ترقی کے لئے قوم کا مضبوط اتحاد

ترقی کے لئے قوم کا مضبوط اتحاد
ترقی کے لئے قوم کا مضبوط اتحاد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چین کے بعد ترکی کی تین کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا ہے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے ایک بہترین مُلک قرار دیا ہے۔ اب جبکہ پاکستان بیرونی سرمایہ کاری اور پاک چین اکنامک کوریڈر کے باعث بلندیوں کی طرف اڑنے کے لئے پَر تول رہا ہے، تو دوسری جانب پاکستان کی ترقی کے دشمن بھی پوری طرح سرگرم ہو گئے ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ جو طویل عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہَوا دینے کے لئے دہشت گردوں کی جنگی تربیت اور مالی امداد جاری رکھے ہوئے تھی، اب بلوچستان میں زیادہ سرگرم عمل ہو گئی ہے تاکہ پاک چین اکنامک کوریڈور کے عظیم منصوبے کو نقصان پہنچایا جا سکے۔۔۔ لیکن ’’را‘‘ کے افسروں کے دماغ میں بھس بھرا ہوا ہے، کیونکہ طویل وقت کے ضیاع کے بعد پوری قوم متحد ہو کر پاکستان کو آگے بڑھانے کے لئے پوری طرح تیار ہے، اس لئے بلوچستان میں موجود مٹھی بھر دہشت گرد پوری قوم کو شکست نہیں دے سکتے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی منتخب حکومت اور افواج پاکستان ایک ہی صفحہ پر ہیں، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ بعض فوجی آمروں نے منتخب حکومتوں کو ختم کر کے پاکستان کی ترقی کا پہیہ جام کر دیا۔ دُنیا میں بہت کم ایسے آمر گزرے ہیں، جنہوں نے اپنی قوموں کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کیا ہو، ورنہ زیادہ تر آمروں نے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لئے اپنی قوموں کو کمزور ، بے بس اور ترقی سے دور کر دیا۔ آج دُنیا میں وہی مُلک سب سے بڑی فوجی قوت بن کر ابھرے ہیں، جہاں جمہوریت کا تسلسل ہے اور جہاں کے عوام اپنی شخصی و قومی آزادی کے لئے خون کا آخری قطرہ بھی بہانے کے لئے تیار رہتے ہیں، کیونکہ آج کے جدید دور میں اگر پوری قوم متحد ہو کر اپنی فوج کی پشت پر نہ ہو تو محض اکیلی فوج کوئی بڑی جنگی کامیابی حاصل نہیں کر سکتی، خدا کا شکر ہے کہ آج پاکستانی قوم اور فوج دونوں متحد ہیں، اسی لئے دہشت گرد پسپا ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھنے لگا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف قومی معاملات میں تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، جو ایک نیا اور جمہوری پاکستان تعمیر کرنے کے لئے ان کی سب سے کامیاب سیاسی حکمت عملی ہے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے شب و روز ایک کئے ہوئے ہیں، لیکن صوبے کی پولیس کی اصلاح کے محاذ پر ابھی وہ کمزور ہیں۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال مُلک ہے، اس مُلک میں ہر صنعت کا خام مال موجود ہے، صرف کمی ہے تو سیاست دانوں کے عزم کی اور نوکر شاہی کی دیانتداری کی۔ سیاست دانوں کی حد تک یہ کمی وزیراعظم نواز شریف نے پوری کر دی ہے۔ اب بات رہی نوکر شاہی کی تو ہماری دُعا ہے کہ وہ خوشامد، مراعات اور مال بنانے سے ہٹ کر بھی مُلک و قوم کے بارے میں کچھ سوچے، اگر مُلک ترقی کی بلندیوں کو چھونے لگے گا تو ان کی آنے والی نسلیں بھی وافر مقدار میں رزق حلال کما سکیں گی۔

جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں خام لوہا بہت کم ہے۔ قدرتی گیس نہیں، پٹرول نہیں، دودھ نہیں، لیکن پھر بھی وہ دُنیا سے خام مال منگوا کر لوہے اور پلاسٹک کی مصنوعات کے علاوہ خشک دودھ کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ پاکستان دُنیا میں پانچویں نمبر پر دودھ پیدا کرنے والا سب سے بڑا مُلک ہے، لیکن بدقسمتی سے پھر بھی خشک دودھ درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ ہر قسم کے پھلوں کی پیداوار کے باوجود دُنیا کو اعلیٰ جوسز برآمد کرنے قابل نہیں۔ بھارت کا مشرقی پنجاب جو رقبے میں پاکستانی پنجاب سے کم ہے، پورے بھارت کو زرعی اجناس مہیا کر رہا ہے، لیکن ہم ایک زرعی مُلک ہونے کے باوجود کبھی ٹماٹر اور کبھی آلو باہر سے امپورٹ کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جاگیرداروں اور وڈیروں نے لاکھوں ایکڑ زمین بنجر چھوڑی ہوئی ہے۔ہم نہرو کی طرح زرعی اصلاحات نہیں کر سکے۔ اگر ایسا ہو جاتا،یہ زمین حقیقی کاشت کاروں کو مل جاتی تو وہ ہر ایکڑ اور ہر کنال پر غلہ اُگا کر نہ صرف مُلک کو زرعی اجناس میں خود کفیل بنا دیتے، بلکہ مُلک ان اجناس کی ایکسپورٹ سے اربوں روپے سالانہ کماتا۔

ایسی زرعی اصلاحات اس لئے ناممکن ہیں کہ ہماری اسمبلیاں جاگیرداروں اور وڈیروں سے بھری ہوئی ہیں، جو نہ کبھی زرعی اصلاحات ہونے دیں گے اور نہ کبھی زرعی ٹیکس کا کوئی قانون پاس ہونے دیں گے۔ بہرحال اپنے ذاتی مفاد کی اس سوچ کے باوجود وہ محب وطن کہلاتے ہیں۔ پاکستان میں فوجی اور شخصی حکومتیں بھی زرعی اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ بہرحال کبھی نہ کبھی عوامی شعور اس سطح تک ضرور پہنچ جائے گا، جہاں وہ حکمرانوں کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر دے۔

مزید : کالم