غازی آباد ،ورکشاپ مالک پر تھانیدار اور اہلکاروں کا تشدد ،متاثرہ شخص دفتر پاکستان پہنچ گیا

غازی آباد ،ورکشاپ مالک پر تھانیدار اور اہلکاروں کا تشدد ،متاثرہ شخص دفتر ...
 غازی آباد ،ورکشاپ مالک پر تھانیدار اور اہلکاروں کا تشدد ،متاثرہ شخص دفتر پاکستان پہنچ گیا

  

لاہور(وقائع نگار، خبرنگار)غازی آباد کے رہائشی متاثرہ شخص 32 سالہ تاجر شعیب خان نے گزشتہ روز " پاکستان" کے دفتر میں ساتھی تاجروں اور معززین علاقہ اویس خان،محمد آصف ،کامران ،شمس الحق ،چودھری طارق ،اور حق نواز سمیت دیگر کے ہمراہ اپنی فریاد سناتے ہوئے کہا ہے کہ تھانہ غازی آباد کے سادہ کپڑوں میں ملبوس چار اتھرے اہلکاروں نے بغیر کسی وجہ کے اسے تشدد کا نشانہ بنا یا۔ اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کے دوران اس کا پرس بھی نکال لیااور تھانے لیجانے کی کوشش کی،اہل علاقہ واقعہ پر سراپا احتجاج بن گئے جس پر تھانے دار سمیت مسلح اہلکار اپنی جان چھڑا کر نکل گئے ۔ ایس پی کینٹ (آپریشن) عبادت نثار نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور ڈی ایس پی شمالی چھاؤنی کو انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتہ میں رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ متاثرہ تاجر کے مطابق ڈی ایس پی شمالی چھاؤنی کے سامنے تین چار مرتبہ علاقہ کے معززین کو لیکر پیش ہوچکا ہوں لیکن تاحال اسے انصاف نہیں مل رہا ہے ، تاجرنے مزید بتایا کہ اس نے غازی آباد کے علاقہ میں سولنگ روڈ کے قریب اپنے گھر کے قریب اے سی مرمت کرنے کی ورکشاپ بنا رکھی ہے ۔30مئی کو رات تقریبا ساڑھے دس بجے اپنی ورکشاپ کے باہر بیٹھا تھا کہ اچانک سادہ کپڑوں میں ملبوس4 مسلح پولیس اہلکار جن کے نام سفیان علی ، محسن علی، قادر علی اور نوید ،احمدبتائے جاتے ہیں، اس کی ورکشاپ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے پہلے چائے کے ہوٹل پر بیٹھے دو افراد کی تلاشی کے بعد اس کو ورکشاپ بند کر نے کا کہا، اس کے انکار پر اہلکاروں نے اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیااور بری طرح تشدد کا نشانہ بنانے کے بعدکال کرکے پولیس کی گاڑی منگوالی ۔گاڑی پر آنے والے تھانیدار امجد خان نے اہلکاروں کو سمجھایا لیکن وہ تھانے لے جانے پر بضد رہے جس پر اہل علاقہ اور ساتھی دکاندارسراپا احتجاج بن گئے اور اہل علاقہ کے احتجا ج پر تھانیدار امجد خان اور اہلکار محسن علی وغیرہ اپنی جان چھڑا کر نکل گئے۔ اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایس پی کینٹ کو شکایت کی جس پر ایس پی کینٹ عبادت نثار نے ڈی ایس پی شمالی چھاؤنی کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔ تاجر شعیب خان نے مزید الزام لگایاکہ تشدد کے دوران پولیس اہلکاروں نے اس کی جیب سے اس کا پرس بھی نکال لیا جس میں 24700 روپے اور قیمتی کاغذات موجود تھے ۔ ایس پی کینٹ کو درخواست دینے پر ڈی ایس پی شمالی چھاؤنی کو کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن وہ تاحال انہیں انصاف نہیں دے رہے ہیں اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کر کے انہیں معطل اور مقدمہ درج کرنے کی بجائے اسے تسلیاں دے رہے ہیں اور الٹا اہلکاروں سے صلح کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ تاجر نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،سی سی پی او لاہور اورآئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ تھانہ غازی آباد کے ان اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی اور مقدمہ درج کرکے اسے انصاف دیا جائے وگر نہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہو ں گا ۔جبکہ اس حوالے سے ڈی ایس پی شمالی چھاؤنی ملک منصور کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری چل رہی ہے جس میں حقائق کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے گا اور ایس پی کینٹ کو جلد رپورٹ بھجوا دی جائے گی۔ ایس پی کینٹ عبادت نثار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ شہریوں کے ساتھ بد سلوکی اور بلاوجہ تشدد کرنے والے اہلکاروں کو ہر گز معاف نہیں کیا جائے گا۔

مزید : علاقائی