روہنگیائی مسلمانوں کوتحفظ کون دے گا؟

روہنگیائی مسلمانوں کوتحفظ کون دے گا؟
روہنگیائی مسلمانوں کوتحفظ کون دے گا؟

  

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ برما سے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی اور اجتماعی قبروں کی دریافت مہذب دنیا کی پیشانی پر سیاہ دھبہ ہے۔ ہزاروں مسلمان پناہ کی تلاش میں سمندر میں بھٹک رہے ہیں ،مگر کوئی ملک انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اقوام متحدہ فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لئے آگے بڑھے اور میانمار کو پابند کیا جائے کہ وہ ملک بدری کا فیصلہ واپس لے اور مسلمانوں کو برما میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ عالم اسلام اور او آئی سی بھی روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر رحم کھائیں۔ اقوم متحدہ اور میانمار پر دباؤ بڑھایا جائے کہ مسلمانوں کو برما سے بے دخل نہ کیا جائے۔

میانمر میں آسیان سربراہان کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بانکی مون نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو بلاتفریق شہریت فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میانمر کے صدر پر دباؤ ڈالیں گے کہ اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں کو راکھائن میں آسانی سے جانے کی اجازت فراہم کی جائے جہاں روہنگیا مسلمانوں کو حملوں اور ظلم وستم کا سامنا ہے۔اس موقع پر امریکی صدر باراک اوباما نے بھی میانمر کی حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انہیں روہنگیا مسلمانوں کیساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں پرتشویش ہے۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے میانمر کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک بند کرکے ان کو مساوی حقوق فراہم کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا جمہوری حکومت کی کامیابی ہو گی۔ اس امتیازی سلوک کی وجہ سے روہنگیا اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے روہنگیا مہاجر انسانی اسمگلروں کا شکار بنے اور بہت سے کھلے سمندر میں اپنی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برما کے مسلمانوں کا ایک مدت سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف عالمی پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا کر متعصب بدھسٹ برما سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ارکان پروجیکٹ کے کرس لیوا نے بتایا کہ راکھین کے گاوں دچار یارتن میں بدھوں اور فورسز نے مشترکہ طور پر مسلمانوں کے گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ فائرنگ، چاقووں اور ڈنڈوں کے وار کر کے مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں کھائی میں پھینک دی گئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سارا معاملہ 8 زیرحراست روہنگیا مسلمانوں میں سے 3 کی لاشیں ملنے سے شروع ہوا۔ روہنگیا مسلمانوں نے لاشوں کی تصاویر بنائیں اور پولیس کے پاس لے کر گئے۔ پولیس اور فوج نے الٹا گاؤں پر دھاوا بولتے ہوئے موبائل فون قبضے میں لے لئے ۔ گزشتہ دو سال کے دوران بدھ بھکشووں کے حملوں میں ہزاروں مسلمان شہید ،جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ریاست راکھین کے علاقے پوختو میں بھی مسلمان مہاجرین کے 40خیموں کو نذرآتش کر دیا گیا۔ 1784ء تک روہن گیا مسلمانوں کی آزاد ریاست تھی جس پر برما نے قبضہ کرلیا تھا۔ برمی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو بنگالی قرار دیتے ہوئے انہیں برمی باشندہ تسلیم نہیں کرتی اور علاقے سے مسلمانوں کے خاتمے کے لئے وقتاً فوقتاً نسل کشی کی مہم چلاتی رہتی ہے۔ جون 2012ء میں بھی ایسی مہم کے دوران بدھوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔

1948ء سے لے کر اب تک برما میں مسلمانوں کے خلاف ملک کے اندر ایک درجن سے زیادہ بڑے بڑے فوجی آپریشن ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف 1948 میں ہونے والے سب سے پہلے آپریشن B.T.F میں 30 ہزار مسلمانوں کو ظالم بودھسٹوں نے قتل کر دیا۔ 2001ء میں ہونے والے آپریشن میں 700 مسلمان شہید اور 800 سے زیادہ گرفتار کر کے اغواء کرلئے گئے جن کا آج تک کچھ پتہ نہ چل سکا۔ 1991ء سے 2000ء تک مختلف فوجی آپریشنز میں 18 سو سے زیادہ گاؤں جلا دیئے گئے۔ 200 سے زیادہ مساجد گھوڑوں کے اصطبل اور فوجی مراکز میں بدل گئے۔ صرف 2002ء میں 40 مساجد کا خاتمہ کیا گیا۔ 1984ء میں 2 سو ایسے خاندان جو ہجرت کے لئے سمندری سفر کر رہے تھے فوج نے ان کی کشتیاں الٹ دیں جس سے یہ 200 خاندان سب کے سب پانی میں ڈوب گئے۔ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔ 1978ء میں تین ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بوریوں میں بند کر کے سمندر میں پھینکا گیا۔ مسلمانوں کے 20 سربراہوں کو زندہ دفن کر دیا گیا۔ اسی سال ایک مسجد میں 120 خواتین کی نعشیں ملیں۔ اپریل 1948 میں مسلمانوں کے خلاف بودھ عوام نے مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا تھا صرف ضلع اکیاب میں بودھسٹوں کے ہاتھوں 8 ہزار مسلمان شہید کر دیئے گئے۔

برما میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم زیادتیوں کا سلسلہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور گذشتہ کئی عشروں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مظالم برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے ہیں، لیکن آج تک دنیا والوں کو برمی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آئے اور نہ ہی اس کے سدباب کے لئے کچھ کیا گیا۔ مصائب میں گھرے مسلمانوں پر برما میں عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ برما میں مسلمانوں پر عرصہ دراز سے انتہائی سنگین اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، لیکن ساری دنیا ان مظالم پر مکمل خاموش ہے کیونکہ متاثرین مسلمان ہیں۔ برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کے معاملے میں عالمی برادری اور مغربی قوتیں مسلسل اسلام دشمنی کاثبوت دے رہی ہیں۔ برما میں بسنے والے مسلمان ہمارے بھائی ہیں۔اسلام کا نظام کسی ساتھ زیادتی یا ظلم نہیں کرتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے معاشرے اورحقوق کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ارکان کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی دلانے کے لئے پاکستان کی تمام جماعتوں کو متحد کرنا ضروری ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، برما میں ہونے والے مظالم پرامت مسلمہ کے دلوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ بنگلہ دیش ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی بے حسی پر دکھ ہوتا ہے کہ وہ مصیبت زدہ مسلمانوں سے تعاون کرنے کے بجائے انہیں اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں اور سمندر کی لہروں سے جانیں بچا کر خشکی پر پہنچنے والے مہاجرین کو بندوق کی نوک پر دوبارہ سمندر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

مزید : کالم