گزرا دور اچھا تھا؟

گزرا دور اچھا تھا؟
گزرا دور اچھا تھا؟

  

موجودہ سے پہلی اور اِس سے بھی پہلی نسل کے حضرات بات کریں تو اپنے اپنے دور کو یاد کر کے کہتے ہیں، زمانہ اچھا تھا۔ یہ دوست یاد ماضی عذاب ہے یا رب کے مصداق دل ہی جلاتے ہیں ورنہ آج کی نسل مست ہے اسے کیا غرض کہ اُن کے اجداد کا دور کیسا تھا وہ تو یہ جانتے ہیں کہ آج موبائل، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کا زمانہ ہے۔ ٹویٹر اور فیس بُک کا دور ہے بلکہ اب تو الیکٹرانک میڈیا والے بھی چیخ اُٹھے ہیں کہ یہ جو سوشل میڈیا کا نیا رجحان آیا ہے یہ بہت زیادہ بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ ایک طرف تو یہ معاشرتی اقدارکو مجروح کرتا چلا جا رہا ہے تو دوسری طرف سیاست میں دخیل ہو کر گالی گلوچ اور زبان درازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اب تو معزز اینکر پرسن بھی صلواة سننے اور دھمکیاں برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور کچھ نہیں کر پاتے، ہر سیاسی جماعت اور ہر سیاسی قائد کا ایک اپنا حلقہ ہے جو کسی ہدایت کا پابند نہیں۔ وہ اپنی پسند نا پسند کے معیار پر اس مسئلہ کو پرکھتا اور پھر اس کے مطابق جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

 آج کی نوجوان نسل کے پاس اس کام کے لئے وقت ہی وقت ہے اور پھر یہ موبائل کمپنیاں کس مرض کی دوا ہیں کہ نت نئی ایجاد کرتی چلی جا ری ہیں یہ کمپنیاں اپنی سیل کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی قسم کی ”معاشی پرابلم“ کو خاطر میں لائے بغیر جدت پیدا کرتی چلی جا رہی ہیں اب تو دُنیا سمٹ کر ایک موبائل فون میں آ گئی ہے اور ہماری آج کی نسل کانوں میں ہیڈ فون لگائے چلتے پھرتے فیس بُک اور ٹویٹر سے کھیلتی رہتی ہے۔ مانا کہ یہ مفید ایجادات ہیں، لیکن یہ معاشرے کی اخلاقیات پر کس طرح حملہ آور ہوں گی، اس کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جاتا۔ اب یہی دیکھئے کہ اس سہولت سے کاروباری حضرات اور دانشور اپنے اپنے انداز میں مستفید ہوتے ہیں، لیکن اُن کی تعداد کتنی ہے اور جو نوجوان اس سہولت کا غلط استعمال کرتے ہیں وہ کتنی تعداد میں ہیں۔

 بلاشبہ دوسرے درجہ والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے بلکہ جمہوری زبان میں کہا جائے تو ان کی بہت بھاری اکثریت ہے اور یہ غلط استعمال کئی قسم کی سمااجی برائیوں کا بھی ذریعہ بن رہا ہے۔ کیا اِس سلسلے میں کچھ کیا جا سکتا ہے کیا نوجوانوں کے رجحان کو فضولیات سے ہٹا کر ترقی اور اچھائی کی طرف لایا جا سکتا ہے؟ یہی بڑا مسئلہ ہے اور آج کے دور میں اسے حل ہونا چاہئے، ورنہ ہماری آئندہ نسلیں بھی حالات سے دوچار ہو کر شکست تسلیم کر کے بیٹھ جائیں گی اور اس روش پر چل نکلیں گی۔ معاشرتی اقدار کے حوالے سے ہم اپنے لڑکپن کی مثال دیتے ہیں جب لڑکے گلی میں کھیلتے اور کسی بزرگ کے آنے کی اطلاع ملتی تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ جاتے تھے، ہمارے محلے میں بسا پہلوان ہوتے تھے ہم جب سکول میں پڑھتے تھے تو محلے میں کھیلنے کا وقت بھی مل جاتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کھیل ہو رہا ہے اور کسی طرف سے بسا پہلوان کے آنے کی خبر ملی اور وہ آ گئے تو سبھی لڑکے سر پر پاﺅں رکھ کر بھاگتے اور گم ہو جاتے۔

اس محلے سے چلے آنے کے کئی سال بعد کا ذکر ہے، ہم کسی کام سے آبائی محلے گئے تو گلی میں بسا پہلوان سے بھی ملاقات ہو گی تو لاٹھی ٹیکتے ہوئے چلے آ رہے تھے، ہم نے رُک کر انہیں مودب طریقے سے سلام کیا، جواب تو انہوں نے دے دیا لیکن شناخت میں ذرا دقت ہوئی اور پہچان لینے کے بعد ہمارے والد صاحب، والدہ صاحبہ اور دوسرے لوگوں کی خیریت دریافت کی، حالت کے مطابق بتا دیا پھر ہم نے اُن کے بارے میں دریافت کیا تو وہ بہت دُکھی تھے، کہنے لگے، بیٹا! پہلا دور اچھا تھا۔ تم سب ادب کرتے تھے اور ہم بھی بزرگی کا فائدہ اُٹھا کر تمہیں بُرے کاموں سے روکتے تھے، لیکن اب صورت حال بالکل تبدیل ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ نوجوان ادب کرنا تو کجا، وہ تو تنگ کرتے ہیں اور شرارت سے ہماری چھڑی کھینچ کر چھپا دیتے ہیں۔

یہ ایک معمولی سی مثال ہے۔ ایسا ہمارے چاروں طرف ہو رہا ہے، جہاں پچھلی نسل بدنام اور نئے دور کے انسان بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ماحول میڈیا میں بھی بن چکا ہے جہاں اب تجربے اور بزرگی کی کوئی قدر نہیں کی جاتی، آج کا نوجوان اپنے اندر خود ہی ماسٹر (آقا) ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر یا تہذیب میں بھی تبدیلی ہو گئی ہے اب اصول پیچھے رہ گئے ہیں اور ذاتیات سامنے آ گئی ہیں، چنانچہ ہر کام ذاتی مفاد ہی کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ عہدوں کی تبدیلی سیاسی وفاداریاں بدلنا اور ایسی ہی دوسری تبدیلیاں عام ہیں۔ اب یہی دیکھئے ہمارے پیارے مولانا فضل الرحمن کی شوریٰ نے فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں دے دیا، کہنے کو وہ کہتے ہیں کہ حمایت غیر مشروط ہے کوئی مطالبہ نہیں، مگر حقیقت کیا ہے وہ یہ ہے کہ مولانا کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ، دو وزارتیں اور مولانا شیرانی کو اگلی مدت کے لئے بھی اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بنوانا چاہتے ہیں۔ حکومت رضا مند نظر نہیں آتی۔ فی الحال تو یہ مطالبات سردخانے کی نذر ہو گئے، صرف ایک وزارت اور ایک کمیٹی کی چیئرمین شپ کا عندیہ دیا ہے۔ بہرحال وہ جانیں اور مسلم لیگ(ن) والے جانیں۔

ہمارے اپنے پیشے میں لکھنے والے اس لکیر کو پھلانگ گئے ہوئے ہیں اور اپنے سینئرز کے بارے میں گستاخانہ تحریر بھی لکھ جاتے ہیں۔ کیا ایسا جان بوجھ کر تو نہیں کیا جا رہا؟ یہ سوچنے کی بات ہے ہم تو خود پرانے دور کے بندے ہیں اِس لئے اپنے سے بڑے اور سینئر کا لحاظ اور ادب کرتے ہیں، لیکن نئی نسل سے توقعات نہ باندھ لینا اور نہ ہی ان سے دوری پیدا کرنا، توازن سے رہے تو شاید کوئی مسئلہ نہ بنے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کئی دوست اِس بات پر ناخوش ہوئے کہ ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں جہانگیر بدر کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کیا۔ یہ دوست پارٹی میں اُن کے مخالف ہیں، ہماری گزارش یہ ہے کہ ہم نے حمایت نہیں کی، حقیقت بیان کی ہے۔ ٭

مزید : کالم