حزب اللہ نے شامی جنگجو بھیجنے کا فیصلہ واپس لے لیا

حزب اللہ نے شامی جنگجو بھیجنے کا فیصلہ واپس لے لیا

بیروت ( آن لائن ) حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے شام سے متصل قصبے عرسال میں اپنے جنگجو بھیجنے کے ساتھ ساتھ مقامی قبائل کو منظم کرنے کا اعلان واپس لے لیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسن نصراللہ نے کہا کہ لبنانی فوج عرسال میں امن وامان کے قیام کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے الھرمل قبیلے اور دوسرے جنگجوؤں کو وہاں پر منظم ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل حزب اللہ نے عرسال قصبے میں اپنے حامی قبیلے الھرمل کے جنگجوؤں سمیت اپنی تنظیم کے جنگجو بھیجنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ انہوں نے لبنان میں عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کی طرز پر نیا لشکر تشکیل دینے کا فیصلہ بھی اس کے مضمرات کے پیش نظر واپس لے لیا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار کے دھمکی آمیز بیان کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی صورت میں جنوبی لبنان کے مقامی لاکھوں شہریوں کو نہیں بلکہ مسلح مزاحمت کے نتیجے میں ڈیڑھ ملین اسرائیلیوں کو علاقے خالی کرنا ہوں گے۔یاد رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدارنے دھمکی آمیز بیان میں کہا تھا کہ اگر حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی ہوتی ہے تو جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے ڈیڑھ ملین افراد نقل مکانی کرنے پرمجبور ہوسکتے ہیں۔ اس بیان کے جواب میں حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ھمارے لوگ نہیں بلکہ اسرائیلی اپنے علاقوں سے نکلنے پرمجبور ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے اور دشمن کی قیادت اور صہیونی بہ خوبی جانتے ہیں کہ جنگ ہوئی تو انہیں اس کے کتنے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ہم جنگ سے متعلق تمہاری گیڈر بھبکیوں سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ اگردشمن یہ سمجھتا ہے کہ حزب اللہ شام میں مصروف ہے اس لیے کمزور ہوچکی ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ صہیونی دشمن کے ساتھ ہماری طاقت میں کوئی کوئی کمی نہیں آئی اور کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔

مزید : عالمی منظر