جی ایچ کیو میں اجلاس ۔ جمہوریت کے تناظر میں

جی ایچ کیو میں اجلاس ۔ جمہوریت کے تناظر میں
 جی ایچ کیو میں اجلاس ۔ جمہوریت کے تناظر میں

  

جی ایچ کیو میںآرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس نے بھی اعلیٰ سطحی جمہوری سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔ ایک دوست تو رو رہے تھے کہ جمہوریت ایک مرتبہ پھر جی ایچ کیو کے سامنے سرنگوں ہو گئی۔ یہ اجلاس وزرات دفاع میں ہو نا چاہئے تھا۔اگر خارجہ معاملات سے متعلق تھا تو اس کے دفتر میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ صدارت آرمی چیف نے کیسے کر دی۔ میں نے اسے چپ کروانے کی بہت کوشش کی ہے اور اس کو سمجھا یا ہے کہ یہ جمہوریت جی ایچ کیو کے سامنے سرنگوں نہیں ہو ئی بلکہ یہ ایک بہتر انڈر سٹینڈنگ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک پیج پر ہونے کی عمدہ مثال ہے۔ ہمیں اس پر افسوس نہیں فخر کرنا چاہئے۔

لیکن میرا دوست روتا جا رہا ہے اور چپ ہی نہیں کر رہا ۔ وہ کہتا کہ ہم جمہوریت کو بچانے کے لئے آخر کب تک جمہوریت کو قربان کرتے رہیں گے۔ کب تک عزت کے تحفظ کے لئے عزت قربان کرتے رہیں گے۔ اگر فیصلے اسٹیبلشمنٹ نے کرنے ہیں تو بیچارے سیاستدان اس کی ذمہ داری کیوں اٹھائیں۔ میں نے اپنے دوست کو بہت سمجھایا ہے کہ پوری دنیا میں عسکری و دفاعی اور دفاع سے منسلک خارجہ معاملات میں فیصلہ سازی کے موقع پر ہر ملک کی فوج کا اہم کردار ہوتا ہے۔ امریکہ میں ہی دیکھ لیں پینٹاگون کا کردار کتنا اہم ہے۔ سی آئی اے کا فیصلہ سازی میں کتنا اہم کردار ہے۔ لوگ برطانیہ کی جمہوریت کی بہت مثالیں دیتے ہیں لیکن اگر ہم ایم کیو ایم کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں تو سمجھ آجائے گا کہ ایم آئی سکس کیسے برطانیہ کے نظام انصاف پر اپنے مقاصد کے لئے اثر انداز ہو رہی ہے۔ اسی طرح روس میں بھی فیصلہ سازی میں کرملن اور کے جی بی کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح اگر پاکستا ن میں اس ضمن میں پاک فوج کا کردار ہے تو یہ کوئی ان ہونی بات نہیں ہے ۔ یہ رسم دنیا بھی ہے۔ موقع بھی ہے دستور بھی۔ اس لئے اس پر رونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ فخر کی ضرورت ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ اکٹھی بیٹھی ہے ۔ ہم خیال ہے، کوئی ابہام نہیں۔ لیکن میرا دوست پھر کہتا رہا کہ نہیں اس اجلاس کو جی ایچ کیو میں نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس کی صدارت پاک فوج کے سربراہ کو نہیں کرنا چاہئے۔

میں نے اپنے دوست کو سمجھا یا کہ وزیر عظم ملک میں نہیں۔ بیمار ہیں، ہسپتال میں ہیں۔ بلکہ پہلے تو چند دن آئی سی یو میں تھے۔ ان سے کسی کی بات نہیں ہو رہی تھی۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم اسحاق ڈار صاحب کو معاملات دیکھنے کا کہہ گئے ہیں ۔اسحاق ڈار صاحب نے بجٹ بھی پیش کر دیا ہے۔ لیکن آپ دیکھیں کہ ہمارے ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں ہے۔ ڈرون حملہ کی وجہ سے سفارتی محاذ گرم ہے۔ ہمارے سفارتی محاذ پر فوج کا اہم کردار ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی پالیسی فوج کے گرد ہی گھومتی ہے۔ اس لئے پاکستان کی خارجہ پالیسی سے فوج اور فوج کی پالیسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آپ دیکھیں افغانستان، امریکہ اور بھارت سب سے تعلقات میں فوج کا مرکزی کردار ہے۔ اس لئے شاید فوج کو ایسے اجلاس کی ضرورت پیش آئی ہے۔اور پاکستان کے مخصوص حالات کی روشنی میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ ایک وفاقی وزیر صدارت کرتا اور آرمی چیف اور دیگر جرنل اس میں شریک ہوتے۔ لیکن میرے دوست کو تسلی نہیں ہو رہی تھی۔

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ دیکھو کوئی اہم مسئلہ تھا جو یہ اجلاس کیا گیا ہے۔ دیکھو اجلاس کے فورا بعد چینی سفیر سے آرمی چیف سے ملاقات کی ہے۔ یقیناًپاک چین اقتصادی راہداری کے حوالہ سے کوئی اہم بات ہو گی جو یہ اجلاس ہوا ہے۔ لیکن میرے دوست نے مجھے کہا گو کہ اب اس کا رونا کافی تھم چکا تھا صرف آواز ہی بھرائی ہوئی رہ گئی تھی کہ چینی سفیر یہ بات براہ راست سرتاج عزیز سے بھی تو کر سکتے تھے ۔ میں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے چین کا حال ہی میں دورہ کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہدری کے معاملات میں جنرل راحیل شریف بہت متحرک ہیں۔ اس لئے شائد چینی سفیر نے آرمی چیف سے بات کی ہو اور ان سے ملاقات کی ہے۔ میرا دوست چپ کر گیا اور کہنے لگا کہ بس سرتاج عزیز کیوں متحرک نہیں ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ انسانی فطرت ہے کہ آپ اسی سے بات کرتے ہیں جس کو آپ طاقتور سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت سے کس کو انکار ہے۔ اور یہ لولی لنگڑی جمہوریت چل بھی اسی لئے رہی ہے کہ اس نے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرنگوں کیا ہوا ہے۔ اگر یہ کمزور جمہوریت اسٹیبلشمنٹ سے بغاوت کرے گی تو گہری کھائی میں گر جائے گی۔ ویسے بھی اس وقت وزیر اعظم ملک سے باہر ہیں ۔ ان کے ملک سے باہر ہونے نے ہی بہت سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ایسے موقع پر اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت اکٹھے بیٹھتی ہے تو یہ سیاسی حکومت کے لئے بہتر ہے۔ اس لئے شائد اسحاق ڈار نے یہ اجلاس کر کے فی الحال تو صحیح ہی کیا ہے۔

ویسے بھی خواجہ آصف صاحب کی اجلاس میں شرکت نے بہت سے سوالات کو ختم کیا ہے۔ اور چودھری نثار علی خان کی اجلاس سے غیر حاضری نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ امید تو یہی کی جا سکتی ہے کہ وزیر اعظم جلد از جلد ملک میں واپس آجائیں تا کہ اس قسم کے مزید اجلاسوں کی ضرورت نہ پڑے۔ کیونکہ میرے دوست کے مطابق یہ اجلاس کڑوی گولی ہیں ۔ بس انتہائی ضرورت کے وقت ہی ہونے چاہئے۔

مزید : کالم