نصراللہ خاں شجیع شہید

نصراللہ خاں شجیع شہید

2 جون کو پیارے بھائی نصراللہ خاں شجیع شہید کو ہم سے بچھڑے پورا سال گزر گیا ہے۔ اب تک مرحوم کی یادیں دل میں بسی ہیں اور یہ یادیں ہمیشہ ہمارا سرمایہ رہیں گی۔ مرحوم ایک عظیم انسان اور مخلص مسلمان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس عارضی دنیا میں مہلتِ عمل بہت کم دی، مگر اللہ کے اس نیک بندے نے اس تھوڑی سی مہلت عمل میں وہ کچھ کما لیا جوبہت سے لوگ طویل عمر پانے کے باوجود بھی نہیں حاصل کرپاتے۔ اللہ اپنے خاص بندوں کے وقت میں اتنی برکت ڈال دیتا ہے کہ ان کو عظیم مقاصد اور جلیل منازل کے حصول میں کامیابی مل جاتی ہے۔نصر اللہ خاں شجیع 1970ء میں کراچی کی آبادی حیدرآباد کالونی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نصراللہ خاں شجیع اسم بامسمّٰی تھے۔ ان کی شجاعت وجرأت کا ایک زمانہ معترف اور کراچی کے درودیوار اور کوچے وبازار شاہد ہیں۔ نصراللہ خاں شجیع نے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا۔ وہ بالکل چھوٹی عمر سے جمعیت کے پروگراموں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ وہ جمعیت کے رکن بنے اور مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کراچی جمعیت کی نظامت1996ء تا1997ء اور مرکزی شوریٰ کی رکنیت تک پہنچے۔ جامعہ کراچی ہی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اس سارے عرصے میں وہ طلبہ کے درمیان ایک ہردلعزیز شخصیت شمار ہوتے تھے۔ پرآشوب حالات میں بھی انہوں نے دعوت کا کام کبھی پسِ پشت نہ ڈالا۔ انہیں اس بات کی لگن تھی کہ ہر نوجوان ابھرتے ہوئے فتنوں کے مقابلے میں قرآن وسنت کو اپنی ڈھال بنا لے۔ مرحوم نرم دم گفتگو گرم دم جستجو کی مجسم تصویر تھے۔

اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہونے کے بعد نصراللہ خاں شجیع نے بغیر کسی تاخیر کے خود کو نظم جماعت اسلامی کے سپرد کردیا۔ جماعت میں بھی اپنی محنت، اخلاص اور لگن کی وجہ سے بہت مقبول ہوئے۔ جماعت کو بجا طور پر اس قیمتی ہیرے پر فخر ہے، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ مقامی سطح سے نظم کراچی تک ان کا تحریکی سفر تقاضا کرتا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کے احباب ان کی زندگی کے اہم واقعات کو قلم بند کریں۔ اپنی شہادت کے وقت مرحوم جماعت اسلامی حلقہ کراچی کے نائب امیر تھے۔ نصراللہ خاں شجیع جن دنوں جماعت اسلامی ضلع شرقی کے امیر تھے، ان دنوں کراچی میں بہت سے تربیتی وتنظیمی پروگراموں میں ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اپنے ضلع کے کئی مقامات پر انہوں نے پروگرام ترتیب دیے اور مجھے ان میں شرکت کی دعوت دی۔ ہر پروگرام میں وہ میرے ساتھ رہے۔ اس دوران میں نے جو بات نوٹ کی وہ یہ تھی ایک تو نصراللہ خاں شجیع اس علاقے کے بارے میں جہاں پروگرام ہوتا، جماعت کی پوری تاریخ بیان کرتے، جس سے بہت مفید معلومات حاصل ہوجاتی تھیں۔ دوسرے ہر کارکن کے ساتھ یوں اپنائیت اور محبت سے ملتے کہ ان کے حلقۂ اثر کی وسعت کا احساس ہونے لگتا۔ جماعتی قائدین کی یہی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے کہ وہ مرجع خلائق ہوں۔ وہ مختلف دوستوں کے گھروں میں بھی لے جانے کا اہتمام کرتے، جن کے ہاں کوئی وفات ہوچکی ہوتی یا کوئی حادثہ رونما ہوتا۔ ہر گھر میں جانے سے پہلے وہ تفصیلاً بیان کرتے کہ مرحوم کے کتنے بچے ہیں، کیا کیا نام ہیں، کس پیشے اور کاروبار سے متعلق ہیں، ان کا اور مرحوم کا تحریک کے ساتھ کیا تعلق تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا کہ نصراللہ خاں شجیع واقعی ایک تحریکی راہنما ہیں، جو اپنے کارکنان کے درمیان مقبول اور ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔ یہ تحریکی کام کرنے والوں کے لئے بہت ضروری صفات ہیں۔ مرحوم اپنے تمام تحریکی ساتھیوں کے بارے میں معلومات سے مالامال اور دردِ دل کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔

نصراللہ خاں شجیع ایم ایم اے کے تحت 2002ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حلقہ پی ایس 116 سے جماعت اسلامی کے امیدوار نامزد کئے گئے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کو نہایت کامیابی سے چلایا۔ کراچی سے منتخب ہونے والے ہمارے تین ممبران صوبائی اسمبلی میں جناب حمیداللہ خاں، محترم یونس بارائی اور نصراللہ خاں شجیع شامل تھے۔ نصراللہ شجیع سب سے نوعمر [32سال] ایم پی اے تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے بہت سے روابط بنائے۔ صوبائی اسمبلی میں ان کی کارکردگی بہت اچھی تھی۔ تیاری کرکے اجلاسوں میں شریک ہوتے اور اجلاسوں کے دنوں میں میڈیا پر ان کا نام آتا رہتا۔ مرکزی مجلس شوریٰ میں پہلی بار وہ 2007ء میں منتخب ہوئے۔ پھر ہرتین سال بعد رکن شوریٰ منتخب ہوتے رہے۔ یوں آخری دم تک وہ مرکزی شوریٰ کے رکن تھے۔ اس عرصے میں انہوں نے شوریٰ کے اجلاسوں میں بھی جن جن موضوعات پر اظہار خیال کیا بہت اچھے انداز اور طرز استدلال کے ساتھ اپنی بات اجلاس میں پیش کی۔ وہ اپنی باری پر بات کرتے اور دوسروں کے خطاب کے دوران بالکل خاموش بیٹھے سنتے یا نوٹس لیتے رہتے تھے۔

نصراللہ خاں شجیع پانچ سال تک رکن صوبائی اسمبلی رہنے کے باوجود کوئی دنیوی مفاد یا دولت اکٹھی نہ کرسکے۔ وہ درویش صفت انسان تھے، انہیں دولتِ دنیا کی ہوس نہ تھی۔ اپنی معاش کے لئے نصراللہ خاں شجیع نے جماعت کے تعلیمی ادارے عثمان پبلک سکول میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہ کیمپس نمبر13کے پرنسپل تھے۔ اساتذہ وطلبہ کے ساتھ ان کا رویہ بہت محبت بھرا ہوا کرتا تھا۔ وہ سب کے ساتھ شفقت اور سرپرستی کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ سکول کے بچوں کا ایک ٹرپ لے کر مئی کے آخر میں صوبہ خیبرپختونخوا کی طرف روانہ ہوئے۔ بالاکوٹ کے تاریخی قصبے میں بچوں کو وزٹ کرانے کے بعد سیروسیاحت کے لئے دریا کی طرف نکل گئے۔ دریائے کنہار کاغان کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور اس پہاڑی علاقے میں اس کا بہاؤ خاصا تیز ہوتا ہے۔ برف پگھلنے کا موسم ہونے کی وجہ سے ویسے بھی دریا جوبن پر تھا۔

اطلاعات کے مطابق نصراللہ شجیع اور طلبہ دریا پر وضو کررہے تھے کہ ایک طالب علم دریا میں گر پڑا۔ روحانی باپ سے رہا نہ گیا کہ اس کا بچہ موجوں کی نذر ہوجائے اور وہ دیکھتا رہ جائے۔ ویسے بھی مومن کے لئے اسلام کی یہ تعلیمات حرف آخر ہیں کہ ’’ماشاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن‘‘ یعنی جو اللہ چاہے وہ ہو کر رہتا ہے اور جو اللہ نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا۔ جب چھلانگ لگائی تو غالباً نیچے کوئی چٹان تھی اس سے جا ٹکرائے اور پھر پانی کی سطح پر نہ ابھر سکے۔ خبر پورے ملک میں پھیلی لیکن اعزہ واقربا کا دل یہ یقین نہیں کررہا تھا کہ وہ جواں ہمت دریا کی موجوں سے شکست کھا گیا ہے۔ یہ خیال تھا کہ یہ شجیع و وجیہہ اور شناور ودلاور نوجوان موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا کسی مقام پر دریا کے کنارے جا لگا ہوگا اور زندہ باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہوگا۔ یہ احباب کی خواہشات تھیں، مگر اللہ کی طرف سے اجل مسمیٰ آچکی تھی۔

کراچی کے معرکۂ کرب وبلا میں زندگی بھر سربکف رہنے والا، موت سے نہ ڈرنے والا، شہادت کو سعادت قرار دینے والا، اپنے شہر کی قتل گاہوں سے زندہ سلامت نکلتا رہا کیونکہ زندگی باقی تھی۔ اب مہلت ختم ہوچکی تھی، دریائے کنہار کے صاف ستھرے پانی نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ شہادت مقدر تھی ،مگر گھر سے دور! وہ کوہِ گراں کی طرح مضبوط عزم اور حوصلے کا مالک تھا۔ وہ دریا کی سی روانی کے ساتھ زندگی کی گزر گاہوں پر رواں دواں تھا۔ شہادت بھی ان بلند و بالا پہاڑوں اور اس جوئے رواں کی آغوش میں مقدر تھی۔ شاگرد بھی ابدی نیند سوگیا اور استاد بھی اس کے ساتھ ہی راہی ملک بقا ہوا۔ جانے والے چلے جاتے ہیں ان کی یادیں ہمیشہ دل میں زندہ رہتی ہیں۔ پیاروں کے دل ان کی جدائی سے چھلنی ہوجاتے ہیں، مگر ’’مرضیِ مولیٰ ازہمہ اولیٰ‘‘ جو ہمارا مالک چاہے اس سے نہ سرتابی ہوسکتی ہے، نہ دم مارنے کی کسی میں جرأت۔ بوڑھی ماں، نوجوان بیوہ اور تین معصوم بچے تو اس گھر کی چاردیواری میں جہاں رات گئے یہ مجاہد واپس پلٹا کرتا تھا، اس کے انتظار میں تھے اور اب بھی اپنے خوابوں میں اپنے پیارے کو گھر آتا دیکھتے ہوں گے۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو وہ نظر نہیں آتا۔ اس کا راستہ تکتے تکتے آنکھیں تھک جاتی ہیں، مگر جو رات گئے آجایا کرتا تھا اب وہ نہیں آئے گا۔ ہاں ہم سب کو اس کے پاس چلے جانا ہے۔ نصر اللہ خان شجیع عالمِ جوانی میں داغِ مفارقت دے گیا ہے۔ پاکستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں جہاں جہاں ہمارے احباب مقیم ہیں، اس ناگہانی واقعہ سے سب کے دل زخمی اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ وہ شخص اس جوانی کے عالم میں بھی شاہ بلوط تھا۔ اس کی چھاؤں میں کراچی کے کتنے ہی مظلوم آکے پناہ لیا کرتے تھے۔ شہید کی شہادت کے بعد حکومت پاکستان نے اسے تمغۂ شجاعت دیا ہے یہ ایک احسن فیصلہ ہے۔ اس سے حکومت کی نیک نامی بھی ہوئی ہے اور فی الحقیقت خود تمغۂ شجاعت کے لئے یہ اعزاز ہے کہ اس عظیم فرزند اسلام کے نام منسوب ہوا ہے۔

جمعیت اور جماعت دونوں ادوار میں اس کے قریبی دوست ان مشکل مرحلوں کا ذکر کرتے ہیں، جب موت ہر جانب رقصاں نظر آتی تھی۔ کئی احباب کہتے کہ ہمیں میدان سے ہٹ جانا چاہیے، مگر اسم بامسمیٰ نصر اللہ شجیع اللہ کی نصرت پہ یقین کے ساتھ شجاعت کے میدان میں ڈٹ جایا کرتا تھا۔ کراچی کے پرآشوب حالات میں وہ ہمیشہ موت سے پنجہ آزما رہا۔ کئی بار موت قریب سے گزری، مگر وقت ابھی نہیںآیا تھا ، اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکی۔ جب اجلِ مسمیٰ آگئی تو ایک پرامن اور پرسکون مقام پر دریائے کنہار کی موجوں نے اُسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ انہی موجوں کے اندر عزرائیل منتظر تھا۔ اس نے بھی اس جوانِ رعنا کو گلے لگا لیا۔ اب ہم گھڑیاں گن رہے ہیں کہ یہ عارضی جدائی کب ختم ہوگی، آخر ہم سب کو اس کی طرف جانا ہے۔ اسے ہماری طرف لوٹ کر کبھی نہیںآنا۔ وہاں اللہ ہم سب کو اس کے ساتھ جگہ عطا فرما دے تو یہ اس کی بے پایاں رحمت ہوگی۔ پھر دائمی رفاقت ہوگی اور کبھی فراق نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ بوڑھی ماں ، جوان بیوہ اور معصوم بچوں کو صبر کی توفیق عطا فرمائے اور اجرِ عظیم سے نوازے۔ اللہ شہید کے درجات بلند فرمائے اور اس کا جو روحانی فرزند کنہار کے پوتر پانی میں غسل کرتا ہوا جنت کی طرف گامزن ہوگیا ہے، اس کی شہادت کو قبول فرمائے۔ اس بچے کے والدین سے بھی ہمیں دلی ہمدردی ہے۔ ہم ان کے لئے بھائی نصر اللہ شجیع کی طرح ہر رات صبر واجر اور خیر کی دعا مانگتے ہیں۔

مزید : کالم