کیا کمال کا بجٹ پیش کیا

کیا کمال کا بجٹ پیش کیا
کیا کمال کا بجٹ پیش کیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ اتنا حیرت انگیز پیش کیا ہے کہ مخالفین بھی حیران رہ گئے ہیں، مخالفین کو پوری توقع تھی کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نئے سال کے مالیاتی بل میں دو تین ایسی غلطیاں ضرور کریں گے کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانے میں آسانی ہو جائے گی، پھر بیان جاری کئے جا سکیں گے کہ بجٹ پر عوام سراپا احتجاج بن گئے، لیکن ماننا پڑے گا کہ تجربات نے نواز شریف اور ان کے رفقا کو باشعور اور عوام شناس بنا دیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ حکومت جو کچھ مالیاتی بل میں کرنا چاہتی تھی، وہ سب کچھ کھل کر کیا ہے، لیکن مخالفوں کو بھی یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ:

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

مجموعی طور پر فیڈریشن سے لے کر چیمبرز تک اور ایسوسی ایشنوں سے لے کر عوام کے نمائندوں تک سب نے ہی نئے مالیاتی سال کے بل کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہاں ہو سکتا ہے کہ مالیاتی بل کے لفظ سے کوئی مغالطہ پیدا ہو، اس لئے تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے کہ فی الحال وزیر خزانہ نے جو بجٹ تقریر پیش کی ہے، وہ دراصل نئے مالی سال کا مالیاتی بل ہے، کیونکہ اس میں اعداد کا گورکھ دھندا پوری طرح سے موجود ہے، اس لئے اسے بجٹ تجاویز قرار دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اب یہ بجٹ تجاویز بحث کے لئے قومی اسمبلی میں پیش ہو کر وہاں سے پاس ہوں گی، پھر سینیٹ اس پر ایک نظر ڈالے گی، یوں آخر میں مالیاتی بل پاکستان کا بجٹ بن جائے گا۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر میاں محمد ادریس کا تعلق یونائیٹڈ بزنس گروپ سے ہے، جس کے چیئرمین افتخار علی ملک اور سرپرست ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ایس ایم منیر ہیں۔ صدر محمد ادریس نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ہمارے گروپ نے اپنے طور پر اور مَیں نے فیڈریشن کی طرف سے پورے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کا دورہ کر کے بجٹ تجاویز مرتب کیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ فیڈریشن کی بیشتر تجاویز کو نئے مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنا لیا گیا ہے، جو چند تجاویز شامل نہیں کی گئیں، انہیں بھی کمیٹیوں کے حوالے کر دیا جائے گا، جو اسے قابلِ قبول بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ حکومت نے ٹیکس ریفارمز کے لئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی ہے، جس کا چیئرمین مجھے نامزد کیا گیا ہے اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت متعدد مقتدر شخصیات کو اس کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو کسی دوسری نشست میں کریں گے۔ موجودہ بجٹ پر سیر حاصل تبصرہ کرنے کے لئے بہت وقت درکار ہے، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمٹ کی طرف چل پڑی ہے، اب اسے مضبوط کرنے اور صحیح سمت کی طرف مستقل رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر میں مکمل تال میل ہو۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ محکموں کے وزراء اور سیکرٹری پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے نئے بجٹ کو بزنس دوست قرار دیا، خصوصاً سب سے زیادہ خوشی اِس بات کی ہوئی ہے کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست ایس ایم منیر وزیراعظم سے ہر ملاقات میں ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے ایک تجویز ضرور دیتے ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر میں ایکسپورٹرز کی ایک سو ارب روپے سے زیادہ رقم حکومت کے پاس پھنسی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کا ہاتھ تنگ ہو گیا ہے اور وہ کھل کر ایکسپورٹ کے آرڈر لینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایکسپورٹرز کے 110ارب روپے آئندہ تین ماہ میں پرائیویٹ سیکٹر کو واپس کرنے کا اعلان کر کے ان کے دِل جیت لئے ہیں۔ آپ دیکھئے گا کہ اگر حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا اور مجھے یقین ہے کہ اسحاق ڈار اپنا وعدہ پورا کریں گے، تو پھر موجودہ سال ایکسپورٹ اگر ڈبل نہ بھی ہو سکی تو کم از کم گزشتہ سال سے زیادہ ضرور ہو گی۔ ایکسپورٹ کے شعبے کو خاص طور پر بہتر بنانے کے لئے ایکسپورٹرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

بعض نقادوں نے اٹھارویں ترمیم کو نظر انداز کر کے وفاقی بجٹ پر تنقید شروع کر دی ہے، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم کے علاوہ ترقیاتی پروگرام کے لئے رقم فراہم کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے، پھر بھی وفاقی بجٹ کی تعریف کرنی پڑے گی کہ انہوں نے خیبرپختونخوا صوبے کو نئی صنعت کاری کے لئے ٹیکس ہالیڈے کا درجہ دے دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پسماندہ علاقوں کی معاشی ترقی کے لئے اِسی قسم کی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے صدر بش نے ROZ کے ذریعے خیبرپختونخوا کو معاشی استحکام دینے کی کوشش کی تھی، لیکن سابقہ حکومت نے اس اہم پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی، جس کی وجہ سے امریکہ نے بھی زور نہیں دیا۔ اب وفاقی بجٹ کے بعد صوبائی حکومتوں کے بجٹ تیاری کے آخری مراحل طے کر رہے ہیں، ان صوبائی بجٹوں کو دیکھ کر احساس ہو گا کہ پورا پاکستان مجموعی طور پر معاشی پٹڑی پر سفر شروع کر رہا ہے یا نہیں۔ امید تو یہی ہے کہ اب ہر صوبہ زیادہ سے زیادہ اپنے عوام کو معاشی استحکام دینے کے لئے کوشش کرے گا۔

مزید : کالم