سائنسدان نے تحقیقی مقالے میں محبوبہ کو شادی کا پیغام لکھ بھیجا

سائنسدان نے تحقیقی مقالے میں محبوبہ کو شادی کا پیغام لکھ بھیجا
سائنسدان نے تحقیقی مقالے میں محبوبہ کو شادی کا پیغام لکھ بھیجا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

الپرٹا(ویب ڈیسک) دنیا میں بہت سے لوگ اپنی محبوبہ سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے منفرد طریقے اپناتے ہیں جس میں زیادہ تر لوگ پھولوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں لیکن کینیڈا کے ایک سائنسدان اپنے محبوبہ سے اظہار محبت کے لیے انوکھا طریقہ اپنایا اور اپنے تحقیقی مقالے میں باقاعدہ تحریری طور پر لڑکی کو شادی کی پیشکش کی جسے اس نے قبول کرلیا۔ کینیڈین سائنسدان سیلب ایم براؤن نے اپنے تحقیقی مقالے میں البرٹا میں دریا کے کنارے تقریباً 6کروڑ 80 لاکھ سال پرانے ڈائنوسار کی ہڈیاں دریافت کیں اور ٹرائی سیراٹوپس کی نسل سے تعلق رکھنے والے اس ڈائنوسار کو ’’ریگالیسیراٹوپس‘‘ اور ’’ہیل بوائے‘‘ کا نام بھی دیا جب کہ اس تحقیق کے بعد دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس محقق نے اپنے مقالے کو جب پرنٹ کے لیے بھیجا تو اس میں باقاعدہ 2 سطری تحریر بھی شامل کردی جس میں اس نے اپنی محبوبہ کو شادی کا پیغام دیا۔ ہفت روزہ سائنسی جریدے ’’کرنٹ بائیولوجی‘‘ نے اس مقالے کو اس سائنسدان کے شادی کے پیغام کے ساتھ ہی چھاپ دیاجو دنیا بھر میں تقسیم بھی ہوا جب کہ اس میں موجود محبت کے اظہار اور شادی کے پیغام نے اس کی محبوبہ کو بھی بے حد متاثر کیا اور لڑکی نے اس انداز کو نہ صرف پسند کیا بلکہ شادی کے لیے بھی رضا مندی ظاہر کی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس