وادی بھر میں بھی سکھ سراپا احتجاج،شمال و جنوب میں جلسے جلوس

وادی بھر میں بھی سکھ سراپا احتجاج،شمال و جنوب میں جلسے جلوس

سری نگر(کے پی آئی) جموں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں سکھ نوجوان کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات اور قصوروار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا سکھوں کی ایک بڑی تعداد لالچوک میں گردوارے کے سامنے جمع ہوئی اور جموں میں پولیس فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا کے پوسٹرلئے احتجاجیوں نے بھارتی اور ریاستی سرکار کے خلاف نعرہ بازی کی۔اس موقعہ پر مظاہرین نے پتلے نذر آتش کئے اور کئی گھنٹوں تک احتجاج کرنے کے بعد پریس کالونی تک مارچ کیا ۔پریس کالونی میں احتجاجی سکھوں نے خالصہ زندہ باد ،قاتل کو پیش کرو ،راج کرے گا خالصہ کے نعرے لگاتے ہوئے مظاہرے کئے اور مانگ کی کہ جموں میں پیش آئے واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات کی جائے اور اس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔اس موقعہ پر سکھ کارڈی نیشن کمیٹی چیئرمین جگ موہن سنگھ رینہ نے کہا کہ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالاایک عظیم شخصیت تھے۔

اور گذشتہ کئی برسوں سے ان کی یاد میں تقریبات منعقد ہورہی ہیں اور اسی تناظر میں جموں میں اس کے پوسٹر لگائے گئے تھے تاہم پولیس نے پوسٹروں کو ہٹایا جس سے سکھوں کے دل مجروح ہوئے اور اس کے خلاف پرامن احتجاج کیا ۔انہوں نے کہا کہ بعد میں انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا کہ پوسٹر دو بارہ لگا دئے جائیں گے لیکن کچھ پولیس اہلکاروں نے اشتعال دینے کی غرض سے جان بوجھ کر دو بارہ پوسٹروں کو ہٹا دیا۔رینہ نے کہا کہ اس کے بعد سکھوں نے احتجاج کیا اور اس کی تحقیقات کی مانگ کی تاہم پولیس نے پرامن احتجاجیوں پر نشانہ باندھ کر گولیاں چلائیں جس سے ا یک نوجوان کی موت واقع ہو گئی جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے اور ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جنہوں نے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائیں ۔رینہ نے کہا کہ بھنڈرانوالا کے پوسٹر ہر سال لگائے جاتے ہیں اور سکھ فرقے کے لوگ اس کے پوسٹر گاڑیوں پر بھی چڑھاتے ہیں تاہم ان کے بقول امسال پولیس نے ماحول کو بگاڑ دیا اور بعد میں پرامن احتجاجیوں پر گولیاں چلائیں ۔پریس کالونی میں کچھ دیر تک پولیس ،بی جے پی اور مرکزی و ریاستی سرکار کے خلاف کچھ دیر تک نعرہ بازی کرنے کے بعد مظاہرین پرامن طور منتشر ہوئے ۔اس دوران کئی سیاسی لیڈروں نے سکھ احتجاجیوں پر تشدد کرنے اور اسکے نتیجے میں ایک سکھ نوجوان کی جان چلی جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جنوبی کشمیر میں متعدد مقامات پر واقعے کے خلاف زبردست احتجاج کر کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ سب سے بڑے سکھ آبادی والے علاقے ترال کے تمام چھوٹے بڑے دیہات سے سکھ فرقے کے نوجوانوں نے گاڑیوں کے چھتوں پر سوار ہو کر جلوس کی صورت میں اونتی پورہ میں قائم گردوارہ کے باہر مظاہرے کر کے سرینگر جموں قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر کچھ وقت کے لئے گاڑیوں کی آمدرفت روک دی۔ مظاہرین جموں پولیس کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ سیموہ ترال سے تعلق رکھنے والے مقامی سکھ لیڈر جوگندر سکھ سیٹھی نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔اندر ناگ شیر باغ اننت ناگ میں شام کے وقت سکھ نوجوان جمع ہوئے اور انہوں نے جموں واقعہ کے خلاف احتجاج کیا اور جلوس نکال کر نعرے بازی کی۔الطاف بابا نے بارہمولہ سے اطلاع دی ہے کہ سینکڑوں سکھ نوجوان نانک بھون بارہمولہ میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے کافی دیر تک جموں واقعہ کے خلاف احتجاج کیا۔سکھ نواجون مشعتل بھی ہوئے اور انہوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر کچھ وقت کے لئے ٹریفک کی آمد رفت بھی مسدود کی تاہم بعد میں وہ پر امن طور پر منتشر ہوئے۔

مزید : عالمی منظر