بھاری مہینوں کی بات

بھاری مہینوں کی بات
بھاری مہینوں کی بات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کہا جا رہا ہے کہ جولائی اور اگست نواز شریف حکومت کے خاتمے کے مہینے ہیں۔ عمران خان تو رواں سال کو الیکشن کا سال قرار دیتے ہیں، بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اُنہیں ایمان کی حد تک یقین ہے کہ رواں سال ہی الیکشن کا سال ہے۔ عمران خان نے گزشتہ سال بھی نواز شریف حکومت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے، اس کے خلاف دھرنا بھی دیا،مگر طویل دھرنے کے باوجود نواز شریف اپنی حکومت بچانے میں کا میاب رہے۔ عمران خان جب لانگ مارچ اور دھرنے کے لئے نکلے تو ڈاکٹر طاہر القادری بھی ان کے ساتھ مل گئے، سو مختلف ماہرین نے نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کی پیشین گوئی کر دی۔سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ماہرین علم الاعداد، ماہرین علم نجوم اس بات پر متفق تھے کہ حکومت گئی۔ ان دِنوں جب نواز شریف کی حکومت کے گرنے کی پیشین گوئیاں ہو رہی تھیں، آپ کے اس ’’عاجز‘‘ نے علم الاعداد کی روشنی میں عرض کی تھی کہ نواز شریف حکومت جانے کی کوئی امید نہیں۔

کم از کم ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے سے حکومت نہیں جائے گی، پھر ایسا ہی ہوا۔ڈاکٹر طاہر القادری نامعلوم وجوہات کی بنا پر دھرنا ختم کر کے کینیڈا چلے گئے۔ عمران خان اکیلے ’’دھرنا نگر‘‘ میں موجود رہے، مگر ان کے بیانات سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ’’دھرنا نگر‘‘ سے نکلنے کے لئے راستے کی تلاش میں ہیں۔ عمران خان پریشان تھے کہ دھرنے کے راستے پر ڈالنے والوں نے انہیں اسلام آباد تک جانے کا راستہ تو دکھا دیا، مگر اب واپسی کا راستہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ بدقسمتی سے طالبان نے خیبرپختونخوا کے ملٹری سکول پر دہشت گردانہ حملہ کیا، اس حملے کو قومی سانحہ قرار دے دیا گیا، پھر یہی قومی سانحہ عمران خان کی واپسی کا ذریعہ بن گیا اور ان کا کنٹینر بنی گالہ کی طرف مڑ گیا۔ عمران خان عاملوں اور نجومیوں کی باتوں پر بہت یقین رکھتے ہیں، ان تمام ’’اہلِ علم‘‘ کی غلط پیشین گوئیوں کے باوجود عمران خان اب بھی ان کی باتوں پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مختلف نجومیوں کی اس بار کی جانے والی پیشین گوئیاں درست ثابت ہوں گی۔

یہاں وزیراعظم نواز شریف کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ نجوم کی پیشین گوئیوں کے لئے سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت ہیں اور ہر دور میں ان کی حکومت گرنے کی پیشین گوئی اہلِ نجوم نے ہی سنائی ہے۔ چند واقعات یہاں آپ کی دلچسپی کے لئے پیشِ خدمت ہیں۔۔۔ 1990ء میں جب نواز شریف اقتدار میں آئے تو تھوڑے ہی عرصے بعد غلام اسحاق خان کے ساتھ اُن کے اختلافات شروع ہو گئے اور انہوں نے ان کی حکومت ختم کر دی۔ عین ان دِنوں جب غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے درمیان ’’اٹ کھڑکا‘‘ عروج پر تھا اور انتظار تھا کہ دونوں میں سے کون کامیاب ہوتا ہے، میرے ایک عزیز دوست نے جو اب وفات پا چکے ہیں، علم رمل اور علم اعداد کے بہت ماہر تھے، علاقائی سطح پر اُن کے نام کا بہت چرچا تھا اور اُن کی پیشین گوئیاں درست ثابت ہونے کا حساب 95فیصد کے قریب تھا، اتفاق سے میری اُن کے ساتھ میانوالی کے ریلوے سٹیشن پر ملاقات ہو گئی۔ اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد مَیں نے ان سے سوال کیا کہ نواز شریف کا کیا بنے گا؟۔۔۔وہ مسکرائے اور کہا تم میرے حساب کو چھوڑو۔ اپنے حساب سے تباؤ کیا بنے گا؟ مَیں نے کہا: میرے حساب کتاب آج کل بند پڑے ہیں۔ آپ اپنے حساب سے بتائیں۔

میرے اس دوست نے دس پندرہ منٹ حساب لگانے کے بعد بتایا کہ میرے حساب سے 1993ء کے بعد نواز شریف اقتدار میں نظر نہیں آتے۔ مَیں نے انہیں کہا، کیا تم اپنے حساب سے مطمئن ہو، اُس نے کہا: 95فیصد اور پھر چند دِنوں بعد نواز شریف کی حکومت ختم کر دی گئی۔ میرے دوست نے مجھے فون کیا اور اپنے حساب کی داد لینا چاہی۔ مَیں نے اُسے داد دی، مگر اُدھر سپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اسمبلی اور حکومت بحال کر دی اور چند دِنوں بعد نواز شریف پھر اقتدار میں آ گئے، مجھے بہت حیرانی ہوئی، مَیں نے اپنے دوست کو فون کیا، کہ آپ کی پیشین گوئی غلط ثابت ہو گئی ہے، وہ مسکرایا اور اس نے کہا، مَیں اب بھی اپنے حساب پر 95فیصد قائم ہوں۔ مجھے نواز شریف اگلے تین سال تک اقتدار میں نہیں نظر آتے۔یہ دوبارہ وزیراعظم کیسے بن گئے ہیں۔ مَیں خود حیران ہوں، کیونکہ میرے حساب سے نواز شریف کو ان دِنوں میں اقتدار میں نہیں ہونا چاہئے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ مجھے علم رمل اور علم الاعداد کے بارے میں تو علم ہے، لیکن مَیں خدا کے ارادوں، اس کی حاکمیت اور کوئی بھی فیصلہ بدلنے کی طاقت کے آگے سر نہیں اُٹھا سکتا، سو نواز شریف کا اقتدار میں آنا اللہ ہی جانتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے جو علم مجھے عطا کیا ہے وہ بتاتا ہے کہ نواز شریف کو اقتدار میں نہیں ہونا چاہئے۔

بہرحال نواز شریف نے بحالی کے بعد استعفا دے دیا،یوں نواز شریف کے ساتھ ساتھ غلام اسحاق خان بھی اقتدار سے رخصت ہو گئے۔ حالات بدلے اور نواز شریف ایک بار پھر 1997ء میں دوبارہ اقتدار میں آ گئے اور تقریباً تین سال تک اقتدار میں رہے۔ نواز شریف جب دوبارہ اقتدار میں آئے تو میرے دوست نے ایک بار پھر پیشین گوئی کی کہ اب نواز شریف حکومت سے ہی نہیں، وطن سے بھی نکال دیئے جائیں گے، حالات نے ثابت کیا کہ میرے دوست کی پیشین گوئی درست تھی۔ بعد کے حالات میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت پر قبضہ کرتے ہوئے نواز شریف کو پہلے جیل کے اندر، پھر ’’مُلک بدر‘‘ کر دیا۔ اُن کی ’’مُلک بدری‘‘ کے حوالے سے پاکستان کے تمام اہلِ نجوم، ماہرین علم الاعداد کا خیال تھا کہ اب نواز شریف کی واپسی ناممکن ہے۔ان کا خیال تھا کہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے نواز شریف میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ وہ روحانی دُنیا میں چلے جائیں گے، سیاست اور کاروبار سے قطعی طور پر علیحدہ ہو جائیں گے، بہت جلد دُنیا دیکھے گی کہ نواز شریف چہرے پر داڑھی سجائے، سر پر عمامہ باندھے اور تسبیح پکڑے ایک مختلف شخصیت کے روپ میں سامنے ہیں۔ اِن پیشین گوئیوں کے باوجود میرے دوست کا اصرار تھا کہ نواز شریف دوبارہ پاکستان آئیں گے اور ایک بار پھر وزیراعظم بنیں گے اور دُنیا دیکھے گی کہ جنرل پرویز مشرف اقتدار سے محروم ہونے کے بعد جیل میں ہیں۔

ماضی کے یہ چند قصے دھرانے کا مطلب یہ ہے کہ نواز شریف اہلِ نجوم کے حساب کتاب میں رہتے ہیں۔ آج کل بھی ان کے ستاروں کے حوالے سے بہت بات کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اگست تک نواز شریف فارغ ہو جائیں گے۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ نواز شریف کا حساب کتاب لگا کر انہیں فارغ کرانے کی پیشین گوئی کر رہے ہیں، یقینی طور پر انہوں نے یہ بھی حساب لگایا ہو گا کہ نواز شریف کے بعد کون آئے گا؟۔۔۔ کیا مارشل لاء لگے گا؟ اگر مارشل لاء لگتا ہے، تو پھر وزیراعظم کی بھی ضرورت ہو گی، اس ضرورت کے نام پر عمران خان کو وزیراعظم کے منصب پر بٹھانے کی پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی عمران خان کے وزیراعظم بننے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ عمران خان نے بھی جنرل پرویز مشرف کے ساتھ پورا تعاون کیا اور انہیں یقین تھا کہ جنرل پرویز مشرف انہیں وزیراعظم بنائیں گے، مگر بدقسمتی سے وہ وزیراعظم نہ بن سکے۔ جنرل پرویز مشرف نے میر ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز حتیٰ کہ چودھری شجاعت کو تین ماہ کے لئے ہی سہی، وزیراعظم بنا دیا۔۔۔مگر عمران خان کو نظر انداز کر دیا۔

عمران خان اب بھی وزیراعظم کی کرسی کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ اہلِ نجوم ان کے کان بھرتے رہتے ہیں اور وہ ان کی باتوں پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں، حالانکہ یہ ایمان کی پختگی نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔ اب ایک بار پھر جولائی اور اگست نواز شریف کے لئے خطرناک اور عمران خان کے لئے بہت اچھے مہینے بتائے جا رہے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ جولائی اور اگست نواز شریف کے لئے خطرناک ثابت نہیں ہوں گے، وہ پوری مضبوطی کے ساتھ اقتدار میں موجود رہیں گے۔ سیاسی حالات پُرسکون ہیں، اندرون مُلک انہیں کسی جانب سے کسی بڑی مخالفت کا سامنا نہیں ہے، وہ انتہائی پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ مُلک میں امن و امان کی صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہے، طالبان کے حملے تقریباً بند ہو چکے ہیں، کراچی کے حالات میں بہتری آئی ہے، معاشی طور پر بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ مُلک کو ترقی دی جائے، لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی ٹھیک کیا جا رہا ہے، البتہ مہنگائی اور بے روز گاری کے معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک عام آدمی کے حالات درست کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

پاکستان کے عوام موجودہ حکومت کے بعض فیصلوں پر پریشان ضرور ہیں، مگر اس قدر نالاں نہیں کہ وہ حکومت گرانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں۔۔۔ پھر اگر عوام سڑکوں پر نکلے بھی تو کس کے ساتھ؟۔۔۔کیا لوگ عمران خان کے ساتھ نکلیں؟میرے خیال میں لوگ عمران خان کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں، کیونکہ عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کے لوگوں کو ’’انٹر ٹین‘‘ تو کر سکتے ہیں، لیکن حکومت گرانے پر آمادہ نہیں کر سکتے،حکومت گرانے کے لئے کسی بہت جاندار اور تگڑی قسم کی قیادت کی ضرورت ہے، جسے عمران خان پورا نہیں کر سکتے، سو جولائی اور اگست بھی آرام سے گزر جائیں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مارشل لاء لگ سکتا ہے، لیکن مارشل لاء کا امکان اس لئے نہیں ہے کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ دونوں کے درمیان بظاہر کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ فوج جو چاہتی ہے، حکومت وہ سب کچھ کر رہی ہے اور دونوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں، سو محض نجومیوں اور عاملوں کے کہنے پر حکومت نہیں جا سکتی، البتہ اللہ کے ارادوں کو اللہ ہی جانتا ہے، بظاہر اس وقت اللہ نواز شریف پر بہت مہربان نظرآتا ہے۔

مزید : کالم