روہنگیا تو جگہ جگہ ہیں

روہنگیا تو جگہ جگہ ہیں
روہنگیا تو جگہ جگہ ہیں

  

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے بقول روہنگیا روئے زمین پر سب سے یتیم نسلی گروہ ہے،لیکن روہنگیا صرف برما میں ہی تھوڑی ہیں۔ بس نام بدل گئے ہیں۔ہٹلر نے یورپی یہودیوں کو روہنگیا بنا ڈالا تو اسرائیل نے جیسے فلسطینوں کو روہنگیا سمجھ لیا۔ 1948ء میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ فلسطینیوں کو کان سے پکڑ کر، شہریت چھین کر، صدیوں پرانے آبائی گھروں سے نکال آس پاس کے ملکوں میں ہنکال دیا اور ان کے دیہاتوں کے نام تک مٹا دیئے۔وہ دن اور آج کا دن یہ گروہ بین الاقوامی فٹ بال بنا ہوا ہے۔ جنہوں نے گھر نہیں چھوڑے وہ عملاً غربِ اردن اور غزہ نام کے دو پنجروں میں رہ رہے ہیں اور ان پنجروں پر دل کی تسکین کے لئے بڑا بڑا لکھ دیا ہے ’ ’آزادی‘‘۔۔۔ایرانی روہنگیا بہائیوں کے نام سے معروف ہیں۔ پچھلے ایک سو برس میں قاچاروں سے پہلویوں اور پھر انقلابیوں تک ہر ایک نے ان مرتدوں کو حسبِ طاقت تختہِ مشق بنایا۔

کسی نے تعلیمی اداروں پر تالا لگا دیا، عبادت گاہیں مسمار کردیں، مذہبی لٹریچر برآمد ہونا جرم قرار پایا تو کسی نے ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کردئیے، قبریں مسخ کردیں، اور بہائیوں کو اقلیتی مذہبی شناخت سے محروم کر کے ایک سیاسی گروہ کا درجہ دے دیا۔ اور پھر اس ’سیاسی گروہ‘ کو صیہونی و مغربی ایجنٹ قرار دے کر 200 کو تختہِ دار پر لٹکا دیا اور سینکڑوں کو جیل بھیج دیا گیا۔کہنے کو دنیا میں 60 سے 70 لاکھ بہائی ہیں۔ ایران میں یہ کبھی دوسری بڑی مذہبی اقلیت تھے۔ آج وہاں ساڑھے تین لاکھ ہی رہ گئے ہیں۔ باقی بھارت سے یورپ اور شمالی امریکہ تک بکھر چکے۔یزیدی عراق کے روہنگیا ہیں۔ جانے کب سے شمالی صوبے نینوا اور اس سے متصل شام کے علاقے میں رہ رہے تھے۔ صدام دور تک انہیں ایک دور ازکار نسلی گروہ سمجھ کے نظرانداز کیا جاتا رہا۔ مگر اگست 2003 کے بعد یزیدیوں پر خودکش بمبار پھٹنے شروع ہوئے۔پچھلے ڈیڑھ برس میں یزیدی انسان سے نیم انسان کے درجے پر پہنچا دئیے گئے۔

دولتِ اسلامیہ کے سرفروشوں نے یزیدیوں کا قبلہ سیدھا کرنے کی کوشش میں انکی شناخت ہی ٹیڑھی کر دی۔ جو بھاگ گئے سو بھاگ گئے جو پکڑے گئے وہ مارے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے موصل اور رقا کی غلام منڈیوں میں برائے فروخت پیش کردئیے گئے۔ کبھی عراق میں دو لاکھ یزیدی تھے۔ آج بمشکل 50 ہزار ہوں گے۔جس کے جہاں سینگ سمائے نکل لیااور عراق کا ہمسایہ شام تو اس وقت پورا کا پورا روہنگستان بنا ہوا ہے۔پاکستان کے روہنگیوں میں آپ احمدی فرقے کو شمار کرسکتے ہیں۔وہ قانوناً کوئی ایسی مذہبی علامت عملاً، زبانی و تحریری طور پر اور اشاروں کنایوں میں استعمال نہیں کرسکتے جسے اکثریت اپنے مذہبی جذبات کی توہین سمجھے۔

1974 ء میں انہیں دائرہِ اسلام سے خارج کیا گیا اور1984 ء کے بعد سے خصوصی امتیازی قانون سازی زور پکڑ گئی۔ احمدی ایک عرصے سے نوکریوں، تعلیم، میڈیا کی سہولیات اور سیاسی و اقتصادی و سماجی رابطہ کاری سمیت مساوی شہری کہلائے جانے کے تمام جوازات کھو چکے ہیں۔1984ء سے پہلے پاکستان میں لگ بھگ 100 لاکھ احمدی بتائے جاتے تھے۔آج ان کی تعداد تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔ زیادہ تر یورپ اور شمالی امریکہ چلے گئے۔2010ء میں لاہور میں بھاری جانی نقصان کے بعد سے سینکڑوں احمدی سری لنکا، نیپال، ملائشیا اور چین کی طرف نکل رہے ہیں تاکہ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی نگاہ میں آسکیں۔ گذشتہ 12 برس کے دوران کوئٹہ اور گردونواح میں سوا سو برس سے آباد شیعہ ہزارہ کمیونٹی بھی روہنگیائی ہوچکی ہے۔ اکثریتی فرقوں سے جڑے شدت پسند مذہبی گروہوں کے ہاتھوں اور بم دھماکوں میں لگ بھگ 1000 سے زائد ہزارہ ہلاک ہوچکے ہیں۔تقریباً آدھی کمیونٹی کوئٹہ سے کراچی اور بیرونِ ملک منتقل ہوچکی ہے۔

کم و بیش 1000 ہزارہ انڈونیشیا سے آسٹریلیا پہنچنے کی غیرقانونی کوششوں میں سمندری مخلوق کا لقمہ بن چکے ہیں مگر گھر چھوڑنے کا سلسلہ پھر بھی نہیں تھما اور بھارت کے 16 فیصد دلت تو ساڑھے تین ہزار سال سے روہنگیا ہیں۔ جب تک کوئی گڑ بڑ نہ کریں قابلِ قبول ہیں۔ زیادہ ہچر مچر کریں تو اعلیٰ جاتیوں میں روہنگیا دشمن جذبات بیدار ہوجاتے ہیں۔ آج بھی بہت سے دیہاتوں میں دلت کسی کام سے انکار نہیں کرسکتے۔ گھوڑے کی سواری نہیں کرسکتے۔زمین نہیں خرید سکتے، محبت کی شادی نہیں کرسکتے اور دوسری جاتی کی عبادت گاہ کی چوکھٹ نہیں چھو سکتے۔میں سوچ رہا ہوں کہ ہر ایک کو دور کے روہنگیا کیسے نظر آجاتے ہیں اور اردگرد رہنے والے روہنگیے روہنگیے کیوں نہیں دکھتے۔

زندگی کے لئے ضروری ہے

ایک سر اور ایک در صاحب

میں اگرچہ کسی رعایت کامستحق تو نہیں ،مگر۔۔۔صاحب ( حسن جاوید )

مزید : کالم