قصور ویڈیوسکینڈل ، ایک مقدمہ میں الزام ثابت نہ ہونے پر دہشتگردی کی دفعات ختم

قصور ویڈیوسکینڈل ، ایک مقدمہ میں الزام ثابت نہ ہونے پر دہشتگردی کی دفعات ختم

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور ویڈیوسکینڈل کے ایک مقدمہ میں خوف و ہراس پھیلانے اور بھتہ وصولی کا الزام ثابت نہ ہونے پر دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں اور کیس سیشن کورٹ قصور منتقل کر دیا ۔قصور ویڈیوسکینڈل کے 20سے زائد مقدمات میں ملزمان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے گنڈا سنگھ والا قصور کے گاؤں حسین والا میں بچوں سے بداخلاقی کی اور ویڈیو بنا کر ان کو بلیک میل کیا اورعلاقے میں خواف و حراس پھیلایا۔ مقدمہ نمبر 261میں ملزم علی مجید، فیصان مجید اور حصیم عامر پر لڑکے وحید اختر سے بداخلاقی اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کا الزام تھا۔ ملزمان کے وکیل عدنان لیاقت نے درخواست دائر کی کہ مقدمہ بے بنیاد ہے، دہشت گردی کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔

دہشت گردی کی دفعات خارج کی جائیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 4 کے جج چودھری محمد الیاس نے مقدمہ سے دہشت گردی کی دفعات ختم کردیں اور کیس کو سیشن کورٹ قصور منتقل کر دیا ہے۔ قصور ویڈیوسکینڈل کے ایک مقدمہ میں ملزمان حصیم عامر اور فیضان مجید کو عمر قید کی سزا ہوچکی ہے جبکہ 11مقدمات سے اب تک دہشت گردی کی دفعات ختم ہو چکی ہیں جبکہ دیگر مقدمات کا ٹرائل ابھی جاری ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4