چارٹر آف اکانومی کی تجویز:سیاسی جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ

چارٹر آف اکانومی کی تجویز:سیاسی جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بجٹ کی آڑ میں موبائل فون، دودھ، گھی، کھاد سمیت کسی چیز کی قیمت نہیں بڑھنے دی جائے گی، بجٹ غریب دوست ہے، اس میں غریبوں کے لئے بہت کچھ ہے، بجٹ کو امیر نواز کہنا انتہائی ناانصافی ہے، اس میں عام لوگوں بالخصوص غریبوں کے لئے مراعات کا اعلان کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال میں25لاکھ افراد کو روزگار ملے گا، اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں انہوں نے بہت سی باتوں کی وضاحت کی، جو نہ جانے کس طرح الیکٹرانک میڈیا اور پریس میں جگہ پا گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا دودھ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، البتہ ڈبے کے دہی پر ٹیکس لگایا گیا ہے، اُن کا خیال تھا 90روپے(نصف کلو سے بھی کم) کا دہی کھانے والا دو چار روپے خزانے میں بھی دے سکتا ہے۔اِسی طرح70ہزار روپے کا موبائل فون خریدنے والا بھی 300 روپے خزانے میں دے سکتا ہے، انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ کم ازکم پنشن 6000روپے ہے اس کے برعکس دو خبر رساں ایجنسیوں نے کم از کم پنشن 13ہزار روپے کئے جانے کی خبر جاری کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل، فرنس آئل اور مٹی کے تیل پر اضافہ کیا گیا نہ گلگت بلتستان کو گندم کی سبسڈی ختم کی، بجلی کے ٹیرف میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، انہوں نے یہ پیشکش بھی کی کہ سیاسی جماعتوں سے مل کر ’’چارٹر آف اکانومی‘‘ بنانے کے لئے تیار ہیں۔

وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کے روبرو اپنی بجٹ تقریر میں جو کچھ بھی کہا، اس کی حیثیت فی الحال تجاویز کی ہے، بجٹ قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد ہی نافذہو گا، اس لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں، جن کی قومی اسمبلی میں نمائندگی موجود ہے، وہ بجٹ پر جو نکتہ چینی کر رہے ہیں اور اسے امیر نواز ہونے کی بنا پر مسترد کر رہے ہیں وہ اپنی متبادل تجاویز بھی قومی اسمبلی میں پیش کریں، ماضی میں اپوزیشن کی بعض تجاویز منظور بھی ہوتی رہی ہیں،جن جماعتوں نے شیڈو بجٹ پیش کیا ہے، وہ اگر محض زبانی جمع خرچ نہیں ہے تو پھر یہ سب تجاویز قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت کواپنی پیش کردہ تجاویز پر نظرثانی کا موقع مل جائے گا اور اگرکوئی جماعت بہتر متبادل تجاویز پیش کرتی ہے تو حکومتی جماعت کا فرض ہے کہ وہ ان پر ٹھنڈے دل سے غور کرے، مثال کے طور پر عمران خان کا مطالبہ یہ ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ 15فیصد ہونا چاہئے، اس کا ایک آسان اور قابلِ عمل حل تو یہ ہے کہ جس صوبے میں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہے وہ وہاں صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہ15کیا30فیصد بھی بڑھا سکتے ہیں، اس عملی مثال کا ایک فائدہ تو ہو گا کہ وفاقی حکومت کو نظر آ جائے گا کہ تنخواہیں زیادہ بھی بڑھائی جا سکتی ہیں، اس طرح حکومت اخلاقی طور پر دباؤ بھی محسوس کرے گی۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس بہت سے ایسے اختیارات موجود ہیں، جو ترمیم سے پہلے اُن کے پاس نہیں تھے، اس لئے اگر عمران خان تنخواہوں پر15فیصد اضافے کو قابلِ عمل سمجھتے ہیں اور خالی خولی نعرہ نہیں لگا رہے تو ان کے پاس اپنے خلوص کے عملی اظہار کا موقع بھی ہے اور میدان بھی، اُن کی جماعت کے وزیراعلیٰ اپنے صوبے (خیبرپختونخوا) میں تنخواہیں بڑھا کر مثال پیش کر سکتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو بھی زیادہ تنخواہوں کا معاملہ قومی سمبلی میں لائیں، دلائل دیں اور یہ بھی بتائیں کہ اس طرح تنخواہیں بڑھنے کی صورت میں خزانے پر جو بوجھ پڑے گا اس کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے، کیونکہ اندرونی وسائل سے جو وصولیاں ہوں گی، اُن سے تو تین بڑی بڑی مدآت میں رقم خرچ ہو جائے گی، تحریک انصاف نے اپنا شیڈو بجٹ بھی پیش کر رکھا ہے، وہ اس دستاویز کو بھی قومی اسمبلی میں لے کر آئے اور اس کی روشنی میں ٹھوس قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔ ایم کیو ایم بھی گزشتہ کچھ برسوں سے شیڈو بجٹ پیش کرتی چلی آ رہی ہے اسے بھی اپنی تجاویز سمیت قومی اسمبلی میں آ کر اس معاملے پر بحث کرنی چاہئے تاکہ کم از کم یہ تو ثابت ہو کہ وہ اپنی تجاویز میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

اسحاق ڈار نے ’’چارٹر آف اکانومی‘‘ کی جو تجویز پیش کی ہے اس پر بھی قومی اسمبلی میں بحث ہو سکتی ہے اور تمام جماعتیں اپنی اپنی تجاویز کے ساتھ بحث کے بعد کسی ایسے میثاق پر متفق ہو سکتی ہیں، جس کی روشنی میں آئندہ بجٹ میں تمام متفقہ باتیں شامل کی جا سکتی ہیں، مثلاً بجٹ پر بحث کے دوران ایسے نکات طے کئے جا سکتے ہیں، جو متفقہ ہوں اور جن پر کسی جماعت کو اعتراض نہ ہو۔ ایسے بہت سے نکات نکل آئیں گے، ان متفقہ نکات کو اگلے بجٹوں میں مشعلِ راہ بھی بنایا جا سکتا ہے، اس کے بعد اختلافی نکات پر بھی کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے، مثلاً حکومت نے اگر دہی کے ڈبے پر ٹیکس لگایا ہے تو اُسے یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے کہ ڈبے کا دہی صرف امیروں کی خوراک نہیں ہے، متوسط اور بعض اوقات غریب طبقے کے لوگ بھی اسے استعمال کرتے ہیں، اس لئے حکومت اس طرح چند لاکھ یا چند کروڑکا ٹیکس جمع کر کے امیر نہیں ہو جائے گی اور نہ اُس کے شاہانہ اخراجات اس طرح پورے ہوں گے۔ بنیادی اشیائے خوراک پر ٹیکس ویسے بھی اچھی گورننس نہیں سمجھا جا سکتا ہے،دُنیا کے بہت سے ممالک تو ایسے ہیں جہاں بچوں کے دودھ کے اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے اور محدود تعداد میں خوراک کی خریداری کے لئے فوڈ سٹیمپس کا رواج بھی ہے، فلاحی مملکتوں میں تو سوشل سیکیورٹی کے نام پر نقد رقوم بھی دی جاتی ہیں، اس لئے حکومت کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ دہی اور پنیر پر ٹیکس لگانے کی بجائے اپنے شاہانہ اخراجات میں تھوڑی بہت کمی کر لے اور شو شا کے جو بڑے بڑے اقدامات کئے جاتے ہیں وہاں سے کچھ بچت کر لی جائے تودہی اور پنیر پر نظرِ کرم کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ بہتر یہ ہے حکومت دہی کے ڈبے پر ٹیکس واپس لے لے۔ہم نے اِن کالموں میں پہلے بھی عرض کیا ہے کہ ٹیکس کی بنیاد وسیع کئے بغیر حکومت کے لئے اپنے وسائل بڑھانا آسان نہیں ہے، جو ٹیکس اس وقت اندرونِ مُلک سے جمع ہوتا ہے اس کا کم از کم دو گنا ٹیکس جمع ہو جانا چاہئے اور ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ بشرطیکہ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے اپنے آپ کو بدلیں اور لوگوں کو رضا کارانہ طور پر ٹیکس دینے پر آمادہ کریں۔ اگر وہ مک مکا کر کے اپنی جیبیں بھریں گے تو سرکاری خزانہ نہیں بھر سکے گا۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت سے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ اس لئے جن جماعتوں کی صوبوں میں حکومتیں ہیں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے منشورکے مطابق عوام کی خدمت کریں لیکن ایسے لگتا ہے کہ بعض صوبوں کو ابھی تک اعتبار نہیں آ رہا کہ اُنہیں یہ اختیار ات مل چکے ہیں یا پھر بعض سیاست دانوں کو ابھی تک خبر نہیں ہوئی کہ تعلیم اور صحت جیسے شعبے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہیں اور یہ حکومتیں جتنے چاہیں فنڈز ان شعبوں کے لئے رکھ سکتی ہیں، اُنہیں کسی نے نہیں روکا، اصل بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اب وفاق کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے فنڈز خود جنریٹ کر کے اپنے صوبوں کو ترقی دینی چاہئے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت گزشتہ ایک سال سے 350چھوٹے ڈیم بنانے کا غلغلہ بلند کر رہی ہے، وہ اگر ایسے ’’ڈریم ڈیم‘‘ بنانا شروع کر دے تو وفاق کی امداد کی امید بھی رکھ سکتی ہے، لیکن اپنے وسائل سے اس نیک کام کا آغاز کر تو دینا چاہئے۔ اِسی طرح کسی صوبائی حکومت کو وفاق نے یونیورسٹیاں، کالج، سکول اور ہسپتال بنانے سے تو نہیں روکا، وہ جتنا چاہیں بجٹ اپنے صوبوں میں اس کام کے لئے مختص کر دیں، پنجاب میں دانش سکولوں کو ہدف ِ تنقید بنانے والے اپنے ہاں کوئی متبادل سسٹم بنا کر دکھائیں کہ جس کی دوسرے بھی پیروی کر سکیں۔ اچھی اور قابل ِ تقلید مثالیں قائم کر کے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

مزید : اداریہ