حریت قیادت کے مشترکہ احتجاجی پروگرام کے پیش نظر حریت قیادت کی نقل و حرکت پر پابندی

حریت قیادت کے مشترکہ احتجاجی پروگرام کے پیش نظر حریت قیادت کی نقل و حرکت پر ...

سری نگر(کے پی آئی) کشمیر میں فوجی اور پنڈت کالونیوں کے خلاف حریت قیادت کے مشترکہ احتجاجی پروگرام کے پیش نظر حریت قیادت کی نقل و حرکت پر پابندی لگادی گئی ہے جبکہ تمام سرکردہ قائدین گرفتار و نظر بند ہیں ر کئی سینٹرل جیل منتقل کئے گئے ہی۔،جن میں سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق ،محمدیاسین ملک ،شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان،انجینئرہلال احمدوار، محمد اشرف صحرائی، ایاز اکبر،محمد شفیع لون، اورشاہد الاسلام بھی شامل ہیں۔حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اورلبریشن فرنٹ نے حکومت کومتنازعہ منصوبوں کے بارے میں کشمیری قوم کی خاموشی کوبرای اعطانہ لینے کامشورہ دیتے ہوئے خبردارکیاکہ آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی سازشوں کاڈٹ کرمقابلہ کیاجائیگا۔

حریت کانفرنس گ کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے وزیراعلی محبوبہ مفتی کے تبدیلیاور امن کے نعرے کو 21ویں صدی کا سب سے بڑا فراڈ ڈھکوسلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پرفریب نعرے صرف اور صرف اقتدار حاصل کرنے کے لئے دئیے جاتے ہیں اور یہ محبوبہ جی کی ہی حکومت ہے جس نے آزادی پسندوں کو اپنی بات پرامن طریقے پر رکھنے کی اجازت نہ دے کر انہیں گھروں اور جیلوں میں بند کردیا ہے جن میں محمد یاسین ملک، میر واعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی، شبیر احمد شاہ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی جموں کشمیر میں آر ایس ایس کے ایجنڈے کو عملا کر ایک خطرناک کھیل کھیلنا چاہتی ہے، جس کو ہم کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وہ جموں کشمیر میں غیر ریاستی لوگوں کو فوجی کالونیوں، پنڈت کالونیوں اور نئی انڈسٹریل پالیسی کی آڑ میں بساکر یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔حریت (ع) نے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق، مختار احمد وازہ ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام کی مسلسل خانہ نظر بندی اورانجینئرہلال احمدوار کو کئی دن تک پولیس تھانے میں مقید رکھنے کے بعد سرینگر سنٹرل جیل منتقل کئے جانے اور متعدد مزاحمتی قائدین کی مسلسل تھانہ و خانہ نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ کی مزاحمتی قیادت کے تئیں جاری جارحانہ روش غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہے ۔حریت کانفرنس ع نے ریاستی انتظامیہ کی جانب سے حریت قیادت کویہاں کی امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام کو سراسر بے بنیاد اور لغو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت خود ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جو یہاں بد امنی اور لوگوں میں بے چینی کا سبب بن رہے ہیں ۔شبیر احمد شاہ نے اپنے بیان میں گرفتاریوں کو حکمران ٹولے کی بوکھلاہٹ اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی حزب اختلاف میں رہ کرا س بات کا رونا روتی تھی کہ ریاست میں حقِ اظہار رائے پر پابندی عائد کرکے ایک بڑے جیل کا سماں پیش کیا جارہا ہے اور آج جب انہیں خیرات میں اقتدار کی بھیک ملی تو اپنے پیشرو حکام کو بھی مات دے کر کئی ریکارڑ توڑدئے۔ شاہ نے لبریشن فرنٹ کے چئیرمین محمد یسین ملک کی دوبارہ گرفتاری کی سخت مذمت کی۔

مزید : عالمی منظر