ورکرز کنفیڈریشن کا اجلاس

ورکرز کنفیڈریشن کا اجلاس

لاہور(جنرل رپورٹر)آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن (رجسٹرڈ) نے ایک ہنگامی اجلاس میں وفاقی بجٹ کو محنت کشوں اور غریب عوام کے جائز اقتصادی وسماجی مسائل حل کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ایک قرار داد کے ذریعے وفاقی وزیر خزانہ نے صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان کے اخراجات میں مزید اضافہ کے لئے بجٹ مخصوص کی تجویز کے مقابلے میں لاکھوں سرکاری ، نیم سرکاری اور وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں صرف ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا ہے جوکہ اْونٹ کے منہ میں زیرہ ہے اسی طرح صنعتی کارکنوں کی اس کمر توڑ مہنگائی میں مبلغ ایک ہزار روپے کا قلیل اضافہ کیاگیا ہے جبکہ پنجاب اسمبلی ممبران کے اربوں روپے اور زمینوں کے مالک جاگیرداروں و سرمایہ داروں کے موجودہ مہنگائی کے پیش نظر 100 فیصد ماہانہ الاؤنسز میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اْنہوں ایک قرار داد میں اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ ملک کے جاگیردار وں ، سرمایہ داروں اور اسمبلیوں کے ارب پتی ارکان سے حکومت ٹیکس وصول کرنے کی بجائے اس سال ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ کی بجائے 7.2 فیصد کمی ہوئی ہے اور بجلی وپانی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معمولی رقم مختص کی گئی ہے جن کی قومی بنیادی ضروریات اور قومی تعمیروترقی میں انجن کی حیثیت ہے ایک قرارداد میں وزیراعظم پاکستان سے پْرزور مطالبہ کیاگیا کہ وہ کارکنوں کی اْجرتوں، بڑھاپے کی پنشن میں مہنگائی کے پیش نظرپچاس فیصد اضافہ کریں ملک کے جاگیرداروں وسرمایہ داروں پر ٹیکس عائد کرکے عوام کو سستی بجلی دیں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے جلد خاتمہ کے لئے کم ازکم 300 ملین روپے مخصوص کیئے جائیں اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی کی نجکاری اور اس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیاجائے اس اجلاس کو بزرگ مزدور راہنماء خورشیداحمد جنرل سیکرٹری کنفیڈریشن ہذا ، روبینہ جمیل صدر، چوہدری محمد انور، یوسف بلوچ، اکبر علی خان، نیاز خان اور اْسامہ طارق نمائندگان کنفیڈریشن نے خطاب کیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1