خیبرپختونخوامیں اپوزیشن اتحادنے اے پی سی میں شرکت سے انکارکردیا،حکومت سے مستعفی ہونے کامطالبہ

خیبرپختونخوامیں اپوزیشن اتحادنے اے پی سی میں شرکت سے انکارکردیا،حکومت سے ...
خیبرپختونخوامیں اپوزیشن اتحادنے اے پی سی میں شرکت سے انکارکردیا،حکومت سے مستعفی ہونے کامطالبہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سہہ فریقی اتحاد کے سربراہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افتخار حسین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو کسی قسم کا جمہوری راستہ دینے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی دھاندلے پر بلائی جانیوالی اے پی سی میں شرکت کریں گے لہٰذا صوبائی حکومت کیلئے بہتر ہے کہ ازخود ہی مستعفی ہو جائے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں بدنیتی اور دھاندلی کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے جب کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں اے این پی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کے ساتھ بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی جو آج بھی جاری ہے اور اس وقت بھی بلدیاتی انتخابات کے نتائج تبدیل کئے جا رہے ہیں۔

افتخار حسین کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے بھائی مانکی شریف میں رات 10 بجے تک پولنگ کرواتے رہے، بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کے پاس حکومت کرنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا، حکومت کے لئے بہتر ہے کہ از خود مستعفی ہو جائے اور عمران خان اپنا قبلہ درست کرلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کےساتھ کسی قسم کا اتحاد کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا جمہوری راستہ فراہم کیا جائےگا۔

اے این پی رہنما نے کہا کہ ہمارے احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا، اگر حکومت خیبر پختونخوا میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے حوالے سے سنجیدہ ہوتی تو پہلے ہی اے پی سی بلا لیتی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے اور حکومت پر دبا بڑھانے کے لئے ہرقسم کااحتجاج کریں گے، 10 جون کو ہر صورت احتجاج کیا جائے گا۔

مزید : پشاور /اہم خبریں