متحدہ کی دھمکی یا دل کی آواز،71ءجیسے حالات کا ذکر؟

متحدہ کی دھمکی یا دل کی آواز،71ءجیسے حالات کا ذکر؟
متحدہ کی دھمکی یا دل کی آواز،71ءجیسے حالات کا ذکر؟

  

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب حیدر آباد میں بھی یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور یوں مفادات کی ایک نئی لہر کا شدید خدشہ ہے جو نئی حکومت کے لئے کسی بھی طرح اچھا نہیں۔ حکومت سندھ کو اس پر بھرپور توجہ دینا ہو گی، صوبائی حکومت کو یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ وفاق میں اب ان کی حلیف نہیں حریف حکومت ہے اور احسن اقبال یہ فرماتے ہیں کہ سندھ حکومت کو امن و امان بحال کرنا ہو گا، اپنی ٹیلیویژن گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا۔ ورنہ پھر انجام بھگتنا ہو گا“ یہ ایک متوقع وفاقی وزیر کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے تو اسی سے صورتحال کا اندازہ لگا لینا چاہئے سید قائم علی شاہ کو ادھر پوری اور مکمل توجہ مبذول کرنا ہو گی۔ اب سندھ میں مخلوط نہیں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور وفاق کی سطح پر ہزیمت کے بعد پیپلزپارٹی کو اپنے وجود کو بھی برقرار رکھنا ہے اس لئے اس کے اختیار میں جو کچھ ہے اسے کر گزرنا چاہئے یوں بھی 18ویں ترمیم کی رو سے صوبائی حکومت پر ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ ہے۔

جہاں تک کراچی اور پھر حیدر آباد میں ہونے والی اموات کا تعلق ہے تو یہ بہت افسوسناک ہیں اس پر کوئی بھی خوش نہیں ہو سکتا۔ کراچی ایک طویل عرصہ سے آگ میں جل رہا ہے۔ یہاں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔ حالانکہ امن و امان کے محافظ حضرات کی طرف سے ہر روز ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ ابھی تک گرفتار ہونے والے کسی بھی ایسے ملزم کو مجاز عدالت سے سزا نہیں ہوئی۔ یہ بھی درست ہے کہ کراچی اور پھر حیدر آباد میں یہ کوئی پہلی وارداتیں نہیں ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مرنے والوں میں بھی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں۔ خود پیپلزپارٹی کے لوگ مرے، اے این پی والوں کو بھی یہی صدمے سہنا پڑے، بلکہ سنی جماعت بھی نشانہ بنی اس لئے اس کارروائی کو اس تناظر میں پیش کرنا کہ یہ سب متحدہ کے خلاف ایک سازش ہے درست نہیں ہے۔

متحدہ کی نئی رابطہ کمیٹی نے بدھ کو کی جانے والی پریس کانفرنس میں دکھ کا اظہار کیا وہ واجب لیکن ساتھ ہی بہت سنجیدہ لہجے میں ایک انتہائی خطرناک بات کہہ دی گئی ہے۔ اس پر لوگ اپنے اپنے مخصوص رنگ میں بات کر رہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کی طرف سے کہا گیا کہ متحدہ کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ شروع ہے اور یہ نہ بھولا جائے کہ 1971ءمیں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے تھے۔ اس سے پہلے الطاف حسین نے بھی اپنے خطاب میں اسی طرح کہا اگر کسی کو متحدہ پسند نہیں تو وہ پھر کراچی کو پاکستان سے الگ کر دے یہ تنازع ختم نہیں ہوا ٹھنڈا پڑا ہے کہ اب رابطہ کمیٹی نے کہا دیوار کے ساتھ لگایا تو 1971ءجیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جتایا گیا کہ کراچی، حیدر آباد اور پورے سندھ میں ایم کیو ایم کے لوگ موجود ہیں۔

متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے براہ راست پیپلزپارٹی پر الزام نہیں لگایا تاہم ملوث کر لیا ہے وہ کہتے ہیں کہا ن کے ہمدردوں کو لیاری کی پیپلزپارٹی امن کمیٹی کے بھتہ خوروں نے قتل کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ حلف لینے کے بعد قائد اعظم کے مزار پر تو نہیں گئے لیاری چلے گئے، حالانکہ ٹیلیویژن اور اخبارات کی شہادت موجود ہے کہ صرف وہاں گئے اور مزار پر فاتحہ خوانی کی۔الزام لگانے کا یہ طریقہ بھی درست نہیں ہے۔ ایک طرف تحقیق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف دھمکی آمیز رویہ بھی اختیار کیا گیا اور 1971ءجیسے حالات کی بات کر کے یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ ”شاید کے اتر جائے تیرے دل میں“.... بہتر یہ ہے کہ جلد ہی اس مسئلہ کو طے کر لیا جائے۔کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی بار خبردار کیا جا چکا کہ خانہ جنگی کی کیفیت بن سکتی ہے اس لئے شاہ حکومت کا پہلا کام امن و امان اور اعتماد کی بحالی کا ہے۔

مزید : تجزیہ