رینجرز کا ایم پی اے کامران فاروقی کی گرفتار ی کیلئے فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ

رینجرز کا ایم پی اے کامران فاروقی کی گرفتار ی کیلئے فاروق ستار کے گھر کا ...

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)رینجرز نے ممبر سندھ اسمبلی کامران فاروقی کی گرفتاری کیلئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کے گھر کا محاصر ہ کیا۔تفصیلات کے مطابق رینجرز نے فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ دو مشتبہ افراد کی موجود گی کی اطلاع پر کیاہے اور کچھ دیر میں محاصرہ ختم کرکے چلے گئے۔نجی ٹی و ی نے رینجرز کے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ فاروق ستار کے گھر کا محاصرہ ایم پی اے کامران فاروقی کی گرفتار ی کیلئے کیا گیا اور وہ تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔رینجرز ذرائع کا کہناتھا کہ چھاپے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں ،کامران فاروقی کی حوالگی کیلئے سپیکر سندھ اسمبلی کو خط لکھا تھا ،سپیکر نے تین مئی کو کامران فاروقی کو پیشی کیلئے رولنگ دی تھی لیکن وہ دو ماہ گزرنے کے بعد بھی پیش نہیں ہوئے جس کے بعد چھاپہ مار کاروائی کی گئی ہے۔رینجرز ذرائع کا کہناتھا کہ اس حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ سے بھی رابطہ کیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہاہے کہ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں کسی کریمنل کو گھر میں پناہ دوں ،گھر کی تلاشی میڈیا کے سامنے لی جائے تا کہ دو دھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔نجی ٹی و ی چینل کے پرگرام میں شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہناتھا کہ ہم قانون پسند شہری ہیں ،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں کسی کریمنل کو گھر میں رکھوں ،30سال سے سیاست میں ہوں ،ہم لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ،میری اہلیہ کی رینجرز کے افسر سے بات ہوئی ہے تو انہوں نے کسی مرد کو باہر بھیجنے کا مطالبہ کیا،میری اہلیہ نے رینجرز سے گھر کی تلاشی کیلئے وارنٹ کا تقاضا کیاہے۔فاروق ستار کا کہناتھا کہ وہ گھر پر ہی موجود ہیں ،انہوں نے ڈی جی رینجرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکاہے اس لیے ایمرجنسی میسج چھوڑ دیاہے۔ان کا کہناتھا کہ آج پہلا روزہ ہے لوگ گھروں میں مبحوس ہو کر رہے گئے ہیں۔فاروق ستار نے الزام عائد کیاہے کہ وہ گھر پر موجود ہیں اور ان کے گھر کے دروازے کو پتھروں اور بندقوں سے پیٹا جارہاہے ، سو فیصد ضمانت دیتاہوں میری گھر پر کوئی کریمنل موجود نہیں ہے ،گھر کی تلاشی میڈیا کے سامنے ہو جائے تاکہ دو دھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

مزید : صفحہ اول