سانحہ ڈسکہ کے خلاف صوبہ بھر کے وکلاءکی ہڑتال ، ہزاروں مقدمات متاثر

سانحہ ڈسکہ کے خلاف صوبہ بھر کے وکلاءکی ہڑتال ، ہزاروں مقدمات متاثر
 سانحہ ڈسکہ کے خلاف صوبہ بھر کے وکلاءکی ہڑتال ، ہزاروں مقدمات متاثر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی /نامہ نگار)سانحہ ڈسکہ کے خلاف گزشتہ روز صوبہ بھر کے وکلاءنے ہڑتال کی ۔لاہور ہائی کورٹ میں بھی وکلاءصبح 11بجے کے بعد عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی ۔وکلاءنے اعلان کیا کہ ملزموں کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ ہونے تک ہر پیر کو احتجاج کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں بھی سانحہ ڈسکہ کے خلاف آل پنجاب وکلاءنمائندہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔کنونشن میں پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشننز کے نمائندوں نے شرکت کی ، کنونشن کے شرکاءنے سات مطالبات پر مشتمل قراردادیں منظورلیں اور اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا اور انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔

لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی نے سانحہ ڈسکہ کے شہداءکے لواحقین کیلئے فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا ،کنونشن سے سینئر وکیل رہنماءسابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد ،وائس چیئرپرسن پنجاب بار کونسل فرح اعجاز بیگ ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل چودھری عبدالسلام ، صدر لاہور ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی ، صدر لاہور بار اشتیاق اے خان اور سیکرٹری ڈسکہ بار اویس اسلم سندھو و دیگر نے خطاب کیا۔مطالبات پر مشتمل قراردادیں لاہور بار کے صدر اشتیاق اے خان نے پیش کیں جنہیں ہاﺅس نے منظور کرلیا۔پیش کی گئی قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چالان آئندہ24گھنٹوں میں پیش کئے جانے کا امکان ہے جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور 15 روز میں کیس کا فیصلہ کیا جائے۔ملزم ایس ایچ او کا ٹرائل جیل میں کیا جائے ،حکومت ایسے اقدامات کرے تاکہ ملزم ایس ایچ او فرار نہ ہوسکے ،حکومتی مشینری کو ملزم سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ریکارڈ یافتہ افسران کو انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پپر تعینات نہ کیا جائے اور صوبے بھر میں وکلاءکے خلاف درج جھوٹے مقدمات کو خارج کیا جائے۔سوشل میڈیا پر ایس ایچ اوز کی جانب سے جاری مہم کو ختم کیا جائے اور اس مہم کو شروع کرنیوالوں کیخلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں۔علاوہ ازیں لاہور بار کے صدر اشتیاق اے خان نے صوبے بھر میں ایسے واقعات کی روک تھام اور وکلاءمیں رابطے کیلئے وکلاءرہنماﺅں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل وکلاءرہنماﺅں نے کنوشن کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ریاست کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور اپنے مخصوص مقاصد کیلئے پولیس افسران کو اس مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔حکومتی گماشتوں نے مائنڈ سیٹ بنا لیا ہے کہ وکلاءکو ہر صورت دبایا جائے اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں ،انہوں نے کہا کہ ریاست کو پولیس سٹیٹ بنانے کی بجائے فلاحی ریاست بنایا جائے ، حکمرانوں کو عوام ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں تاکہ وہ قوم کی خدمت کریں۔ڈسکہ بار کے صدر سمیت دو وکلاءشہید ہوئے مگر حکمرانوں کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ موقع پر جاکر ان کے لواحقین کو تسلی دیں اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا اور انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔گزشتہ روز وکلاءنے بار رومز پر سیاہ جھنڈے بھی لہرائے ۔

مزید : لاہور