آئندہ مالی سال کیلئے 4,313 ارب روپے کے محصولات اور 4,089 ارب روپے کے اخراجات کا حامل قومی بجٹ !

آئندہ مالی سال کیلئے 4,313 ارب روپے کے محصولات اور 4,089 ارب روپے کے اخراجات کا ...

کامرس رپورٹر

بجٹ خسارہ 5 فیصد سے کم کرکے 4.3 فیصد تک لایا جائے گا، افراط زر کی شرح 11 سال کی کم ترین سطح پر

سرکاری ملازمین کو آئندہ مالی سال سے رواں بنیادی تنخواہ پر ساڑھے سات فیصد ایڈہاک ریلیف اور 2011ء اور 2012ء کے ایڈہاک اضافوں کو بنیادی سکیل میں ضم کرنے کی تجویز ہے

وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں یکم جولائی 2015ء سے 7.5 فیصد اضافہ کیا جائے گا

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے میڈیکل الاؤنس میں بھی 25 فیصد اضافہ

سیکیورٹی کی صوتحال کو مدنظررکھتے ہوئے دفاعی بجٹ کو اگلے سال 11 فیصد بڑھا کر 780 ارب روپے کر دیا جائے گا

آئندہ مالی سال کیلئے 4,313 ارب روپے کے مجموعی مالی محصولات اور 4,089 ارب روپے کے اخراجات کا حامل قومی بجٹ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیاہے ، بجٹ خسارے کو رواں 5 فیصد سے مزید کم کرکے 4.3 فیصد تک لایا جائے گا، افراط زر کی شرح 11 سال کی کم ترین شرح ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کو آئندہ مالی سال سے رواں بنیادی تنخواہ پر ساڑھے سات فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دینے اور 2011ء اور 2012ء ایڈہاک اضافوں کو بنیادی سکیل میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں یکم جولائی 2015ء سے 7.5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے میڈیکل الاؤنس میں بھی 25 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی کی صوتحال کو مد نظررکھتے ہوئے دفاعی بجٹ کو اگلے سال 11 فیصد بڑھا کر 780 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کا مجموعی ٹیکسوں میں حصہ اضافے کے ساتھ 1,849 ارب روپے ہے جو گذشتہ سال کے نظرثانی شدہ 1575 ارب روپے کے مقابلے میں 17.4 فیصد زیادہ ہے جبکہ وفاقی حکومت کے پاس باقی ماندہ وسائل 2,463 ارب روپے رہ جائیں گے جو کہ گذشتہ سال کے 2,378 ارب روپے سے3.6 فیصد زیادہ ہے۔ رواں اخراجات کا تخمینہ برائے سال 2015-16ء ، 3,128 ارب روپے ہے جب کہ 2014-15ء کے نظرثانی شدہ تخمینہ جات 3151 ارب روپے ہیں، یعنی ان اخراجات میں کمی ہو رہی ہے۔ تاہم ہم نے سیکیورٹی کی صوتحال کو مد نظررکھتے ہوئے مسلح افواج کی ضروریات کا خیال رہا ہے اور 2014-15 کے 700 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کو اگلے سال بڑھا کر 780 ارب روپے بڑھا دیا ہے جو کہ 11 فیصد کا اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی پذیر معیشت کی سرمایہ کارانہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پی ایس ڈی پی کیلئے 2014-15ء میں 542 ارب کے مقابلے میں 2015-16 میں 29 فیصد اضافے کے ساتھ 700 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس میں سیکیورٹی میں اضافے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام اور عارضی نقل مکانی کرنے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کی باعزت واپسی اور اُن کے علاقوں کی تعمیرِ نو شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم 2014-15ء میں بجٹ خسارے کو کم کر کے 5 فیصد تک لے آئے ہیں، 2015-16 میں ہمارا ہدف اسے مزید کم کرکے 4.3 فیصد تک لانے کا ہے۔ سال 2015-16ء کیلئے وفاقی خسارے کا تخمینہ 1625 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ گذشتہ برس یہ خسارہ 1524 ارب روپے تھا۔ صوبوں کی جانب سے 297 ارب روپے کے سرپلس کے بعد 2015-16ء کا خسارہ 1328 ارب روپے رہ جاتا ہے جو گذشتہ سال کے نظر ثانی شدہ 1383 ارب روپے کے خسارے سے کم ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی حلقوں میں یہ قیاس آرائی تھی کہ پاکستان 2014 میں ڈیفالٹ کر جائے گا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر مذکورہ تاریخ تک ہونے والی ادائیگیوں کو دیکھتے ہوئے اس اندازے کا کافی جواز تھا۔ چونکہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر چکے تھے اس لیے عالمی وسائل کی آمد تو مکمل طور پر بند ہو گئی تھی اور ذخائر کا خاتمہ صاف نظر آ رہا تھا۔ تاہم ہم نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ ان معاشی پنڈتوں کو واضح طور پر غلط ثابت کریں گے۔ اور قوم نے دیکھا کہ پاکستانی معیشت کی ڈولتی کشتی اب محفوظ کناروں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2013 میں ہمارے سامنے تین مقاصد پر مشتمل ایک واضح روڈ میپ تھا جو پاکستان کو 2014 میں ڈیفالٹ سے بچانا، جون 2015 تک کلی اقتصادی استحکام حاصل کرنا اور تیسرے سال سے ایک ایسی ترقی کو فروغ دینا جس سے روزگارکے مواقع پیدا ہوں، عوام کے سارے طبقوں کی شرکت ہو اور غربت میں کمی کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پالیسیاں تشکیل دیں اور پروگرام بنائے۔ ہم نے کبھی بھی ایسے مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی جو معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر تھے۔نتیجتاً پاکستان کی معیشت سنبھل چکی ہے اورملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔ وزیر خزانہ نے موجودہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ 2014-15ء میں شرح نمو کی عبوری شرح 4.24 فیصد رہی۔ گذشتہ برس کی 4.03 فیصد شرحِ ترقی کے مقابلے میں یہ ترقی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ شرح گذشتہ 7 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سال ترقی کی شرح کا ہدف 5.1 فیصد تھا جو سیلاب، سیاسی احتجاج کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں تعطل، اشیاء کی عالمی منڈی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر وجوہات کی بناء پر حاصل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ فی کس آمدنی 9.3 فیصد کے اضافے سے 1512 ڈالر فی کس ہوگئی ہے۔ افراط زر کی شرح جو 2008-13ء میں اوسطً 12 فیصد رہی جولائی۔مئی 2014-15ء میں 4.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور جو 11 سال کی کم ترین شرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ریونیو میں 2012-13 میں 3 فیصد کے مقابلہ میں 2013-14 میں 16.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔ موجودہ سال کے پہلے 11مہینوں میں ان میں مزید 13 فیصد اضافہ ہوا ہے اور امیدہے کہ موجودہ مالی سال میں15فیصداضافہ حاصل ہو گا۔ مالیاتی خسارہ جون 2013 میں نئی حکومت کو 8.8 فیصد کے خسارے کا سامنا تھا۔ جسے صرف چند ہفتوں میں کم کر کے 8.2 فیصد کیا گیا۔ اگلے مالی سال یعنی 2013-14 میں حکومت نے مالیاتی خسارے کو مزید کم کر کے 5.5 فیصد تک محدود کر دیا۔ جبکہ رواں مالی سال میں خسارے کا ہدف 5 فیصد ہے۔ جسے ہم ’انشاء اللہ‘ حاصل کر لیں گے۔

وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو آئندہ مالی سال سے رواں بنیادی تنخواہ پر ساڑھے سات فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دینے اور 2011ء اور 2012ء ایڈہاک اضافوں کو بنیادی سکیل میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں یکم جولائی 2015ء سے 7.5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے میڈیکل الاؤنس میں بھی 25 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، تنخواہ، پنشن اور الاؤنس میں اضافے پر تقریباً46 ارب روپے کا اضافی خرچ آئے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہ و مراعات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی مالی مشکلات سے باخبر ہے۔ ماضی کی روایت کے مطابق حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے افراط زر اور مالیاتی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات دیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں جو فیصلے کئے ان کے مطابق تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کو یکم جولائی 2015ء سے رواں بنیادی تنخواہ میں کمیٹی کی سفارش جو کہ 5 فیصد ایڈہاک اضافہ کی تھی، کی بجائے 7.5 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا جبکہ 2011ء اور 2012ء کے ایڈہاک اضافہ جات کو پے سکیلز میں ضم کیا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین کے میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ گریڈ 5 کے ملازمین کو ایک پیشگی انکریمنٹ دی جائے گی جو کہ پچھلے سال صرف گریڈ 1سے 4 تک کے ملازمین کو دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ یکم جولائی 2015 سے وفاقی حکومت میں کام کرنے والے Ph.D/D.Sc ڈگری کے حامل ملازمین کو 10 ہزار روپے ماہانہ Ph.D الاؤنس دیا جائے گا۔ یہ الاؤنس پہلے سے موجودہ سائنس و ٹیکنالوجی الاؤنس 7500 روپے ماہانہ اور پی ایچ ڈی الاؤنس 2250 روپے کی جگہ لے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سینئر پرائیویٹ سیکرٹری، پرائیویٹ سیکرٹریز، اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریز کی خصوصی تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اردلی الاؤنس اور خصوصی اضافی پنشن کو بھی بڑھا کر 12000 روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی طرز پر مزدور طبقے کی بہبود کے لیے کم سے کم اجرت کی شرح کو 12000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 13000 روپے ماہانہ کیا جار ہا ہے۔ پنشن یافتہ ملازمین کیلئے کئے گئے اقدامات کے مطابق وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں یکم جولائی 2015 سے 7.5 فیصد اضافہ اور میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کیاجا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیوہ/طلاق یافتہ بیٹی کے لیے تاحیات یا دوبارہ شادی کرنے تک یکم جولائی 2015 سے پنشن کے دائرہ کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مقرر کردہ وقت کے بعد پنشن کی کمیوٹڈ ویلیو کے دستبردار شدہ حصہ کی بحالی کی پالیسی کا دوبارہ نفاذ کیا جا رہا ہے۔ پنشنرز اور بزرگ شہریوں کے نیشنل سیونگز کی بہبود اسکیم کی سرمایہ کاری کی بالائی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 40 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2