پنجاب کو دنیا بھر میں مثالی صوبہ بنانے کا عزم

پنجاب کو دنیا بھر میں مثالی صوبہ بنانے کا عزم

محمد شہباز شریف نے تیسری بار پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں پنجاب کو دُنیا بھر میں مثالی صوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کی تمام اچھی تجاویز پر عمل کرنے کا یقین بھی دلایا اور کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کریں گے۔ ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی کے مالکان کو شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل دیں گے۔2014ءتک پورے صوبے میں لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے پٹوار کلچر کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ صوبے کے چھتیس اضلاع میں موجود فالتو زمین کو سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوںاور کھیل کے میدانوں کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ مستحق افراد کے لئے ہیلتھ کارڈ انشورنس کا اجراءکیا جائے گا۔پورے صوبے میں آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کا جال بچھا دیا جائے گا۔اب کام کا وقت ہے ۔ بجلی چوری روکنے کے لئے ہر اقدام کیا جائے گا۔سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔نندی پوراور چیچو کی ملیاں کے پلانٹس پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے گا، جس سے ساڑھے چار سو میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔پنجاب کی ساڑھے سات سو میگاواٹ بجلی آج بھی باہر جارہی ہے اس کے لئے بھی بات کی جائے گی۔تعلیم کے میدان میں کوششیں بڑھائیں گے،کچہریوں اور تھانوں میں انصاف بکتا ہے۔صوبے میں تھانہ کچہری کلچر کو بدلیں گے، کچہری میں انصاف کے لئے چیف جسٹس ہائی کورٹ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ سرمایہ کاری کے لئے انڈسٹریل اور اکنامک پالیسی آئے گی۔سعودی عرب، چین اور ترکی کے ساتھ تعلقات بڑھائے جائیںگے۔وزیر اعلی سے لے کر نیچے تک حکومتی عہدیدار مکمل سادگی اختیار کریں گے۔کوئی وزیر مشیر نیا فرنیچر نہیں خریدے گا۔اطلاعات تک رسائی کا بل لایا جائے گا جس کے بعد تمام اخراجات کی معلومات ویب سائٹ پر ڈال دی جائیں گی۔کوئی بھی شخص ان اخراجات کے متعلق پوچھ سکے گا۔

محمد شہباز شریف کی طرف سے پنجاب کو دنیا بھر میں مثالی صوبہ بنانے کا عزم لائق صد تحسین ہے۔ پنجاب اپنے زرعی اور معدنی وسائل ، سندھ ، جہلم اور چناب جیسے دریاﺅں ساز گار موسموںکی نعمت اور اپنے بے حد محنتی اور باصلاحیت لوگوں کی وجہ سے دُنیا بھر میں بے مثل خطہ ہے ،جس کے کاشتکاروں نے بار کے علاقے کے بعدتھل اور سندھ میں بھی جاکر زمینیں آباد کیں ، افریقی ممالک کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ میں زرعی فارم قائم کئے ۔ دُنیا کی بہترین افواج کے علاوہ بہترین سائنس دان ، انجینئرز اور ڈاکٹرز پیدا کئے۔ پنجاب کی سرزمین کوئلے ، نمک ، جپسم، سونے اور تانبے کے علاوہ تیل اور گیس کے قدرتی ڈخائر سے بھی مالا مال ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبے ہونے کی حیثیت سے اس کے لوگ پاکستان بھر کے عوام کے لئے محبت و یگانگت کے جذبات رکھتے ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یہ صوبہ جناب شہباز شریف کی اچھی حکومت کاری کے فیوض و برکات سے مستفیض ہو چکا ہے۔ نئے سرے سے حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے ملک اور صوبے کو درپیش مسائل کے ذکر کے ساتھ اپنے تازہ عزائم کااظہار کیا ہے۔ اگر انہیں اپنے سیاسی ساتھیوں اور بیوروکریسی کا تعاون حاصل رہا تو پنجاب کو دنیا بھر میں مثالی صوبہ بنانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

پنجاب میں نہ صرف زراعت بلکہ صنعت کے میدان میں بھی جتنا ”پوٹینشل“ موجود ہے وہ پاکستان کے کسی دوسرے خطے میں نہیں ۔ اس کے پاس لاہور کے علاوہ فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، وزیرآباداور ملتان جیسے صنعتی شہر ہیں جو اپنی مصنوعات کے لئے دنیا میں ایک ساکھ اور مقام رکھتے ہیں۔ پنجاب دُنیا بھر میں اپنے کھیلوں کے سامان، آلات جراحی، ٹیکسٹائل اور ہوزری کے لئے اپنا جواب نہیں رکھتا۔ ہم دنیا میں بہترین کینو پیدا کرکے اس سے زرمبادلہ کماتے ہیں۔ اس کا باسمتی دُنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ پنجاب کے بہترین خوش ذائقہ آم چونسا اور انور رٹول کی دنیا میں دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔حکومتیںاپنی ذمہ داری پوری کریں تو ہم ہر سال لاکھوں نہیں کروڑوں ٹن چاول ، گندم پھل اورسبزیاں دنیا کو برآمد کرسکتے ہیں۔

 محمد شہباز شریف کی یہ عالی ظرفی ہے کہ انہوں نے اپنے گزشتہ دور حکومت کے باوجود صوبے کے انتظامی اور دوسرے بہت سے امور کی کمزوریوں اور عوام کو درپیش بعض سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ بجلی اور گیس بحران کے لئے ان کی حکومت یقینا ذمہ دار نہیں تھی ، اِسی کی وجہ سے پیداوار میں کمی اور بے روزگاری اور مہنگائی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ تاہم کچہری اور تھانے کے مسائل ایسے تھے جن کے سلسلے میں صوبائی حکومت بہت کچھ کر سکتی تھی۔ اکیلے لاہور شہر میں پہلے بھی عام شہری چوروں اور ڈاکوﺅں کے ہاتھوں روزانہ کروڑوں روپے کی نقدی اور قیمتی اشیاءسے محروم ہوتے رہے ہیں اور اب بھی صوبے بھر میں لٹ رہے ہیں۔ کرپشن کے ناسور کا بھی کوئی علاج نہیں کیا جاسکا۔ یہ درست ہے کہ اوپر سے پوری کوشش کی گئی کہ تمام اہم عہدوں پر دیانتدار اور اہل افسروں کو میرٹ پر مقررکیا جائے لیکن کرپشن کے ہر طرف بہنے والے سیلاب نے اس کے باوجود ہر محکمے اور ادارے کو متاثر کیا ، جس سے عوام کے مسائل میں اور بھی اضافہ ہوا۔ قبضہ گروپ بھی صوبے میں سرگر م رہے ہیں اور بعض محکموں کے ریکارڈز میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرکے کروڑوں اور اربوں کی کرپشن کے ثبوت ختم کرنے کے سیکنڈل بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ عام آدمی کو کچہری ، تھانے میں جس ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انصاف کا حصول ایک عام شہری کے لئے جس طرح تقریبا ناممکن ہو چکا ہے اس کے احسا س کا خود وزیر اعلی نے بھی اظہار کیا۔

پنجاب کے عوام گزشتہ صوبائی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے یہاں وہ حالت نہیں ہونے دی جو دوسرے صوبوں میں تھی۔ تاہم تازہ ولولوں اور امنگوں کے ساتھ میدان میں اترتے وقت وزیراعلیٰ شہباز شریف کو چاہئے کہ وہ اپنے صوبے کا پاکستان کے دوسرے صوبوں سے موازنہ کرنے سے زیادہ اس کا موازنہ مشرقی پنجاب سے بھی کریں جو اپنی زرعی معیشت اور موسموں کی بنا پر ہم سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ اس بھارتی صوبے میں فی ایکڑ پیداوار ہماری فی ایکڑ پیداوار سے کئی صورتوں میں تقریباً دو گنا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں زمینداروں کو اپنے ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی حکومت کی طرف سے مفت یا کم قیمت پر مہیا کی جاتی ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ کسانوں کو کھاد، کیڑے مار ادویہ اور پراسسڈ بیج ان کی دہلیز پر حکومت کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں،جن کی قیمت فصل آنے کے بعد وصول کی جاتی ہے۔ ضرورت کے وقت فصلوں پر ادویہ کے سپرے کا انتظام ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حکومت کرتی ہے، اس کا معاوضہ کسانوں سے فصل آنے کے بعد وصول کرلیا جاتا ہے۔ جدید زرعی تحقیق سے فائدہ اُٹھانے کے لئے مشرقی پنجاب کی حکومت مستعد رہتی ہے اور کسانوں کو ماہرین کے مشورے اور ضروری ہدایات پہنچانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتی جاتی۔ ہمارے ہاں بجلی کے موجودہ بحران کی صورت میں کسانوں کو ٹیوب ویلوں کی بجلی مفت فراہم کرنا ممکن نہیں ، جس کے پیش نظر جناب وزیراعلیٰ نے کسانوں کو سولر انرجی کے ٹیوب ویلوں کی فراہمی کا مدبرانہ فیصلہ کیا ہے۔ کسی وقت ان کی حکومت کی طرف سے زمینداروں اورکسانوں کو ملاوٹ والی اور جعلی کیڑے مار ادویہ فراہم کرنے والوں کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی اور کھاد کی فراہمی کو درست کیا گیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے تھے۔ امید ہے زراعت کے میدان میں اب بھی ایسے تمام ضروری اقدامات کے ذریعے زرعی مسائل کو حل کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ خوراک اور دوسری ہر طرح کی اشیائے ضرو رت میں ملاوٹ کا مسئلہ بھی اپنی جگہ سنگین صورت حال اختیار کئے ہوئے ہے۔ جس سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ذمہ دار محکموں کی طرف سے صرف اپنے بھتے وصول کرنے پر توجہ دی جاتی ہے ، رشوت نہ دینے والوں کے صحیح مال کو بھی غلط قرار دینے کا ہتھکنڈا ہر جگہ استعمال ہو رہا ہے۔ صحت عامہ کے کسی بھی طرح کے دوسرے انتظامات سے پہلے عوام الناس کے لئے ملاوٹ سے پاک اشیائے خوردو نوش کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

لینڈ ریکارد مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے پٹوار کلچر ختم کرنے کے ساتھ ہی ساتھ کچہری تھانے کے موجودہ کلچر کو ختم کرنے کا آغاز بھی کیا جاسکتا ہے، جس کے بغیر نہ تو عام آدمی اس ملک میں انصاف کے حصول کی سوچ سکتا ہے نہ کسی غریب اور بے وسیلہ انسان کی عزت نفس محفوظ رہ سکتی ہے۔ حاکموں کے ذہن میں یہ بات ہر صورت رہنی چاہئے کہ اس ملک کے عوام کی بھاری اکثریت ایسے ہی غریب اور بے وسیلہ لوگوں کی ہے، جو رزق حلال کمانے کے لئے سخت محنت اور کوشش کے باوجو د معاشرے میں عزت اور تحفظ سے محروم ہیں ۔ان سب کی عزت نفس محفوظ کئے بغیر ہم پاکستان کے لئے کچھ کرنے کے جو دعوے بھی کریں گے انہیں بے کار باتیں اور حقائق سے نظریں چرانے کا نام ہی دیا جائے گا۔ جناب وزیراعلیٰ نے کچہری سے عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کے لئے چیف جسٹس سے مشورہ کرنے کی بات کی ہے، جبکہ اس سلسلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جوڈیشل ریفارمز، مزید اسامیاں تخلیق کرنے اور وسائل مہیاکرنے کے لئے حکومت کو رپورٹ اور ڈیمانڈ کافی عرصہ قبل دی جاچکی ہے، جس کی باز گشت سپریم کورٹ کے بعض سیشنز میں سنی جاتی رہی ہے، لیکن سابق حکومت نے اس رپورٹ پر کوئی توجہ نہیں دی ، موجودہ حکومت کسی نئی مشاورت کا سلسلہ شروع کرنے کے بجائے انہی پرانی رپورٹوں پر عمل درآمد کرکے سستے اور فوری انصاف کے سلسلے میں اہم پیش رفت کرسکتی ہے۔

انصاف کی فراہمی، موجودہ پٹوار اور کچہری تھانہ کلچر کا خاتمہ ہی دراصل پنجاب کو دُنیا بھر میں مثالی صوبہ بنائے گا۔ عزت نفس کے تحفظ کے ساتھ ہر کسی کو انصاف ملنے لگے تو لوگ ہر قسم کے معاشی مسائل کا بخوشی سامنا کرلیتے ہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے نئے دور کا آغاز اصل مسائل کے حقیقت پسندانہ احساس اور ان کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کے عزم کے ساتھ کررہے ہیں۔ ٭

مزید : اداریہ