گلگت بلتستان میں الیکشن آج ہونگے ،فوجی افسروں کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات تقویض

گلگت بلتستان میں الیکشن آج ہونگے ،فوجی افسروں کو مجسٹریٹ درجہ اول کے ...

 گلگت(اے این این) گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن آج ہونگے،پولنگ فوج کی نگرانی میں ہوگی،فوج کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اخیتارات حاصل ہونگے،گڑ بڑ پر کسی بھی شخص کو موقع پر سزا دی جا سکے گی،انتخابی سامان کی ترسیل کا کام مکمل،فوجی جوان تمام پولنگ اسٹیشنز پر پہنچ گئے،علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات،سول لائن میں کنٹرول روم قائم،پولیس اور رینجرز کا مشترکہ فلیگ مارچ۔تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات (آج) پیر کو ہوں گے ، انتخابی سامان کی ترسیل کا کام مکمل ، پولنگ اسٹیشنز پر فوج تعینات کر دی گئی ، 24نشستوں پر 267امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں کیلئے 7 اضلاع کے عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔ نئی مردم شماری اور نادرا ریکارڈ کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 6 لاکھ 18 ہزار 364 ہے، جن میں 3 لاکھ 29 ہزار 475 مرد ووٹرز اور 2 لاکھ 88 ہزار 889 خواتین ووٹرز شامل ہیں ۔ اسمبلی کی 24 نشستوں کا انتخاب 7 اضلاع سے کچھ اس طرح ہوگا۔ضلع گلگت سے 3 نمائندوں کا انتخاب ہوگا، ہنزہ نگر کی بھی 3 نشستیں ہیں۔ ضلع اسکردو سے سب سے زیادہ اراکین اسمبلی منتخب ہونگے، جن کی تعداد 6 ہوگی۔ ضلع استور سے 2، ضلع دیامر سے 4 اراکین کا انتخاب ہوگا۔ ضلع غذر اور گانچھے کے عوام اپنے 3،3 نمائندوں کا انتخاب کرینگے۔ الیکشن کمیشن نے فوج کی نگرانی میں الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے فوج کے جوان تما م پولنگ اسٹیشنز پر پہنچ چکے ہیں۔فوج کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دئیے گئے ہیں کسی گڑ بڑ کی صورت میں فوجی افسر کسی کو بھی موقع پر قید اور جرمانے کی سزا سنانے کا مجاز ہو گا۔فوج کو پولیس اور مقامی انتظامیہ کی مدد بھی حاصل ہو گی۔پولنگ کے لئے صبح8سے شام 5بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے اس دوران کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کیلئے سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں ۔ 7 اضلاع کے 24 انتخابی حلقوں میں پاک فوج کے 5500 جوان سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے ۔ پاک فوج کی معاونت کیلئے 4200 پولیس اہلکاروں سمیت رینجرز اور گلگت بلتستان سکاؤٹس بھی موجود ہوں گے ۔ آئی جی گلگت بلتستان ظفر اقبال اعوان کا کہنا ہے الیکشن کے شفاف انعقاد کے لیے 4 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات ہوں گے ۔ گلگت میں پولنگ کے دوران امن و امان یقینی بنانے کیلئے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم کر دیا گیا جہاں سے 112 جدید سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی ۔ سکردو اور گلگت میں پاک فوج ، پولیس اور رینجرز کے جوانوں نے فلیگ مارچ کیا ، سیکورٹی اہلکاروں کے چاق و چوبند قافلے میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی شامل تھیں ۔گلگت بلتستان کے الیکشن کے لئے مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف تمام حلقوں میں امیدوار وں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 22 نشستوں پر ٹکٹ جاری کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مجلس وحدت المسلمین نے 15، آل پاکستان مسلم لیگ 13، تحریک اسلامی 12 ، جمعیت علما اسلام (ف)10،پاکستان عوامی تحریک 7 ،جماعت اسلامی نے 6 نشستوں پر ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ ، سنی اتحاد کونسل،عام آدمی پارٹی اور گلگت بلتستان قومی موومنٹ نے بھی چند حلقوں میں اپنے امیدوار وں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں ۔ قوم پرست جماعت بالاورستان نیشنل فرنٹ کی رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث اس جماعت کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد انتخابی دنگل میں موجود ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 267 امیدوار میدان میں ہیں۔گلگت بلتستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ، اب 2015کے انتخابات ہونے جارہے ہیں انتخابات کے نتائج کیا ہوتے ہیں حکومت کس کی بنتی ہے اور وہ حکومت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین سمیت عوام کے ساتھ کیے گئے، وعدوں اور دعووں کو عملی جامہ پہنانے میں کتنی بااختیار اور کس حد تک کامیاب ہوتی ہے یہ سب کچھ نئی صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد آہستہ آہستہ عیاں اور واضح ہو

مزید : صفحہ اول