محبوبہ مفتی حکومت نے فوجی کالونیوں کے قیام کے لیے حکم نامہ جاری کر دیا ہے ‘عمرعبداللہ کا انکشاف

محبوبہ مفتی حکومت نے فوجی کالونیوں کے قیام کے لیے حکم نامہ جاری کر دیا ہے ...

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے انکشاف کیا ہے کہ محبوبہ مفتی حکومت نے فوجی کالونیوں کے قیام کے لیے حکم نامہ جاری کر دیا ہے ۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی جانب سے فوجی کالونیوں کے معاملے پر عمر عبداللہ کے ٹویٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرنے کے بعد قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ نے اپنے جواب میں کہا کہ قائد ایوان(وزیراعلی) بار بار میرے ٹویٹ کاذکر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹویٹ کے ذریعے میں جو بھی کچھ لکھتا اور کہتا ہوں ،وہ لوگوں کے مفاد کیلئے ہی کہتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ فوجی کالونیوں کی بات یہاں اٹھی تو وزیر اعلی نے کہا کہ میں ریاست میں آگ لگانا چاہتا ہوں۔عمرنے کہا کہ آگ لگانے کی اگر ہم بات کریں تو میری حکومت میں آپ کا کیا رول رہا ،یہ سب جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں جب بھی کچھ بولنے کیلئے کھڑا ہوتا تھا تو آپ بولنے نہیں دیتے تھے اور میں تب بولتا تھا جب آپ وہاں سننے کیلئے نہیں ہوتے تھے کیونکہ آپ کبھی سننا ہی نہیں چاہتے تھے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ۔ عمرعبداللہ نے حکومت سے کہا کہ انہیں اپنا دور یاد مت کرائیں آپ نے اپنے دور میں کیا کیا وہ سب جانتے ہیں لیکن ہم آپ کے نقش قدم پر چلنے والے نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم آپ کے نقش قدم پر چلیں گے تو ریاست میں ایسی آگ لگے گئی جس کو بجھانا بھی کافی مشکل ہو جائے گا ۔انہوں نے فوجی کالونیوں پر اپنے ٹویٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کیا غلط کیا ،آپ ہی کی حکومت کا ایک آڈر نکالا اور آپ سے صرف یہی پوچھا کہ آپ فوجی کالونیاں بنا رہے ہیں یا نہیں ۔ انہوں نے وزیر اعلی کی طرف مخاطب ہو کر کہا آپ ہنسئے ، مسکرائیں، آڈر میرے سامنے ہے۔انہوں نے موبائل ہاتھ میں اٹھا کر کہا کہ میں کبھی ڈلیٹ نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کا کوئی آڈر میری حکومت کا بنا ہے تو آپ پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں فوجی بورڈ کی میٹنگوں میں خاصر نہیں ہوا ،لیکن آپ مجھے بتائیں کہ کیا میری حکومت میں اس طرح کا کوئی آڈر نکلا ہے اور اگر نکلا ہے تو آپ سب کے سامنے پیش کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں خواہ مخواہ میں مجھے گھسیٹا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے میں نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے صرف یہی جواب مانگا تھا کہ آپ صفائی دیں کہ کیا آپ فوجی کالونیاں بنانے جا رہے ہیں یا نہیں، آپ نے صفائی دے دی اور میں نے معاملہ چھوڑ دیا اور اس کے بعد میں نے اس کا کوئیذکر نہیں کیا ۔انہوں نے وزیر اعلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کو تب سکون ملے گئی جب میں اپنا ٹویٹراکانٹ ڈلیٹ کر دوں گا لیکن وہ میں کرنے والا نہیں ہوں ۔انہوں نے وزیر اعلی سے کہا کہ ٹویٹ کے ذریعے مجھے اس حکومت کی چٹکی لینے کا اچھا موقعہ مل جاتا ہے اور میری چٹکی سے آپ اچھل کود کرنا شروع کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کے مفاد کیلئے ہی ایسا کرنا ہے تو میں یہ چٹکی لیتا رہوں گا اور آپ کو اچھل کود کراتا رہوں گا ۔ سابق وزیر اعلی نے کہا کہ میں ٹویٹ کے ذریعے اپنے گھر کی بات نہیں کرتا ہوں بلکہ لوگوں کی بات کرتاہوں ۔انہوں نے وزیراعلی سے کہا کہ جس طرح آپ یہاں لوگوں کے مفاد کیلئے ایوان میں بیٹھی ہیں ،اسی طرح میں بھی یہاں لوگوں کے مفاد کیلئے بیٹھا ہوں ۔انہوں نے وزیر اعلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر میں ٹویٹ کے ذریعے آپ کو ذرا سا بھی جواب دے بناتا ہوں تو آپ کا موڈخراب ہو جاتا ہے تو چلئے اگر اس سے ریاست کے لوگوں کو فائدہ ہے تو مجھے بھی کوئی دکھ نہیں، میں بار بار ٹویٹ کرتا رہوں گا اور کسی سے معافی بھی نہیں مانگوں گا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک سینک کالونیوں کی بات ہے مجھے اس میں مت گھسیٹیں ،کیونکہ جب سے آپ نے اس میں صفائی دی تب سے میں نے اس پر کوئی مسئلہ نہیں اٹھایا۔

مزید : عالمی منظر