھا تو بہرحال یہ مسلمانوں کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام پر لکھتے وقت جذباتی ہو جاتے ہیں۔ اسلام پر خود عمل پیرا ہوں یا نہ ہوں، اُس کو اپنے ہر دکھ، درد کا مداوا سمجھتے ہیں۔ ہمارے علمائے دین کو بھی یہ جان لینا چاہئے کہ اسلام ایک بلاوجود نظریہ نہیں ہے، بلکہ اسلام وہی ہے جو ہماری زندگیوں میں رائج ہے۔

ایک محترم قلمکار ایک طرف تو فرماتے ہیں کہ پاکستان کا مطالبہ نفاذ اسلام پر مبنی تھا تو دوسرے لمحے یہ فرمانے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ مسلم لیگی قیادت اس حوالے سے بالکل صاف ذہن نہیں تھی کہ اسلام کو پاکستان کی دستوری اور اجتماعی زندگی کی بنیاد کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کا مطالبہ مسلمانوں کے لئے تھا نہ کہ اسلام کے لئے۔ اس وقت مسلمانوں کی قیادت کے پاس نفاذ اسلام کا کوئی واضح اور مربوط نقشہ نہیں تھا۔ ہر بڑا اسلامی مفکر حضرت قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار کی روشنی میں پاکستان میں نفاذ اسلام کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش پر اصرار کرتا ہے، مگر جہاں تک مَیں جانتا ہوں، کسی نے بھی ابھی تک پاکستان میں ان اکابرین کے افکار پر مبنی نفاذ اسلام کا مربوط نقشہ پیش نہیں کیا، نہ ہی کسی نے یہ بتایا ہے کہ اسلامی عدل اجتماعی کے خدوخال کیا ہوں گے؟ پاکستان کے علماءاور دینی اکابرین 65 سال گزر جانے کے بعد یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اسلامی نظام ہے کیا؟ آج بھی اس موضوع پر کوئی محفل سجا لیں پھر دیکھیں ان کا آپس میں دست و گریبان ہونا۔ ہمارے علماءکو اس بات کا بھی شعور نہیں کہ فقہی نظام کی قانونی موشگافیاں اور ان کے پیدا کئے ہوئے مسائل یہودی طرز فکر کی نقل ہیں۔

 جہاں تک حضرت قائداعظم کا تعلق ہے تو اُن کے قریبی ساتھی امیر محمد خان راجہ محمود آباد کے مضمون ”چند یادیں“ سے یہ اقتباس قابل غور ہے: ”لمبی زندگی اور فکری پختگی سیاسی تحریکوں کے لئے بھی اتنی اہم ہے، جتنی کہ انسانوں کے لئے۔ جس تیزی اور تندہی کے ساتھ مسلم لیگ کو دس سال کے مختصر عرصہ میں پاکستان کے ہدف کی طرف بڑھنا پڑا، اس میں تنظیم کی تطہیر نہ ہو سکی۔ مسلم لیگ کو اپنی تیز رفت کامیابی کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اس کی بینڈ گاڑی پر مختلف انواع کے لوگ سوار ہو گئے ان میں سے کچھ لوگ قدامت پسند تھے، جو لیگ کے ترقی پسند پروگرام میں رکاوٹ بنے۔ پھر اس میں جاگیردار اور سرمایہ دار بھی آ گھسے، جنہوں نے قدامت پسند لوگوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔ لیگ کی تیز رفتار بینڈ گاڑی پر رجعت پسند لوگ بھی آن سوار ہوئے جن کی فکر ایام خلافت سے آگے نہ بڑھی تھی اور جن کے ذہن میں جدید ریاست کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ایک گروہ یونیورسٹی لیکچررز کا بھی تھا جو پاکستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا خواہاں تھا۔ مَیں (راجہ محمودآباد) بھی اس گروہ سے متاثر تھا۔ مَیں نے اس سوچ کو اپنی تقاریر میں زور و شور کے ساتھ اجاگر کرنا شروع کر دیا۔ قائداعظمؒ نے لیگ کے پلیٹ فارم سے ان خیالات کے ابلاغ کو پسند نہ فرمایا اور مجھے اس قسم کی تقاریر سے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ مجھے ان خیالات کے اظہار میں قائداعظمؒ کی تائید حاصل ہے۔ میں خیالات کے اس اختلاف کی وجہ سے قائداعظمؒ سے دور ہوتا چلا گیا، مگر اب جب میں پیچھے کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی غلطی کا شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے“۔

یہ بات کہ پاکستان بنایا ہی اسلامی نظام کے قیام کے لئے تھا، تاریخی طور پر مصدق نہیں ہے۔ ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ مسلم لیگ کا پالیسی بیان نہیں تھا، بلکہ اس زمانے میں سیالکوٹ کے ایک غیر معروف شاعر‘ اصغر سودائی کی ایک طویل نظم کا ٹیپ کا مصرعہ تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے جب حضرت قائداعظمؒ سے پوچھا گیا کہ آپ کے نئے ملک میں اسلام کا نقشہ کیا ہو گا؟ تو اس کے باوجود کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں، حریت، اخوت اور مساوات سے کماحقہ آشنا تھے، انہوں نے فرمایا کہ مَیں نے تو آپ کو مسجد کے لئے جگہ لے دی ہے، اب قیام پاکستان کے بعد اس کا فیصلہ آپ خود کریں کہ مسجد کا طرز تعمیر کیا ہو گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قائداعظمؒ نے پاکستان کو ہمیشہ مسلمانوں کی ریاست کہا نہ کہ اسلامی ریاست۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت بھی اسلامی ریاست کی نہیں، کامیاب ریاست کی خواہاں ہے۔ ویسے بھی ایک کامیاب ریاست بنائے بغیر اسلامی ریاست نہیں بن پائے گی۔ ٭

مزید : کالم