مسیحاؤں کا خفیہ دھندہ

مسیحاؤں کا خفیہ دھندہ
مسیحاؤں کا خفیہ دھندہ

  

پنجاب حکومت نے جعلی ادویات کے خلاف مہم شروع کردی ہے ،مگر اصلی ڈاکٹروں کے جعلی نسخوں کے خلاف مہم کب شروع ہوگی؟دواؤں کے نام پر زہر فروخت کرنے والوں کے خلاف آپریشن درست اقدام ،مگر علاج کے نام پر ناجائز دواؤں کا دھندہ کرنے والوں کے خلاف اقدام کب ہوگا؟۔۔۔ڈاکٹر پر مریض کا اعتماد ہوتا ہے ،وہ سمجھتا ہے کہ جب ڈاکٹرکو فیس ادا کردی ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق ٹھیک ٹھیک دوا تجویز کرے گا۔ا س کے گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ فزیشن فیس وصول کرنے کے باوجود بھی مریض کی صحت سے کھیلے گا،مگردل خراش حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہی ہو رہا ہے ،ڈاکٹر دوا ساز کمپنیوں سے ساز باز کرکے مریضوں کو ضرورت سے کہیں زیادہ ادویات کھلا رہے ہیں۔اس سے ایک طرف مریض پر ناجائز مالی بوجھ پڑتا ہے ، دوسرا اس کے جسم میں دواؤں کی صورت میں اضافی کیمیکل اتارے جا رہے ہیں جو مزید بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال بیماروں سے بھرے پڑے ہیں ، شفا کے لئے آنے والے بیماریاں لے کر جارہے ہیں۔ ڈاکٹرز اور دوا ساز کمپنیاں اربوں روپے کمارہی ہیں اور لوگ پیسے دے کر بیماریاں خرید رہے ہیں۔

ملک میں چھ سو سے زائد رجسٹرڈفارماسوٹیکل کمپنیاں ہیں اور66ہزار سے زائدادویات رجسٹرڈ ہیں۔یہ کمپنیاں سالانہ اڑھائی ارب ڈالر،یعنی 250ارب روپے کا بزنس کرتی ہیں اور دو کروڑ ڈالر کی ایکسپورٹ بھی کرتی ہیں۔ ایک ہی دوا مختلف ناموں سے سینکڑوں کمپنیاں بنا رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ادویات فروخت کرنے کے لئے ڈاکٹروں کو قیمتی تحائف،پُرکشش ترغیبات اور مراعات دیتی ہیں ۔چند سال پہلے تک کمپنیاں ڈاکٹرز کولیٹر ہیڈ، بال پوائنٹ پن اور بریف کیس کے تحفے دیتیں تو وہ بڑے مسرور ہوتے تھے ،مگر اب یہ معمولی چیزیں سمجھی جاتی ہیں۔ اب سیل ٹارگٹ کی باقاعدہ ڈیل ہوتی ہے کہ آپ اتنے لاکھ کی دوائیں فروخت کریں گے تو اتنا کمیشن دیں گے۔ کئی ڈاکٹر ایڈوانس نقد پیسے یا چیک لے لیتے ہیں اور مریضوں کو اندھا دھند دوائیں لکھ کر ٹارگٹ پورا کردیتے ہیں۔اب ذرا سنئیے ،زائد دوائیں لکھ کر مسیحا کیا کماتے ہیں!دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو فیملی سمیت سوئٹزر لینڈ، امریکہ اور یورپی ممالک کے تفریحی ٹورز کراتی ہیں،بیرون ملک کانفرنسوں میں شرکت کے اخراجات اٹھاتی ہیں۔ہسپتالوں کی تعمیراور تزئین و آرائش کرتی ہیں اورسارا سامان فراہم کرتی ہیں ۔ نئی گاڑیاں پیش کی جاتی ہیں ،جتنا بڑا ٹارگٹ اتنی بڑی نئی نویلی گاڑی۔فیملی فنکشنز اور بچوں کی شادیوں کے بل ادا کرتی ہیں حتی کہ ڈاکٹروں کے ناشتے ، لنچ اور ڈنر زکے بلز بھی دوا ساز کمپنیاں ادا کرتی ہیں، سپانسر ڈکھانوں کی بڑی مقدار گھر کے لئے پیک بھی کرالی جاتی ہے ۔مسیحاؤں کی حرص و ہوس کی حد یہاں ختم نہیں ہوتی ، بلکہ مریضو ں میں دوائیوں کا زہر اتار کر عمرہ و حج کی سعادت بھی حاصل کی جاتی ہے ۔ بے تحاشا کلینکل ٹیسٹ ، ایکسرے ،الٹراساؤنڈ سب میں مسیحاؤں کا کمیشن ہوتا ہے ۔اپنی فیس لے کر اوربے پناہ ٹیسٹ کرواکے بھی دوا اسی دوا ساز کمپنی کی، جس کے ساتھ کمیشن طے ہے۔ اب توڈاکٹروں نے ہسپتالوں کے اندر ہی میڈیکل سٹور بنا لئے ہوئے ہیں ۔

کئی کمپنیاں دلچسپ سکیمیں دیتی ہیں ،دواؤں کا ایک ٹرک فروخت کرو،دوسراٹرک بالکل مفت اور ساتھ میں چھوٹی گاڑی بھی۔دواؤں کی ایک میعاد ہوتی ہے ،ان کی ایکسپائری تاریخ قریب آتی ہے تو کمپنیاں دواؤں کا یہ سٹاک اونے پونے ڈاکٹروں کو فروخت کردیتی ہیں جو مریضوں پر دھڑا دھڑ تھونپ دیتے ہیں۔گائنا کالوجسٹ بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ،نارمل ڈیلیوری کو سیزیرئین بنادیتی ہیں،صرف ڈبل بل لینے کے لئے ۔اس سے مریض کا خرچہ دوگنا ہوتا ہے اور جسمانی پیچیدگیاں بھی بڑھ جاتی ہیں ۔ایک مریضہ کی نارمل ڈیلیوری کا وقت آیا ،مگر ڈاکٹر سیزیرئین کرنا چاہتی تھی ،سرجن کو بار بار کال کررہی تھیں ،مگر وہ نہیں پہنچ رہے تھے،تنگ آکر سرجن سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کیا اس وقت آئیں گے جب نارمل ڈیلیوری ہوجائے گی؟ گائنی ڈاکٹر ملٹی وٹامن دینے کی بہت شوقین ہوتی ہیں ،یہ ملٹی وٹامن کا پیکٹ لاہور کی لوہاری مارکیٹ سے پچاس روپے میں دستیاب ہے ،مگر اس پر چار سو روپے کی قیمت درج ہوتی ہے ۔یہی نہیں آپ اپنی پسند کی پیکنگ میں بھی تیار کرواسکتے ہیں۔ علاج کے نام پر مسیحاؤں کاخفیہ دھندہ جاری ہے ،مگر ہر طرف قبرستان کی سی خاموشی ہے ۔

ساری ادویات کیمیائی اجزاء سے تیار ہوتی ہیں ،ان کے بے جا استعمال سے جسم کے مختلف افعال کے علاوہ جگر،معدے ،گردے ،جلد اور دل بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ بے چینی ،بے خوابی ،دمہ، قبض جیسے مسائل معمولی تحفے ہیں ۔جن ترقی یافتہ ممالک میں یہ ادویات ایجاد ہوئی ہیں ،وہاں ان کے استعمال میں بڑی احتیاط برتی جاتی ہے اور مریض کی پوری تحقیق کے بعد ہی دوا تجویز کی جاتی ہے،وہ بھی بہت کم مقدارمیں ۔یہ دوا فزیشن نہیں، بلکہ مجاز فارماسسٹ دیتا ہے۔وہاں فزیشن فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام نہیں کرتے ۔ڈاکٹروں نے ادویات کے انٹرایکشن اور ری ایکشن بارے بہت کم پڑھا ہوتا ہے ،جبکہ فارماسسٹ کی ساری تعلیم ہی دواؤں کی ہوتی ہے ۔ڈاکٹروں کو دواؤں کا ری ایکشن مریض پر استعمال کے بعد پتہ چلتا ہے۔ میڈیکل ریپ یا فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے نمائندے ڈاکٹروں کودواؤں کے بارے آگاہی دینے اور پُرکشش پیشکشیں کرنے کے لئے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں ۔

مسیحاؤں کے اس خفیہ دھندے کو روکنا کافی مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں ۔اگر ایسا سافٹ وئیرڈویلپ کرلیا جائے جس کی مدد سے ڈاکٹر کمپوٹر ائزنسخے جاری کریں، جس پر بیماری ،تشخیص اور تجویز کردہ دوائیں درج ہوں ، یہ میڈیکل ڈیٹا ہیلتھ منسٹری کے آن لائن سسٹم سے جڑا ہو۔ یہ سافٹ وئیر آف لائن بھی کام کرے لیکن جیسے ہی انٹرنیٹ سے جڑ ے ،سارا ریکارڈ بڑے سسٹم سے شیئر ہوجائے۔ اس کے کئی فوائد ہوسکتے ہیں:ہر فرد کی میڈیکل ہسٹری بنتی چلی جائے گی ،اس کی بیماریاں کیا ہیں ،اس کو کون سی ادویات دی گئیں ،کس ڈاکٹرنے کیا تشخیص کی ،کون سی دوا تجویز کی ۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ وزارت صحت کوقوم کی صحت کا ڈیٹا حاصل ہوتا چلاجائے گا اور ان پر استعمال ہونے والی ادویات کا بھی ۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ کون سا ڈاکٹر کس کمپنی کی دوا فروخت کررہا ہے،کمپنیوں کے ریکارڈ سے ملایا جاسکے گا اور چوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ ڈاکٹرز سوچ سمجھ کر دوا ئیں لکھیں گے ،زائددواؤں سے احتیاط برتیں گے۔ دوا ساز کمپنیوں اورکمیشن ایجنٹ ڈاکٹرز کا یہ مشترکہ دھندہ بیمار اور مجبور مریضوں کی رگوں سے زندگی نچوڑرہا ہے۔بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور دوا ساز فیکٹریاں بھی۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی خیر ہو!

مزید : کالم