اگر آپ بھی سمارٹ فون یا کمپیوٹر زیادہ استعمال کرتے ہیں تو آنکھوں کوصحت مند رکھنے کیلئے ان مشوروں پر ضرور عمل کریں

اگر آپ بھی سمارٹ فون یا کمپیوٹر زیادہ استعمال کرتے ہیں تو آنکھوں کوصحت مند ...
اگر آپ بھی سمارٹ فون یا کمپیوٹر زیادہ استعمال کرتے ہیں تو آنکھوں کوصحت مند رکھنے کیلئے ان مشوروں پر ضرور عمل کریں

  

لندن(نیوزڈیسک)آج کل ہر انسان کمپیوٹر،لیپ ٹاپ، موبائل وغیرہ کا بکثرت استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے آنکھیں تکان کا شکار ہوجاتی ہیں۔ماہرین چشم کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھوں کے پٹھے مسلسل کسی چیز کی طرف دیکھنے سے تھک جاتے ہیں اور اگر الیکٹرانک مصنوعات کو بہت قریب سے دیکھا جائے تو آنکھوں کے مسائل میں مزید پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔آئیے آپ کو الیکٹرانک مصنوعات کے استعمال کے دوران آنکھوں کوتروتازہ رکھنے کے آسان طریقے بتاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:اگر پیٹ کی چربی پگھلانا چاہتے ہیں تو یہ ایک مشروب روزانہ استعمال کریں

آنکھوں کو جھپکیں

آنکھوں کو مسلسل جھپکیں کہ اس طرح وہ تکان کا شکار نہیں ہوں گی۔آپ 20-20-20والی تکنیک بھی آزمائیں یعنی ہر 20منٹ بعد،20فٹ کی دوری کی چیز کو20سیکنڈ کے لئے دیکھیں۔ماہرین چشم کا کہنا ہے کہ ایک ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں ہماری آنکھوں کی نمی تیزی سے کم ہوسکتی ہے لہذا زیادہ جھپکنے سے ان میں نمی بھی برقرار رہے گی۔

اپنے مانیٹر کو آنکھوں سے دور رکھیں

کوشش کریں کہ کمپیوٹر آپ سے کم از کم دو فٹ کی دوری پر ہو۔کمپیوٹر مانیٹر کو بہت زیادہ آنکھوں کے قریب لانے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور آنکھیں تکان کا شکار ہوجاتی ہیں۔

رات کو دیر تک کام

آپ کوچاہیے کہ رات کو دیر تک کام نہ کریں اور کوشش کریں کہ اپنا کام دن کی روشنی میں ہی ختم کرلیا جائے۔اگر رات کو بیٹھنا پڑے تو کمرے کی روشنی ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں آپ کو کمپیوٹر پر کام کرنے میں دقت پیش نہ آئے۔

موبائل کا استعمال

ہمیشہ اپنے موبائل کو نیچے کی جانب کم از کم 12انچ کی دوری پر رکھیں کہ اس طرح یہ آنکھوں پر ناگوار نہیں گزرے گا۔ماہرین چشم کا خیال ہے کہ اگر موبائل کو لیٹ کر آنکھوں اور سر کے اوپر رکھ کر استعمال کیا جائے گا تو آنکھوں کی تکان اور نظر کی کمزور کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

اسی طرح سمارٹ فون میں ٹیکسٹ کا سائز بڑا رکھیں تاکہ آپ کو پڑھنے اور جواب دینے میں کم از کم مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔اس بات کو یقینی بنائیں کہ کمپیوٹر اور موبائل فونز اندھیرے میں استعمال نہ کئے جائیں۔

مزید : تعلیم و صحت