دبئی میں موجود بھکارن کے پاس دراصل کتنا مال ہے ؟ جان کر آپ کو حیرت ہوگی

دبئی میں موجود بھکارن کے پاس دراصل کتنا مال ہے ؟ جان کر آپ کو حیرت ہوگی
دبئی میں موجود بھکارن کے پاس دراصل کتنا مال ہے ؟ جان کر آپ کو حیرت ہوگی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات کا شماران ممالک میں ہوتاہے جہاں فی کس آمدنی زیادہ ہے اور رمضان المبارک، لوگوں کی فطرت اور دولت کی ریل پیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی ایشیائی بھکاری بھیک اکٹھی کرنے متحدہ عرب امارات کا رخ کرتے ہیں ، ایسی ہی ایک خاتون دبئی مسجد کے قریب بھیک مانگتے ہوئے پکڑی گئی جو ایک لینڈکروزر کی مالک تھی جسے خاتون نے چند ہی میٹردور پارک کیا تھا ۔

دبئی پولیس کے لیفٹیننٹ کرنل علی الشمسی نے بتایاکہ عرب ملک سے تعلق رکھنے والی خاتون کو ایک مسجد کے قریب دیکھاگیا، بھیک اکٹھی کرنے کے بعد اٹھی ، مسجد کے گرد گھومی اور لینڈکروزر میں بیٹھ کر چلتی بنی ، ہمیں بعد میں پتہ چلاکہ یہ گاڑی اسی کی تھی ۔

ایک ایشیائی بھکاری بھی پکڑاگیا جس کے پاس ستر ہزار درہم سے زائد رقم تھی ۔پکڑے جانے پر بھکاری نے بتایاکہ یہ رقم بھیک مانگ کر اکٹھی کی گئی تھی اور رومیٹس کی طرف سے چوری کیے جانے کے خدشے پروہ اپنے ساتھ لے آیاہے جبکہ کٹے اعضاءکے ساتھ موجود خاتون سے بھی تقریباً ساٹھ ہزار درہم برآمد کرلیے گئے ۔

اخبار’امارات الیوم ‘کے مطابق ملک میں بھیک عروج پر ہے ، اب کچھ بھکاری اسطرح بن ٹھن کررہتے ہیں کہ وہ دوسروں میں شناخت نہ ہوسکیں ، کچھ خوبصورت لڑکیاں بھی اسی پیشے سے وابستہ ہیں جو مردوں کو شکار بنانے اپنے خوبصورتی کا سہارالیتی ہیں ،عمومی طورپر بھکاری مساجد ، شاپنگ سنٹرز اور گھروں سے بھیک اکٹھی کرتے ہیں ۔

یادرہے کہ دبئی میں بھیک مانگنے پر پابندی ہے لیکن پھر بھی بھکاری موجود ہیں اورقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مانگ کر کھانے پر ڈٹے ہیں اور مجبور لوگوں کیلئے بھی مزید مشکلات کا باعث بنتے ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس