وفاقی بجٹ، کھاد اور ادویات میں رعائت، کسانوں تک نہیں پہنچے گی، یوں بھی ناکافی ہے

وفاقی بجٹ، کھاد اور ادویات میں رعائت، کسانوں تک نہیں پہنچے گی، یوں بھی ...

بلوچستان کی نیشنل پارٹی،سیاسی طور پر اس وقت مسلم لیگ(ن)کی اتحادی ہے اس کے مرکزی صدر میر حاصل بزنجو ہیں جو اس وقت وفاقی وزیر جہاز رانی و بندر گاہ اور سینٹ کے رکن ہیں جبکہ اس پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ایک معاہدے کے تحت اڑھائی سال تک بلوچستان کے وزیراعلی رہے اور یقیناً جب ان کی پارٹی کی میاں نواز شریف کی حکومت کے ساتھ اتنی فربت ہوگئی تو ان دونوں رہنماؤں کو صوبائی اور وفاقی سطح پر اتنے اہم عہدے دئیے گئے ہوں گے جبکہ چین کے ساتھ ہونے والے معاہدے’’پاکستان چائنہ اکنامک کو ریڈور‘‘ یعنی پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے تمام خدوخال سے بھی واقف ہوں گے کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص اور وہ بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ،اپنے صوبے بلوچستان کا وزیراعلی ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس کے صوبے کے اندر جو کام اس وقت ہورہے ہیں اس کے پیچھے حکومت پاکستان اور حکومت چین کے درمیان کیا معاہدہ ہے اس طرح وفاقی وزیر سینٹر میر حاصل بزنجو بھی سیاسی بلوغت کی انتہائی سطح پر ہیں انہیں بھی معلوم ہوگا کہ ان کے پاس جو وزارت ہے اس کے کرتا دھرتا کو کم از کم گوادر کے بارے میں تو ضرور معلوم ہوگا اور اگر انہیں یہ معلوم ہوگا تو پھر وزیر موصوف بھی باخبر ہوں گے۔کہ بلوچستان میں اس اقتصادی راہداری کے نام پر کون کون سے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں اور ان میں کون کون سے علاقے شامل ہیں ان منصوبوں کی اہمیت کیا ہے اور ملکی سطح کے تمام ’’سٹیک ہولڈرز یعنی فریق ان منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے اتنے بے چین اور جلدی میں کیوں ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کسی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود وفاقی وزیر سنیٹر میر حاصل بزنجو نے مستونگ میں اپنی پارٹی کے ایک جلسہ میں جو با تیں کی ہیں وہ بڑی چشم کشا اور اہم ہیں وہ کہتے ہیں کہ اب رونے دھونے کی باری ہماری (یعنی بلوچستان کی نہیں ) بلکہ اپنے وسائل کو بچانے کی ہے انہوں نے واشگاف الفاظ میں وارننگ دی کہ ہم ریکوڈک ، گوادر اور سینڈک سمیت تمام بلوچی وسائل کو کسی کو بھی ہاتھ لگانے کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اب نیشنل پارٹی میں سیاسی قوت اور عوامی طاقت آگئی ہے لہٰذا اب ریکوڈک ، گوادر، سیندک اور دوسرے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو آہنی ہاتھوں سے بزور طاقت روکیں گے اب کوئی مائی کا لعل ہمارے وسائل کو ہاتھ لگا کر تو دکھائے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے بھی اسی حوالے سے کافی سخت باتیں کیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریکوڈک کو بچایا گوادر کو بچایا ، بلوچستان کے اتنے بڑے ساحل کو محفوظ کیا اور گوادر کی ہزاروں ایکڑ اراضی مافیا کے قبضے سے چھڑائی اور یہ وہی قبضہ مافیا تھا جس نے مستونگ کے ساحل کو بھی فروخت کر رکھا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوگا اور اب ہم ان تمام قبضہ مافیا کا نام سامنے لائیں گے کیونکہ ہم اپنی سرزمین بلوچستان کے رکھوالے ہیں ۔

نیشنل پارٹی کے ان دونوں رہنماؤں کا ایسا سخت بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جبکہ ایک طرف تو وزیر اعظم میاں نوا ز شریف لندن میں زیرعلاج ہیں جبکہ وزیر اعظم اعلیٰ شہباز شریف بھی تیمارداری اور دیکھ بھال کی غرض سے لندن بیٹھے ہوئے ہیں ، دوسری طرف اقتصادی راہداری کا کام بھی زور و شور سے جاری ہے اس حوالے سے شاہرات ، موٹر ویز اور گوادر میں تعمیرات جاری ہیں گوادر میں زمین کا ایک بڑا حصہ چائنہ کے نام بھی کر دیا گیا جنہوں نے وہاں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو بھی یقینی بنا دیا ہے جبکہ اس مقصد کیلئے فوج کا ایک حصہ ان تمام امور کی حفاظت کیلئے بھی مامور ہوچکا ہے خصوصاً بلوچستان میں فوج کے ساتھ ساتھ رینجرزاور جنوبی پنجاب میں ملتان کے اندر رینجرز کی تقرری کی جارہی ہے اور تمام منصوبوں کی تکمیل کیلئے جو وقت مقرر کیا ہے تمام کام اس کے مطابق جاری بھی ہیں تو ایسے وقت ان دو قومی رہنماؤں کی طرف سے اس قسم کے بیان سمجھ سے بالاتر ہیں اور کیا واقعی یہ رہنما بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے خوفزدہ ہیں کہ شاید ان پرقبضہ کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں بھی ریکوڈک میں ایک کنیڈین کمپنی ’’ٹی تھیان‘‘ کو وہاں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا جس کے ساتھ مشرف حکومت کے عہدیداروں نے اس وقت کاپر اور سونا نکالنے کا معاہدہ کیا تھا جس کیلئے انہیں بھرپور سہولتیں بھی دی گئی تھیں لیکن بہرحال وہ عالمی عدالت میں بھی اپنا کیس ہار گئے تھے ۔ تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت بھی ملک میں عہدیداروں کی طرف سے کیے جانیوالے معاہدے میں نہ صرف شفافیت نہیں تھی بلکہ دال میں ایک بڑا کالا پتھر بھی تھا ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پورا بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن ان وسائل کے ثمرات کون لے رہا ہے یا کون لے گا یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کی طرف اب میر حاصل بزنجو اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اٹھایا ہے اور اب یہ دونوں رہنما اپنی کسی بات پر کسی حد تک اور کب تک قائم رہتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن بلوچستان کے سیاسی قرائن بتا رہے ہیں کہ صرف بزنجو اور ڈاکٹر بلوچ ہی ناراض نہیں ہیں بلکہ وہاں کچھ اور سیاسی قوتیں بھی اس منصوبے کیخلاف آواز اٹھانا چاہتی ہیں ۔ اب انکے اس عمل کے پیچھے کیا کار فرما ہے یہ تو آنے والے وقت میں معلوم ہوگا مگر کم از کم ہمیں کبھی معلوم نہیں ہو گا کہ کیا واقعی بلوچستان کے اندر کوئی وسائل تھے بھی سہی یا یہ نام نہاد اور ٹیکنو کریٹ جھوٹ بولتے رہے ہیں ‘ اس کا فیصلہ بھی وقت ہی کریگا کیونکہ اس وقت اس منصوبے پر جتنی مخالفت ہو رہی ہے اسکی حمایت میں بھی بیانات روزانہ سامنے آ رہے ہیں مگر عوام کے کنفیوژن کو کون دور کریگا ؟

اور اب پھر ایک اور وفاقی بجٹ اور اس کے بعد صوبائی بجٹ ۔۔۔ وفاق سے جنوبی پنجاب کے کاشتکار کم از کم آس لگائے بیٹھے تھے کہ کسانوں کیلئے کوئی پیکج یا مراعات دی جائیں گی جس سے ہماری کاٹن ایک مرتبہ پھر چالیس لاکھ گانٹھ کے ہدف سے آگے بڑھ جائے گی جو اس سال 90اور 95کے درمیان رہا ہے لیکن وفاقی حکومت نے صنعت کاروں اور زرعی ادویات فروخت کرنے والوں کو رعایت دیدی ہے۔ جو کبھی بھی کسانوں تک نہیں پہنچ پائے گی اور کسان بیچارہ ایک مرتبہ پھر پہلے کاٹن مافیا کے ہاتھوں ذلیل و رسوائی کے ساتھ لٹا اور اب گندم نے اس کا بھرکس نکال دیا ہے سونے پر سہاگہ گنا کاشت کرنے والوں کی ادائیگی بھی ملوں نے روک لی ہیں۔ یہ تمام ملیں ان رہنماؤں کی ہیں جو اپنے سیاسی پلیٹ فارمز سے اس ملک کے اندر یہ تبدیلی لاتے پھر رہے ہیں۔ اس ملک کے عوام خصوصاً کسانوں کو دربدر کیسے کیا جائے۔ اس بجٹ میں جو ریلیف دیا گیا ہے۔ وہ ماسوائے وفاقی وزیر حاجی سکندر حیات خان بوسن کے علاوہ کسی نے اس کے بارے میں خیر کے کلمات ادا نہیں کئے ہیں۔ البتہ وفاقی وزیر موصوف نے یہ اعتراف کیا کہ اس وقت کسانوں کی پیداواری لاگت زیادہ ہے۔ لیکن اس کیلئے ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ حل تو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پاس بھی کوئی نہیں ہے۔ جو صرف اس بات کی کوشش میں رہتے ہیں کہ کاروباری اور صنعتکار طبقہ ناراض نہ ہو جائے اب انہوں نے حکم جاری کیا ہے 30جون سے قبل تمام ای فنڈ ادا کر دیئے جائیں۔ لیکن اسحاق ڈار اور حاجی سکندر حیات بوسن کو یہ توفیق نہیں ہوگی کہ وہ کاٹن مافیا اور شوگر ملز مافیا سے کسانوں کی ادائیگیاں ہی کروا دیں جو ان کا حق ہے جنہیں حاصل کر کے وہ پھر انہی کے جال میں جا پھنس گئے۔

مزید : ایڈیشن 1