نو تشکیل پاک سرزمین پارٹی نے صدارتی نظام کا مطالبہ کر دیا

نو تشکیل پاک سرزمین پارٹی نے صدارتی نظام کا مطالبہ کر دیا

تجزیہ:چودھری خادم حسین

نو تشکیل جماعت پاک سر زمین پارٹی نے باقاعدہ طور پر ملک کے اندر جاری پارلیمانی طرز حکومت کے نظام کی مخالفت کرتے ہوئے یہاں صدارتی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو آئی۔ ایس ۔آئی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو وہ خوشی محسوس کریں گے۔ حوصلہ مند ہیں، برملا کہہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے فنکشنل مسلم لیگ کے صدر سید صبغت اللہ راشدی بھی صدارتی نظام کی حمایت کر چکے اور صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہاں باقاعدگی سے ایک مہم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدارتی نظام کے حق میں فضا ہموار کرنے والی ہے۔ اس حوالے سے عمران خان بھی حمایت تو کر چکے اگرچہ انہوں نے کھل کر مطالبہ نہیں کیا۔ اور کوئی بعید نہیں کہ وہ بھی جلد ہی پاکستان کو تبدیل کرنے کا نعرہ لگاتے لگاتے صدارتی نظام کے نفاذ کی عملی بات کرنے لگیں کہ اب یہ ظاہر ہوا کہ ان کے انداز میں بھی ایسی حاکمیت ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو غور کرنا چاہئے کہ یہ سوتے کہاں سے پھوٹ رہے ہیں اور کہاں سے اس تبدیلی کی حمایت کی جا رہی ہے۔

ہم نے پہلے بھی گزارش کی اور اب پھر عرض کرتے ہیں کہ جن سازشی تھیوریوں کا اونچے ایوانوں میں ذکر کیا جا رہا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ پارلیمانی جمہوریت نقصان دہ اور صدارتی نظام ہمارے مزاجوں کے مطابق ہے۔ یہی تھیوری سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور پھر ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی بھی تھی۔ پارلیمانی نظام کو تو جبراً قبول کیا گیا ہے۔ اصل سوئی تو صدارتی نظام پر اٹکی ہوئی ہے جس کے حوالے سے اب بات بھی ہو رہی ہے۔ ہماے مصطفیٰ کمال تو بڑی جلدی میں ہیں۔ ان کے خیال میں ’’ملک گیر‘‘ جماعت بنا لینے کے بعد ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھی تبدیلی کی بات کریں چاہئے نظام جمہوریت ہی کیوں نہ ہو!

ان حالات میں پانامہ لیکس کا مسئلہ سامنے آیا ہے اور اسے کرپشن مکاؤ مہم کے طور پر استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ اب تو عمران خان نے کہہ دیا کہ احتساب ہوگا اور اگر کوئی موثر فیصلہ نہ ہوا تو وہ سڑکوں پر ہوں گے ان کے مطالبات میں اولیت بھی وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے بعد ان کے خاندان کے احتساب کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پاناما لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم محمد نواز شریف کا احتساب نہ ہوا تو تحریک انصاف سڑکوں پر ہو گی۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا، اپنے سنجیدہ انداز میں حکومت کو خبردار کیا، کہ سنبھل جائیں، ہمیں سڑکوں پر نہ لائیں۔

ان حالات میں پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کے سپیچ رائٹر کون ہیں ہمیں معلوم نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس نوجوان کے لئے ایسی تقریریں لکھنا کہ خود اس کا اپنا ذہن بھی طنز اور مذاق اڑانے والا بن جائے کچھ اچھا نہیں۔ حالات کے تحت بلاول اب ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا جانشین اور پیپلزپارٹی کا چیئرمین ہے۔ اسے تقریر اور ٹوئیٹ کرتے ہوئے سنجیدہ بات کرنا چاہئے اور فقرہ بھی مارنا ہو تو نانا کے فقروں کو سمجھ لے جن کو لوگ ’’انجوائے‘‘ کرتے تھے۔ جب انہوں نے کہا آگے خان، پیچھے خان ڈبل بیرل خان‘‘ تو پذیرائی ہوئی لیکن جو ٹوئیٹ گزشتہ روز شائع ہوا وہ بلاول بھٹو ہی کا ہے تو بد ذوقی ہے کہ ایک پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم کا پیچیدہ آپریشن ہوا، کامیاب رہا اور اب وہ صحت یابی کی طرف گامزن ہیں تو ان کے بارے میں یہ فقرہ بازی درست نہیں۔ بلاول کو غور کرنا ہوگا اور بلاول کے موجودہ مشیروں اور سپیچ رائٹر کو بھی اچھے اور مہذب فقرے دینا ہوں گے جو مطلب بھی واضح کریں۔ توہین والے بھی نہ ہوں اور لوگ بھی محظوظ ہوں، ابھی گزشتہ روز ہی ڈاکٹر آصف کرمانی نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف نے بلاول کے فقروں کا جواب دینے سے منع کیا اور توقع ظاہر کی کہ وہ تجربے کی بھٹی سے نکل کر ہی کندن بن سکیں گے۔ بی بی کے صاحبزادے اور جانشین کو احتیاط کرنا چاہئے۔ وہ اس سلسلے میں اپنے والد سے راہنمائی لے سکتے ہیں کہ وہ بھی اچھا فقرہ کہنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

پاناما لیکس کے مسئلہ پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پھر ہوگا، حکومتی ٹیم کو اب یقین ہو جانا چاہئے کہ وزیراعظم ماشاء اللہ اب بہتر ہیں اور جلد واپس بھی آ جائیں گے۔ تاہم اب بھی وہ اس قابل ہیں کہ ان سے ہدایت لی جا سکے۔ بہتر ہوگا کہ ٹی او آر کا مسئلہ لٹکایا نہ جائے۔ دونوں طرف سے تعاون کا جذبہ ہو تو متفقہ نکات تیار کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی یہ جلد کر لیا جائے تو بہتر کہ اب احتساب قومی ذہن بن چکا اور پھر یہ کسی ایک کا نہیں سب کا ہونا ہے۔ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ سیاست دان احتساب سے فرار چاہتے ہیں اگر چند کرنے والے مجرم ثابت ہوں تو ان کو سزا دلا کر بھی قومی خدمت ہی ہو گی۔ اپوزیشن نے آج کے اجلاس میں نئے نکات بھی دیئے ہیں۔ ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہئے۔ بہتر ہے، اب سب نکات کو مکسچر بنانے والی مشین میں ڈال کر ایک کاغذ نکال لیں اس پر سب نکات ہوں گے اور متفقہ ہوں گے۔

گزارش کی تھی کہ پاناما لیکس پر کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ہی احتساب کا ادارہ بھی قائم کر کے فوری کارروائی شروع ہونا چاہئے۔ یہ بھی کر ہی لیں۔

مزید : تجزیہ