جاسوس تک رسائی اور جعلی شناختی کارڈ!

جاسوس تک رسائی اور جعلی شناختی کارڈ!

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے واضح کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن تک بھارت کے سفارت خانوں کو رسائی نہیں دی جا سکتی کہ وہ غلطی سے سرحد پار کر کے نہیں، ایک دشمن جاسوس کی حیثیت سے پاکستان میں آیا تھا اس کے ساتھ مُلک دشمن جاسوس ہی کا سلوک کیا جائے گا۔بھارتی حکومت نے اپنے سفارت خانے کے ذریعے اس گرفتار جاسوس تک رسائی مانگی تھی جسے پہلے شہری تسلیم نہ کیا گیا، پھر اسے ریٹائر سرکاری افسر کہا گیا یہ دونوں جواب غلط ثابت ہوئے تھے اس کے باوجود رسائی مانگی گئی جو کوئی بھی مُلک کسی شہری کے لئے مانگ سکتا ہے، جو کسی دوسرے مُلک میں پکڑا گیا ہوا، لیکن اس معاملے کی نوعیت مختلف ہے۔ کلبھوشن کا تو اعترافی بیان بھی موجود ہے۔ شاید اسی بناء پر بھارت سرکار اس تک رسائی چاہتی ہے۔ وزیر داخلہ نے انکار کیا تو اس کا جواز بھی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بھی پلڑا پاکستان کی طرف جھکتا ہے۔ یوں بھی یہ بہت اہم ملزم ہے جس نے بہت سے انکشافات کئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے خلاف جو قانونی کارروائی ہو وہ شفاف ہو اور دُنیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کو بھی دکھائی جائے کہ بھارت کی حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو۔وزیر داخلہ نے شناختی کارڈوں اور نادرا کی کارکردگی اور حکومتی کارروائی کے حوالے سے بھی بہت کچھ بتایا۔ انہوں نے تسلی دی ہے کہ شناختی کارڈوں کی تصدیق کے عمل میں عوام کو پریشانی نہیں ہو گی اور اب یہ ضروری ہے کہ شناختی کارڈوں کی تصدیق ہو اور جعلی شناختی کارڈ ختم کئے جائیں۔ وزیر داخلہ نے جب شناختی کارڈوں کی تصدیق کی ہدایت اور اعلان کیا، تب سے عوام کے ذہنوں میں یہ وسوسہ پایا جاتا ہے کہ روایت کے مطابق اس سے ان شہریوں کو پریشانی ہو گی جو درست دستاویزات کے ساتھ صحیح شناخت رکھتے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ بھی درست ہیں۔ وزیر داخلہ کی یقین دہانی پر اعتماد کرنا چاہئے کہ اس قومی مفاد کی پڑتال کے دوران ایسا کوئی عمل نہ ہو کہ یہ تصدیقی کام سبوتاژ ہو یا جعل ساز بچ سکیں۔ یوں بھی حکومت کی طرف سے جعلی کارڈ واپس کرنے کی مدت دی گئی ہے اب اگر اس تاریخ تک کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتا تو پھر اسے سزا ہونا ہی چاہئے۔ توقع ہے کہ محکمہ ،وزیر داخلہ کی منشا کو سمجھتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار کرے گا کہ معزز شہری تنگ نہ ہوں۔

مزید : اداریہ