ٹی او آر طے کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پھرط بے نتیجہ ختم ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا عید کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ

ٹی او آر طے کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پھرط بے نتیجہ ختم ، پیپلز ...

 اسلام آباد(اے این این ) پاناما لیکس کی تحقیقات کے سلسلے میں ٹرمز آف ریفرنس(ٹی اوآرز) طے کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ایک بارپھر بے نتیجہ ختم ہوگیا،سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر لگتا ہے کہ حکومت کو ہماری تجاویز منظور نہیں جبکہ حکومتی کمیٹی کے رکن اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے بعض ممبران اور ایک اپوزیشن کی جماعت کا ٹارگٹ صرف ایک ذات ہے جس کا پاناما میں ذکر ہی نہیں ،کمیٹی کا اگلا اجلاس جمعہ کو طلب ، حکومتی ارکان اپوزیشن کی جانب سے تجاویز پر جواب دیں گے ۔ گزشتہ روز کو ٹی اوآر طے کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا ایک بارپھر اجلاس ہوا تاہم اجلاس کے دوران فریقین کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت کے 4 میں سے 3 ٹی او آرز تسلیم کرلیے ہیں اور ایک حکومتی ٹی او آر میں چھوٹی سی ترمیم کی ہے، ہم اس معاملے پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر صورتحال جوں کی توں ہے، اب تک کوئی بھی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے ٹی او آرز حکومت کے سامنے رکھ دیئے ہیں، لگتا ہے کہ حکومت کو ہماری تجاویز منظور نہیں، حکومت نے مشاورت کے لیے جمعہ تک وقت مانگا ہے۔دوسری جانب پارلیمنٹ ہاس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رکن اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہماری تجاویز کے جواب میں جو ڈرافٹ دیا گیا اس پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے پہلے والے 15سوال سے بھی آگے ہے جو پوری طرح افراد کے درمیان گھوم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ارادہ بے لاگ احتساب کا ہے اگر بے لاگ احتساب کرنا ہے تو قانون اور ٹی او آرز ایسے بنائیں جو سب کا احاطہ کریں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن کے بعض ممبران اور ایک اپوزیشن کی جماعت کا ٹارگٹ صرف ایک ذات ہے جس کا پاناما میں ذکر ہی نہیں، ہم مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے جمعہ کو دوبارہ اجلاس ہوگا اور اپوزیشن کی پہلے سے بھی زیادہ سخت شرائط پر رائے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلے کو حل کرنا ہے تو ایسا راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو کسی کو ٹارگٹ نہ کرے بلکہ ایسے قانون کیلئے پیشرفت کی جائے جو نہ صرف پاناما پیپرز میں آنے والے لوگوں کا احاطہ کرے بلکہ آئندہ بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو اس قانون کو استعمال میں لایا جاسکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم کمیشن بٹھانا چاہتے ہیں اور قانون بنانے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن کوئی اس پر سیاست کرنا چاہتا ہے تو پاکستان میں احتساب کا نعرہ بہت پرانا ہے، ہم اس کھیل کو جانتے ہیں۔ادھرنجی ٹی وی کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کو ٹی او آرز بنانے کیلئے دی گئی دو ہفتوں کی مہلت ختم ہو گئی،پارلیمانی کمیٹی کے اب تک صرف پانچ اجلاس ہو سکے، مگر ابتدائیے کے سوا ایک نقطے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔ واضح رہے کہ پاناما لیکس پر ٹی او آر کمیٹی 23 جون کو قائم کی گئی تھی ۔ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کی جانب سے سینیٹر اعتزاز احسن، شاہ محمود قریشی، بیرسٹرسیف، الیاس بلور، صاحبزادہ طارق اللہ اور طارق چیمہ شامل ہیں جب کہ حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار، زاہد حامد، خواجہ سعد رفیق، انوشہ رحمان، اکرم درانی اور حاصل بزنجو کمیٹی کا حصہ ہیں۔

لاہور( نمائندہ خصوصی) ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے عید کے فوری بعد حکومت کے خلاف پانامہ ایشوز پر ایک فیصلہ کن احتجاجی تحریک چلانے کے لئے اپنی اپنی جماعتوں کے قائدین ارکان اسمبلی اور کارکنان کو ہدایت جاری کردی ہیں جبکہ رمضان المبارک میں افطار پارٹیوں کے ذریعے اس سلسلے میں ایک عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں تاکہ عید کے بعد ایک موثر احتجاجی تحریک شروع کی جا سکے ابھی تک ان دونوں جماعتوں نے مشترکہ احتجاجی تحریک کی بجائے الگ الگ تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم آنے والے وقت میں یہ دونوں جماعتیں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا کر بھی تحریک چلا سکتی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے عیدالفطر کے بعد اپنی اپنی جماعتوں کو سڑکوں پر آنے کے لئے تیاری کی ہدایت کردی ہے پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت کی جانب سے ٹھوس اقدامات نہ کئے جانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی اپنی جماعتوں کو سڑکوں پر لانے کی ہدایت کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے عید کے بعد پنجاب کو احتجاجی مرکزبنانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں صوبے کے مختلف شہروں میں جلسے جلوس اور احتجاجی سرگرمیاں ہوں گی۔دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنی جماعت کے سینئر رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران احتجاج کی تیاری مکمل کرلی جائے اور پارلیمنٹ سے باہر تحریک چلانے کے لئے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کی ہدایت کی جب کہ عمران خان نے دیگر ارکان اسمبلی سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی حکومت مخالف تحریک کے لئے متحرک ہوجائیں۔

مزید : صفحہ اول