لیبیا میں سیاسی انتشار

لیبیا میں سیاسی انتشار
لیبیا میں سیاسی انتشار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صدر اوباما کی زیر قیادت امریکی حکومت نے چند سال قبل لیبیا میں اپوزیشن جماعتوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کر کے صدر قذافی کی حکومت کو کمزور اور غیر مستحکم کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں مخالف قوتوں نے صدر قذافی کو اکتوبر 2011ء میں قتل کر کے اُن کی حکومت ختم کر دی تھی۔ صورت حال آج تک بہتر نہ ہونے کی بنا پر وہاں کوئی سیاسی حکومت اپنے قدم مضبوطی سے نہیں جما سکی۔لیبیا کے موجودہ وزیراعظم، عبداللہ الثنی، ایک تازہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ اس حملے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اُس وقت فائرنگ کی، جب وہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد واپس جا رہے تھے۔ یاد رہے کہ موجودہ وزیراعظم، لیبیا کے کسی دیگر مقام پر اپنا سرکاری دفتر بنائے ہوئے ہیں، جبکہ سابقہ حکومت کے بڑے دفاتر، مخالف عناصر کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔ کیا او آئی سی اس مُلک کے سیاسی استحکام کے لئے کوئی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے؟

لیبیا کی حکومتی کارکردگی اور تعمیر و ترقی کے بارے میں، ماضی قریب میں کوئی اطلاعات ذرائع ابلاغ میں منظر عام پر نہیں آ رہیں اور نہ ہی بین الاقوامی سطح کے اجلاسوں اور اجتماعات میں وہاں کی کوئی سیاسی، سفارتی یا دیگر نمایاں سرگرمی پڑھنے اور سننے کا اتفاق ہوا ہے۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عرب مُلک کی معاشی حالت بھی قابلِ ذکر انداز کے معیار و مقدار سے نیچے چلی گئی ہے۔ چند روز قبل رومانیہ حکومت نے لیبیا میں مقیم اپنے باشندوں کو مُلک واپس آنے کی ہدایت کی ہے۔ اس اطلاع سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں امن و امان اور انتظامیہ کے نظم و نسق کے حالات خطرات سے اس حد تک دوچار ہیں کہ غیر ملکی اپنی جان و مال کو غیر محفوظ خیال کر کے وہاں سے انخلاء کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بدامنی، لاقانونیت اور سیاسی انتشار کی اس کیفیت میں انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبرداروں کے عموماً چوکس عہدیدار خاموش اور غافل کیوں ہیں؟

قذافی کے دورِ حکومت میں، اس مُلک کی سیاسی اور معاشی سرگرمیاں آئے روز مشرقِ وسطیٰ اور عرب ممالک میں نمایاں حیثیت اور اہمیت سے دیکھی اور شمار کی جاتی رہی ہیں، لیکن اسلام دشمن قوتوں کی سازش کاری پر مبنی مخالفانہ کارروائیوں سے لیبیا میں تعمیر و ترقی کے منصوبے مفقود ہو گئے ہیں۔ خانہ جنگی سے کوئی گروپ بھی عروج و استحکام حاصل نہیں کر سکتا، حریف قوتیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے باہمی مدد کرنے کی بجائے، انہیں مغلوب اور غیر موثر کرنے پر ہی کمربستہ ہیں۔

حقائق بالا سے عیاں ہوتا ہے کہ اسرائیلی لابی خود تو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا مقام حاصل کر چکی ہے اور اس بارے میں کوئی واضح اطلاع ظاہر کرنے سے بھی صاف انکار کر رہی ہے، لیکن امریکی انتظامیہ نے قذافی کے دورِ حکومت میں ہی لیبیا کی اس معاملے کی کچھ ابتدائی پیش رفت کو تباہ و برباد کر کے متعلقہ فنی سامان امریکہ میں کسی مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں شام کو بھی دفاعی لحاظ سے کمزور اور مفلوج کرنے کی کوششیں بڑی شدو مد اور تسلسل سے جاری ہیں۔ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کو کھلے عام پامال اور بے توقیر کیا جا رہا ہے، مسلم ممالک اور معاشروں میں انسان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی روز بروز مشکل، بلکہ ناممکن بنائی جا رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی تشکیل کا بنیادی مقصد ہی انسانی آزادی اور مختلف ممالک کی اپنی علاقائی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اگر مسلمانوں کو ہی ظلم و ستم کا ہدف بنا کر مساوی حقوق اور انصاف کے اصولوں سے محروم رکھنا ہے تو پھر اقوام متحدہ کا موجودہ ڈھانچہ جلد تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے، نیز ضرورت اس امر کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر، فلسطین، میانمار اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کو انسانی حقوق دیئے جائیں۔

مزید : کالم