الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کا تقرر 22ویں آئینی ترمیم سے مشروط

الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کا تقرر 22ویں آئینی ترمیم سے مشروط

لاہور(محمد نواز سنگرا)الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر 22ویں آئینی ترمیم سے مشروط ۔آئینی ترمیم کی مکمل منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کا تقرر 45دنوں کے اندر کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے موجودہ ارکان کی مدت ملازمت 13جون کو پوری ہو جائے گی۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے چاروں ارکانجسٹس(ر)ریاض کیانی ممبر پنجاب ،جسٹس (ر) فضل الرحمٰن ممبر بلوچستان،جسٹس (ر)روشن عیسانی ممبر سندھ اورجسٹس(ر)شہزاد اکبر خان ممبر خیبر پختونخوا کی مدت ملازمت پوری ہونے پر اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں گے۔اس حوالے سے محض 5دن باقی ر ہ جانے کے باوجود حکومت نے تاحال عملی طور پر ایسے اقدامات پر غور تک نہیں کیا جس سے الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر کیا جا سکے۔کیونکہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کیلئے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا باہمی متفق ہونا ضروری ہے۔الیکشن کمیشن کے ارکان کی عدم موجودگی سے متعدد قومی و صوبائی حلقوں میں انتخابات بھی تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن آرڈ ر 2002کے مطابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کے ارکان کے بغیر کسی حلقے میں الیکشن نہیں ہو سکتے۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے باہمی مشورے سے تعینات کیے جانیواے افسران میں تاخیر بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ چئیرمین نیب اور چیف الیکشن کمیشن کے تقرر میں بھی کئی مہینے لگ گئے تھے اور سیاسی طریقے سے تعیناتی ملک کیلئے بھاری ثابت ہوتی ہے۔ارکان الیکشن کمیشن کی مدت پوری ہونے اور نئے ارکان کے تقرر کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے ذرائع نے ’’ پاکستان ‘‘کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان 13جون کو اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں گے کیونکہ ان کی مدت ملازمت پوری ہو گئی ہے اور نئے ارکان کے چناؤ کیلئے نئی 22ویں آئینی ترمیم کا پاس ہونا ضروری ہے جس کو ابھی سینٹ میں پیش کر نا باقی اور اس کا بل محض قومی اسمبلی سے پاس کروایا جا سکا ہے۔22ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پاس کیے جانیوالے بل کے مطابق الیکشن کمیشن کے ارکان کیلئے جج ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے اور یہ ارکان سنئیر بیورکریٹس یا ٹیکنوکریٹس بھی ہو سکتے ہیں لیکن 5دن بعد ارکان الیکشن کمیشن کی سیٹیں خالی ہو جائیں گی اور الیکشن کمیشن کی حیثیت بھی ختم ہو جائے گئی کیونکہ صوبائی ممبر ان کے بغیر کسی بھی قومی یا صوبائی حلقے میں الیکشن نہیں کروایا جا سکتا۔معلوم ہو اہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے چناؤ کیلئے ایک طرف تو 22ویں آئینی ترمیم ایک بڑی رکاوٹ ہے تو دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ارکان کے چناؤمیں ایک بڑی رکاوٹ وزیر اعظم کا ملک سے باہر ہونا ہے۔ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایسے قابل اعتماد اور شفاف ماضی رکھنے والے بیورکریٹس جن پر حکومت اور اپوزیشن فوراًمتفق ہو جائیں ان کا چناؤ بھی آسان کام نہیں ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں اور ان کے زیر انتظام ہونے والے تمام انتخابات کو من و عن تسلیم کیا جائے۔قوم کو انتظار کرنا ہو گا کہ 22ویں ترمیم کب منظور ہوتی ہے کیونکہ اس کے 45دن میں الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر لازمی ہے ۔بصورت دیگر آئین کی خلاف ورزی ہو جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر