ڈار صاحب غصہ نہ کریں!

ڈار صاحب غصہ نہ کریں!
ڈار صاحب غصہ نہ کریں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

غصہ تو عوام کو آنا چاہئے، مگر وہ تو ٹھہرے سدا کے اللہ لوک، اُنہوں نے ہر ستم کی طرح یہ بجٹ بھی برداشت کر لیا لیکن اسحاق ڈار صاحب نجانے کیوں غصے میں آ گئے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں ان کا جاہ و جلال دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ کسی جمہوری حکومت کے وزیر خزانہ ہیں۔ وہ تو کسی مغل بادشاہ کی طرح حکم چلا رہے تھے۔ صحافی کو مطمئن کرنے کی بجائے اُنہوں نے پہلے تو سخت الفاظ استعمال کئے، جب دل نہ بھرا تو پی آئی ڈی کے کارندوں کو حکم صادر کر دیا گیا کہ اسے باہر نکال دیا جائے۔ یہ تو شکر ہے باقی صحافیوں نے اُسے بول کا نمائندہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا، وگرنہ اس کی باہر لے جا کر شاید چھترول بھی کی جاتی۔ صحافیوں نے جب وزیر خزانہ کے رویئے پر پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تو اُنہیں فوراً ہی عقل آ گئی۔ اس قسم کی عقل بھی در اصل بجلی کی طرح ہوتی ہے جو کبھی جاتی ہے تو فوراً آ جاتی ہے اور کبھی آتی ہی نہیں۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اسحاق ڈار کی وزیر اعظم نوازشریف سے رشتہ داری نہ ہوتی تو اس بجٹ کے بعد اُنہیں وزارتِ خزانہ سے چلتا کرتے ،کیونکہ یہ واحد بجٹ ہے جس سے اُن کے ہمدم دیرینہ آصف علی زرداری بھی خوش نظر نہیں آتے اور اُنہوں نے واشگاف الفاظ میں اس بجٹ کو عوام دشمن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

فیس بک پر ایک اسٹیٹس اِن الفاظ میں لکھا گیا۔۔۔ ’’ڈبہ فلم کی طرح حکومت کا موجودہ بجٹ بھی بری طرح پٹ گیا ہے۔۔۔‘‘ مجھے ڈر ہے کہ اگر کسی پریس کانفرنس میں صحافیوں نے یہ بات اسحاق ڈار کے سامنے کر دی تو وہ شاید صحافیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کر دیں گے۔ پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک وزیر خزانہ گزرا ہے، وہ سب اسی بات کو سوچ کر پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں آتے رہے ہیں کہ اُن کا کڑا احتساب ہوگا، کیونکہ بجٹ کی تمام دستاویزات اور عوامی ردعمل سامنے آ چکا ہوتا ہے صحافیوں کے تابڑ توڑ سوالات پر بھی وہ کبھی سیخ پا نہیں ہوتے بلکہ تحمل کے ساتھ جواب دیتے، مگر اسحاق ڈار شاید پریس کانفرنس کو بھی کابینہ کی میٹنگ سمجھتے ہیں، حیرت اس بات پر ہے کہ ہر طرف سے منفی ردعمل آنے کے باوجود ڈار صاحب بجٹ کو غریب دوست قرر دینے پر بضد ہیں۔ بجٹ کے بعد پہلا دن ہی غریبوں پر قیامت بن کر ٹوٹا ہے۔ جب اُنہیں ہر شے مہنگی ملنے لگی ہے۔ موصوف نے یہ بڑھک ضرور ماری ہے کہ کسی کو قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن ایسی بڑھکوں کا اثر اُلٹا ہی ہوتا ہے، قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان کوئی ایک قدر مشترک بھی تو نہیں کہ جس کی بنیاد پر اُنہیں عوام کے حالات کی تھوڑی بہت خبر ہی مل جائے۔ وہ تو اپنے اردگرد دیکھتے ہیں اور اُنہیں ساون کے اندھے کی طرح ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔

ایک طرف حکمران اپنے اعلانات پر عمل نہیں کرا سکتے، دوسری طرف اُن کا تاجروں پر کوئی بس نہیں چلتا۔ کم سے کم اُجرت 13 ہزار روپے کرنے کا اعلان زمینی حقیقت کیسے بنے گا، اُنہیں اس کی کوئی پروا نہیں البتہ اُن کا ٹیکس لگانے کا اعلان مارکیٹ میں قیمتوں میں فوری اضافے کا باعث ضرور بن جاتا ہے، جیسا کہ سیمنٹ سے لے کر دہی دالیں، سگریٹ، موبائل، انٹرنیٹ، دودھ، چینی حتی کہ پھل اور سبزیاں بھی سب مہنگے ہو چکے ہیں۔ ڈار صاحب اسلام آباد کے ٹھنڈے آفس میں بیٹھ کر یہ فرمان جاری کر رہے ہیں کہ کسی کو قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسحاق ڈار تو عوام پر ستم ڈھا کر بھی غصہ کر رہے ہیں گویا بے حسی کی کیفیت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مارنے کے بعد رونے بھی نہیں دینا کی حکمت عملی نافذ کر دی گئی ہے، پی ٹی آئی کو مبارک ہو کہ اسحاق ڈار کے موجودہ بجٹ نے وہ کام کر دکھائے جو وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود نہیں کر سکتی تھی۔ پارلیمینٹ کی سب جماعتیں پی ٹی آئی کے خلاف متحد تھیں، مگر اب مسلم لیگ (ن)بجٹ کے بعد بالکل تنہا ہو گئی ہے۔ کسی ایک بڑی جماعت نے بھی اس بجٹ کی حمایت نہیں کی، البتہ وہ لوگ اس کی حمایت ضرور کر رہے ہیں، جن کے حکومت کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کو شاید بجٹ پاس کرانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے، کیونکہ اس کی ایوان میں اکثریت ہے، مگر اخلاقی و سیاسی طور پر یہ بجٹ اُس کے لئے واٹر لو ثابت ہوا ہے۔ جب پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن آصف علی زرداری بھی اس بجٹ کی مخالفت پر اُتر آئیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ سیاسی طور پر اس بجٹ نے موجودہ حکومت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ آصف علی زرداری کبھی غصے میں نہیں آئے، مگر ان باتوں سے لگ رہا ہے کہ اس بجٹ نے اُن کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے یہ سب کچھ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے کیا ہے، عملاً وہ حکومت کے پہلے بھی ساتھ تھے اور اب بھی اس بجٹ کو پاس کرانے میں پورا پورا ساتھ دیں گے۔ ممکن ہے، ایسا ہو لیکن ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے بجٹ کو مسترد کر دینا بھی حکومت اور بجٹ بنانے والوں کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ اس سے حکومت کی معاشی سطح پر ناکامی کا تاثر اُبھرتا ہے، جو موجودہ حالات میں کہ جب حکومت ہر محاذ پر ناکام نظر آتی ہے، ایک بڑا سیاسی جھٹکا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت کاروباری طبقے کو ہر بار ریلیف دیتی ہے، اس بار بھی دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ لاہور کے تاجر خاص طور پر اس بجٹ کو مثالی قرار دے رہے ہیں۔ یہاں جس بندے کو ٹیکس سے استثنٰا دے دیا جائے، وہ بجٹ کو مثالی کہنے لگتا ہے۔ حکومت ے سروسز کے ہر چھوٹے بڑے کام پر تو ٹیکس لگا دیا ہے، مگر بڑے تاجروں پر براہ راست کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ روزانہ ایک کروڑ کی سیل کرنے والے بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ صرف جی ایس ٹی دیتے ہیں انکم ٹیکس نہیں، کیونکہ جی ایس ٹی عوام کی جیبوں سے نکلتا ہے، انکم ٹیکس پلے سے دینا پڑتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت دکانیں بند ہونے سے ڈرتی ہے۔ اُسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا کر وہ ان کی بد دعائیں لے رہی ہے۔ اسحاق ڈار تو صرف پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال پر غصے میں آ گئے ابھی تو اُنہیں اسمبلی میں اس بجٹ پر اپوزیشن کی کڑوی کسیلی باتوں کو سننا ہے، کیا وہاں بھی وہ سپیکر سے کہیں گے کہ فلاں ممبر کو اسمبلی سے باہر پھنکوا دیں۔ آپ ایک سال کے لئے لوگوں کی معاشی زندگی کے فیصلے کرتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ جو کچھ کریں اسمبلی میں موجودہ ہمنواؤں کی طرح لوگ داد و تحسین کے لئے ڈیسک بجائیں یا تالیاں پیٹیں۔ آپ بجٹ میں عوام دشمن فیصلے کریں اور بجٹ کو عوام دوست قرار دیں۔ عوام کو عملاً مہنگائی کے سپرد کر کے محض اعداد و شمار کے ذریعے ترقی و خوشحالی کے دعوے فرمائیں، پھر یہ توقع بھی کریں کہ کوئی آپ کی طرف انگلی بھی نہ اُٹھائے۔ اسحاق ڈار صاحب ایسا تو آمروں کے ادوار میں بجٹ پیش کرنے والے وزراء خزانہ بھی نہیں کرتے تھے۔ آپ نے جو کرنا تھا کر دیا، اب اگر کوئی بجٹ کی کند چھری سے ذبح ہونے والا اپنی بھڑاس نکالتا ہے تو اُسے نکالنے دیں۔ اُس پر غصہ نہ کریں، کیونکہ عوام بھی غصے سے بھرے بیٹھے ہیں، کہیں آپ کی دیکھا دیکھی وہ بھی غصہ نکالنے کی راہ پر نہ چل نکلیں، ایسا ہوا تو بہت کچھ اس غصے کے سیلاب میں بہہ جائے گا۔

مزید : کالم