انڈے کی زردی سے بانجھ پن کا علاج

انڈے کی زردی سے بانجھ پن کا علاج
انڈے کی زردی سے بانجھ پن کا علاج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برمنگھم (نیوز ڈیسک) قدرت کے کام نرالے ہیں کس کو سونا چاندی لٹا کر بھی مراد نہیں ملتی اور کسی کو بظاہر بے وقعت چیز ہی مالا مال کردیتی ہے۔ برطانیہ کی ایک خاتون کو دنیا کے جدید ترین ہسپتالوں اور ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر مایوس کردیا تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی۔لیکن سات سال بعد انڈے کی زردی نے اسے اولاد جیسی انمول نعمت عطا کردی۔

مزیدپڑھیں:موبائل پینٹ کی جیب میں ڈالنا مردوں کیلئے انتہائی خطرناک

لوسی فیزی (Lucy Phasey) کو 2007ءمیں ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اس کے جسم کا مدافعتی نظام اسے حاملہ نہیں ہونے دیتا اور ایمبریو کو نشوونما کا عمل شروع ہونے سے قبل ختم کردیتا تھا۔ اس نے ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا لیکن تین دفعہ یہ کوشش ناکام ہوئی اور ایک دفعہ اسے اسقاط حمل کی تکلیف سے بھی گزرنا پڑا۔ بالآخر اس جوڑے کے علم میں ایک دلچسپ علاج آیا۔ اس علاج میں انڈے کی زردی، سویا بین کا تیل، گلیسرین اور پانی کا آمیزہ اس کے جسم میں داخل کیا گیا اور یہ عمل دو مرتبہ حمل سے پہلے اور تین مرتبہ بعد میں کیا گیا اور بالآخر  گزشتہ برس  فروری کے ماہ میں انکے ہاں ایک پیاری سی بچی ایوی رے (Evie Ray) نے جنم لیا۔ لوسی کا کہنا ہے کہ اسے اب تک اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا اور وہ اپنے آپ کو چٹکیاں کاٹ کر تصدیق کرتی ہے کہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہی۔

مزید : تعلیم و صحت