والدین کی تربیت : زندگی کا اثاثہ

والدین کی تربیت : زندگی کا اثاثہ
والدین کی تربیت : زندگی کا اثاثہ

  

میں ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں، ابتدائی تعلیم بھی دیہاتی سکولوں میں حاصل کی، میرے والد محترم چھوٹے کسان تھے، چھوٹی سطح کی زمینداری تھی، ساٹھ،ستر سال پہلے پاکستان کے پنجاب کے حالات کیا تھے؟ نئی نسل کو شائد اس کا علم نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات میں زندگی کا سفر جاری رکھنے والے بزرگوں کو اچھی طرح علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے والد محترم کو بہت تھوڑی زندگی عطا کی،جوانی ہی میں رحلت فرما گئے، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے(آمین) ۔۔۔ میری والدہ محترمہ کی تربیت کی بدولت مجھے اپنے گاؤں میں اپنے دادا جان مرحوم اور والد محترم کے ساتھیوں سے آداب زندگی سیکھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور والدہ محترمہ کی پُرخلوص دعاؤں کی بدولت شروع سے ہی زندگی میں اچھے اثر و رسوخ کے مواقع مل گئے۔ اگر چہ نوجوانی میں بعض لوگوں نے غلط راہ پر چلانے کی بھی کوشش کی، مگر شروع سے لے کر آج 70 سال سے زائد عمر تک والدہ محترمہ کی نصیحت آموز باتیں مشعل راہ رہی ہیں۔ اگر چہ میری والدہ نے اپنی تربیت سے مجھے باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ،مگر اس حقیقت سے کوئی بھی ماں انکار نہیں کر سکتی کہ بچے کی زندگی میں جتنی اہمیت ماں کی ہے، اتنی ہی والد کی ہے،اس کی جگہ کوئی رشتہ کبھی نہیں لے سکتا۔

بچے اپنے والدین، بالخصوص والد کی توجہ کے طلب گار ہوتے ہیں۔ والد کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کے ساتھ تھوڑی سی توجہ بھی بچے کے لئے سرمایہ افتخار ہوتی ہے۔ وہ والد کو کم عمری سے ہی مثالی کردار کی حیثیت دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں بچے اپنے والد کا اٹھنا بیٹھنا، بات کرنے کا طریقہ، لوگوں سے میل جول، اخلاق، کام کرنے کا انداز اور چال ڈھال بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بالکل اپنے والد کی طرح نظر آئیں۔ہر سمجھ دار والد اپنے بچے کو اپنے ساتھ رکھتا ہے، تاکہ وہ اسے کم عمری سے ہی زمانے کی اُونچ نیچ اور زندگی گزارنے کے طریقے سے آگاہ کرتے رہیں۔ بچے کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کے نکھار میں ماں کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا، مگر والد اکثر بچوں کے آئیڈیل ہوا کرتے ہیں۔ باپ بچوں کی تربیت میں شفقت کے ساتھ ساتھ بعض مرتبہ سختی سے بھی کام لیتے ہیں، تاکہ انہیں اچھائی اور برائی کی تمیز ہو سکے، جبکہ ماں کے دل میں بچوں کے لئے پیار ہوتا ہے، وہ بچے کو کسی بھی وقت اداس نہیں دیکھ سکتی۔ ماں کی ممتا اسے بچے پر سختی کرنے سے باز رکھتی ہے، جس کی وجہ سے بچہ ماں سے محبت تو کرتا ہے، مگر اپنی ہر بات منوا لیتا ہے۔

بعض اوقات بچے اس لئے بھی منزل سے بھٹک جاتے ہیں، کیونکہ اس گھر میں والد کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس میں والدہ کا بہت زیادہہاتھ ہوتا ہے، بچے سے جب کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو والد سے بچانے کے لئے ماں کی طرف لپکتا ہے،بعض مائیں بچے کے تمام عیب چھپا لیتی ہیں ،جس سے بچے کو شہ ملتی ہے اور وہ مزید غلطیاں کرنے کا عادی ہو جاتا ہے، لیکن اچھے بچے باپ کے ہر عمل پر غور کرتے ہیں اور باپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’باپ کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔‘‘ دنیا کا کوئی باپ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بیٹا بے ادب، بدتمیز،نالائق، کاہل یا بداخلاق ہو۔ ہر باپ یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا خوش اخلاق ہو، لائق ہو، بڑوں کا ادب کرنا جانتا ہو، محنت سے تعلیم حاصل کرے، استاد کا احترام کرے، گھرکے کام کاج میں مدد دے۔والد کا تعلق تو اولاد سے اسی وقت گہرا ہو جاتا ہے، جس روز وہ باپ بنتا ہے۔ اس وقت اس کی سوچ کا دھارا اپنی اولاد کی جانب مڑ جاتا ہے، جو کچھ پہلے تک صرف اپنے متعلق سوچا کرتا تھا، اب اپنی اولاد کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تعلیم و تربیت، کھانے پینے اور صحت کے متعلق ہر وقت جستجو میں لگا رہتا ہے۔

ایک پُرشفقت باپ اپنے بچوں کے لئے حفاظتی دیوار کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لئے سب سے اہم اور ضروری بچوں کو معاشی و نفسیاتی اور جذباتی تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ والد بچوں کی تعلیم کے متعلق خاصے سخت ہوتے ہیں۔ یہ واحد شعبہ ہے ،جس میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کرسکتے، چونکہ ان کے پیش نظر بچے کا محفوظ مستقبل ہی ہوتا ہے۔ چاہے کوئی بھی کھیل یا مسئلہ ہو، بچہ باپ کو ہی اپنے تمام مسائل کے حل کے طور پر اہم جانتا ہے جو کم عمری میں ان کے ہر اچھے کام اور کامیابی کے پیچھے کارفرما رہ کر مستقل حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ عمل ہربچے کو مضبوط کردار، باحوصلہ اور متوازن شخصیت سے ہمکنار کرتا ہے۔سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ والد کی محبت کے زیر سایہ پُرشفقت ماحول میں پرورش پانے والے بچے اوسط ذہانت کے حامل ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال کرنے پر مکمل دسترس رکھتے ہیں،لیکن موجودہ حالات میں اردگرد کے ماحول کی وجہ سے بھی بچوں کے اندر معاشرتی بگاڑ پیدا ہو گیا ہے۔ ان حالات میں بچوں کے اچھے مستقبل کے لئے ان کی تعلیم و تربیت کے لئے فیصلہ کن کردار باپ کے ذمہ دارانہ طرز عمل کا ہو گیا ہے۔

مزید : کالم