احتجاج سے ٹریفک جام، سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا

احتجاج سے ٹریفک جام، سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا

اللہ کا شکر کہ اس بار ملک کے کسی بھی حصے میں ماہ مبارک کے آغاز پر چاند کا نظر آنا یا نہ آنا اختلافی مسئلہ نہیں بنا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی کاوشیں بارآور ہوئیں۔ وہ اس پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ برسوں بعد شمالی علاقوں اور باقی ملک میں رمضان المبارک کا آغاز ایک ساتھ ہو رہا ہے۔ ہمارے ان علماء کرام کو خدا خوفی کرنا چاہئے جو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد کی اتھارٹی قائم رکھنے کی خاطر روزے جیسے مقدس فریضے کے آغاز کو متنازعہ بنانے سے گریز نہیں کرتے اور کئی بار 28 شعبان کو ہی رمضان کا چاند نظر آنے کی کمزور شہادتوں کی بنیاد پر مسلمانوں کے روزے اور عید خراب کرنے کا باعث بنتے رہے میرے خیال میں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ متفقہ رویت ہلال کمیٹی کے مقابل دھڑے والی رویت ہلال کمیٹی قائم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ چاند دیکھنے کا اور دیکھنے کی شہادت دینے کا حق ہر مسلمان کو ہے اور چاند دیکھنے کی فضیلت بھی مگر اسے امت میں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے یا ذریعہ بننے کی اجازت نہیں دینا چاہئے ریاست کو اب رویت ہلال کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کے انتخاب کے طریقے میں بہتری لانا ہو گی ارکان کے انتخاب میں جہاں ہر فقہی مسلک کی نمائندگی کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ وہاں ملک کے ہر اس شخص کا انتخاب کریں جو اپنے علم و فضل کے اعتبار سے بھی ممتاز اور معتبر ہوں اور فقہی اختلاف رائے پر اپنی سیاسی دوکان نہ چمکاتا ہو۔ رویت ہلال کمیٹی تو بڑی حد تک سیاست سے پاک ہے مگر اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل میں سیاسی مفادات کی ترجیح نے اس آئینی ادارے کو بے وقعت بنا دیا ہے۔ اگرچہ اس میں سارے تقرر سیاسی بنیادوں پر نہیں ہوتے اور اس نے قابل قدر کام بھی کیا ہے۔ اب دونوں اداروں کی تنظیم نوکی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل تو ایک آئینی ضرورت ہے۔ جس کے بارے میں یہ طے کر لینا چاہئے کہ جو عالم عملی سیاست میں ہو اسے اس کی ذمہ داری نہ دی جائے۔ ارکان کے انتخاب کا معیار خالصتاً علمی تقویٰ فی الدین ہو، اسلامی نظریاتی کونسل میں غیر علماء کے انتخاب میں بھی یہی معیار انتخاب ہونا چاہئے جو عصری علوم کے ساتھ علوم اسلامیہ میں بھی ادراککھتاہو اور سب سے بڑی اور اہم ضرورت یہ ہے کہ یہ حکومت اور حزب اختلاف کی سیاست سے پاک ہو۔ تب ہی حقیقی معنوں میں عصری تقاضوں کے مطابق ’’قرآن و سنت‘‘ کی روشنی میں پارلیمنیٹ کی آئینی مشاورت کا فریضہ انجام دے پائے گا۔ مسلک کی بنیاد پر کسی فتنہ گر کی اسلامی نظریاتی کونسل میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔

آئے دن ٹی وی ٹاک شوز سے اسلام اور اسلامی تاریخ کے حوالہ سے تعصبات اور خواہشات کے اسیر اپنی ترجیحات اور ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ایسی ایسی بے سروپا گفتگو فرماتے ہیں کہ جو فتنہ گرفسادیوں کے لئے انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں۔

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی سورج اپنی پوری قہر سامانی کے ساتھ آگ کے شعلے اُگل رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب کراچی میں پنجاب یا اندرون سندھ جیسا تو اللہ کا شکر کہ نہیں ہے۔ مگر اس کے اثرات پوش علاقوں تک ہی ہیں۔ مضافات میں تو حال بہت ہی برا ہے۔ اگر ان علاقوں میں جہاں کے بارے میں کے الیکٹرک کا اپنا موقف ہے کہ وہاں بجلی کے بلوں کی ادائیگی پابندی سے ہو رہی ہے اور بجلی کی چوری چکاری بھی نہیں ہوتی دن میں کئی کئی بار بجلی چلی جاتی ہے تو مضافات کا کیا حال ہے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں پانی کا بحران تو کراچی میں اتنی شدت اختیار کر گیا ہے کہ اس کا تصور محال ہے۔ پانی کے بحران پر قابو پانے میں بلدیاتی ادارے کامیاب ہو رہے ہیں اور نہ ہی حاضر سروس فوجی کی سربراہی میں چلنے والے ڈی ایچ اے کے علاقوں میں پانی کے انتظام کے ذمہ دار ادارہ اپنے صارفین کی ضرورت پوری کر رہا ہے جن مساجد میں پانی کا متبادل انتظام نہیں ہے وہاں وضو کے لئے بھی پانی میسر نہیں ہے۔ صاف پانی کا جو ٹینکر ڈھائی تین ہزار میں با آسانی مل جاتا تھا اب وہ بھی تین سے چار گنا زیادہ قیمت پر اور خوشامد اور سفارش ہی سے مل پاتا ہے۔ اگر پوش علاقوں میں کئی کئی دن پانی نہ آنے کی شکایات ہیں تو غریب بستیوں کا کون پرسان حال ہو سکتا ہے؟ ایم کیو ایم پانی کے ایشو پر سڑکوں پر آ گئی ہے۔ اتوار کے دن وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنے کو ناکام بنانے کے لئے کنٹینر کھڑے کر دیئے گئے تھے۔ مگر ایم کیو ایم کی ریلی کی وجہ سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تو محفوظ رہا شہری البتہ گھنٹوں شدید قسم کے ٹریفک جام میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو مہذب ممالک کی طرح اپنے احتجاج کو شہریوں کے لئے تکلیف اور دشواریوں کا سبب نہ بننے کے لئے کسی ضابطہ اخلاق کا اپنے آپ کو پابند کرنا پڑے گا۔ ایم کیو ایم جیسی کوئی بڑی جماعت ہو یا تانگہ کی سواری سے بھی کم سواری رکھنے والی کوئی تنظیم ہو۔ وہ اپنے احتجاج کے لئے وہ روٹ منتخب کرتی ہے جس سے عام شہری کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے 2001ء میں منتخب ہونے والے کراچی سٹی کے ناظم نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے حلف اٹھانے کے بعد یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہم سیاسی اور مذہبی جلسے جلوسوں اور احتجاج کے لئے ایسے ضابطہ اخلاق پر اتفاق کریں جس سے شہریوں کی معمول کی زندگی متاثر نہ ہو۔ بدقسمتی سے اس تجویز کی مخالفت اتنی شدت سے کی گئی کہ اس پر غور تک کی نوبت نہیں آ سکی۔ اب آئے دن کراچی کے شہری جس اذیت سے گزرتے ہیں۔ نو منتخب بلدیاتی ادارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مشاورت سے اس سنگین مسئلہ کا کوئی قابل عمل حل نکالیں کراچی میں ٹریفک جام محض سیاسی احتجاج اور مذہبی ریلیوں کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا بلکہ وی آئی پی موومنٹ کا جواز بنا کر بھی ٹریفک پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں شہریوں پر آئے دن عذاب مسلط کرتی رہتی ہیں۔ اس کو بھی ختم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ ایک بار نہیں کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ کسی وی آئی پی موومنٹ یا احتجاجی ریلی کی وجہ سے ٹریفک اتنا جام ہو جاتا ہے کہ مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتا ہے لوگ ابھی وہ واقعہ نہیں بھولے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی کے سول ہسپتال میں جس یونٹ کا افتتاح کرنے آئے تھے اس کی وجہ سے ایک غریب لیاری کے مزدور کی بیٹی باپ کے ہاتھوں میں اس وجہ سے دم توڑ گئی تھی کہ پولیس نے ہسپتال میں داخلے کے سارے گیٹ بند کر رکھے تھے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ میڈیکل یونٹ جس کا بلاول زرداری بھٹو افتتاح کر کے گئے تھے اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود آپریشنل نہیں ہو پایا ہے۔

بلدیاتی اداروں کے حوالے سے اہم خبر یہ ہے کہ آزاد نو منتخب بلدیاتی رہنماؤں کو مخصوص نشستوں کے لئے سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے لئے دی گئی مہلت ختم ہو گئی ہے کراچی میں آزاد منتخب ہونے والے کچھ نے پیپلزپارٹی میں کچھ نے ایم کیو ایم میں اور ایک نے عوامی نیشنل پارٹی میں بھی شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

8 جون کو ریٹرننگ افسران، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز میں مخصوص نشستوں کا تعین کریں گے جس کے بعد پارٹی پوزیشن واضح ہو جائے گی کہ کون سی جماعت بلدیہ عظمی کراچی اور ضلع وسطی، ضلع شرقی اور ضلع کورنگی کے چیئرمینز کے علاوہ ضلع غربی، ضلع جنوبی اور ضلع بھر میں چیئرمین یا وائس چیئرمین بنوانے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں۔ بلدیہ عظمیٰ اور ضلع وسطی، ضلع شرقی اور ضلع کورنگی میں تو ایم۔کیو۔ایم کی واضح اکثرت ہے اگر ماضی کا جائزہ لیں تو اس بار 1987ء کے مقابلے میں (جب پہلی بار ایم کیو ایم نے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا تھا) پوزیشن بہتر ہے اس بار ایم کیو ایم کو ووٹ جتنے کم تعداد میں پڑے ہوں نشستوں کے اعتبار سے وہ 1987ء کے مقابلے میں بہت بہتر ہے 1987ء میں کراچی چار اضلاع پر مشتمل تھا جس میں وسطی اور ضلع شرقی میں واضح اکثریت اور بھاری مینڈیٹ تھا جبکہ ضلع غربی میں اس نے چیئرمین شپ پیپلزپارٹی کو وائس چیئرمین دے کر جیتی تھی جبکہ ضلع جنوبی میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین دونوں ہی ہار گئے تھے۔ ضلع جنوبی کے چیئرمین جمشید خان منتخب ہوئے جمشید خان نے جماعت اسلامی سے اتحاد کیا تھا۔ 1987ء میں ایم کیو ایم کو حیدر آباد میں تو میئر شپ کے لئے بھاری مینڈیٹ ملا تھا۔ جبکہ کراچی کی میئر شپمرہون منت تھی متناسب نمائندگی کی بنیاد پر منتخب ہو کر آنے والے کونسلرز کی جہاں دوسری جماعتوں کے کونسلرز نے بھی ایم کیو ایم کی حمایت کر دی تھی جبکہ اس بار ایم کیو ایم کوبلدیہ عظمیٰ ضلع وسطی ضلع شرقی اور ضلع کورنگی میں کسی حمایت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ با آسانی اپنا میئر ڈپٹی میئر اور چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کرا سکتی ہ ے، اندرون سندھ کے حوالہ سے اہم خبر بدین کی ہے۔ جہاں آصف علی زرداری کے ساتھی (سابق دست راست) ذوالفقار مرزا گروپ کے 26 ضلعی کونسلرز نے پیپلزپارٹی ورکرز میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پیپلزپارٹی ورکرز کی ایک شہر میں بلدیاتی حکومت ہو گی جسے سیاسی حلقے اس اعتبار سے اہمیت دے رہے ہیں کہ آنے والے انتخاب میں آصف علی زرداری کے مخالف پیپلزپارٹی ورکرز کے پلیٹ فارم سے سامنے آئیں گے ابھی یہ کہنا تو مشکل ہے کہ پیپلزپارٹی ورکرز ’’بھٹو ووٹ بنک‘‘ کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں۔ البتہ اگر آصف علی زرداری کے مخالف پیپلزپارٹی ورکرز کے ساتھ قابل عمل انتخابی فارمولا طے کرنے میں کامیاب ہوں گے تو آصف علی زرداری کو سندھ میں حقیقی انتخاب لڑنا پڑے گا۔

ایم کیو ایم کا ووٹ بنک تو کراچی میں کسی مقابلے کے بغیر ہی کم ہو کر بلدیات کے بعد اب ضمنی انتخاب میں صرف 10 فیصد تک سرک کر رہ گیا ہے۔ اندرون سندھ آصف علی زرداری کے مخالف تو اپنا اپنا ووٹ بنک رکھتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1