مطمئن نہیں کیا گیا تو میٹرو ٹرین پراجیکٹ بارے کوئی حکم جاری کیا جا سکتا :لاہور ہائیکورٹ

مطمئن نہیں کیا گیا تو میٹرو ٹرین پراجیکٹ بارے کوئی حکم جاری کیا جا سکتا ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں پر ڈی جی ماحولیات جاوید اقبال کو طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر عدالت کو مطمئن نہیں کیا گیا تو پورے پراجیکٹ بارے بھی کوئی حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔عدالت عالیہ میں ا ورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے خلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں میں منصوبے کو مختلف زاویوں سے چیلنج کیا گیا ہے،گزشتہ روز درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق نے نشاندہی کی کہ ناقص انتظامات کی وجہ سے چوبرجی کے قریب میٹرو ٹرین منصوبے کی تعمیر کے دوران ایک پلر گرنے سے سے دو مزید اموات ہوئی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ غیر معیاری حفاظتی انتظامات ہیں جس پر لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدالت کو مطمئن نہیں کیا گیا تو پورے پراجیکٹ بارے بھی کوئی حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔فاضل عدالت نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ منصوبے کیلئے چائنہ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا اور کام مقامی چھوٹے ٹھیکیدار وں سے کرایا جارہے ہیں. بنچ نے قرار دیا کہ اگر چائنہ کی کمپنی ہی کام کرتی تو شائد اتنی اموات نہ ہوتی، اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اعتراض اٹھایا کہ لاہور کے ہسپتالوں میں بستر نہیں ہے اورنج لائن ٹرین کیسے بن سکتی ہے.۔ اڑھائی سو ارب روپے صرف دو فیصد لوگوں کیلئے خرچ کیے جارہے ہیں۔، اظہر صدیق نے نکتہ اٹھایا کہ منصوبے کے لئے کسی قسم کے ٹینڈرجاری نہیں کیے گئے اور نیسپاک کو ٹھیکہ دے دیا گیا،جو کہ منصوبے کی شفافیت پر ایک بڑاسوالیہ نشان ہے، وکیل کے مطابق منصوبہ کی وجہ سے شہر بھر میں ماحولیاتی آلودگی میں پیدا ہورہی ہے اور شہری کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔منصوبہ شروع کرنے سے پہلے ماحولیاتی آلودگی اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے ڈی جی ماحولیات کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے مزید سماعت آج 8جون تک ملتوی کر دی ۔

مزید : صفحہ آخر