مودی کا دو سال میں چوتھا دورۂ امریکہ؟

مودی کا دو سال میں چوتھا دورۂ امریکہ؟
 مودی کا دو سال میں چوتھا دورۂ امریکہ؟

  

وزیراعظم بھارت نریندر مودی پرسوں 6 جون (2016ء) کو تین روزہ دورے پر امریکہ پہنچے جہاں وہ صدر بارک اوباما سے ملے اور آج اپنے دورے کے پروگرام کے مطابق امریکہ سے اڑ کر اپنے پروگرام کے مطابق پانچویں ملک میکسیکو چلے جائیں گے۔ امریکہ آنے سے پہلے وہ افغانستان، قطر اور سوئٹزر لینڈ بھی گئے۔ سوئٹزرلینڈ میں انہوں نے 48 ممالک پر مشتمل نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) کے بیشتر ممالک کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران اس گروپ میں داخلے کے لئے ان کی حمائت چاہی تھی جو انہوں نے ’’خوشی خوشی‘‘ دے دی۔ یہ اجلاس اسی ماہ جون کے اواخر میں ہو رہا ہے۔

آج کل بقول پنجابی محاورہ مودی کی ’’گُڈی‘‘ چڑھی ہوئی ہے۔2014ء میں جب سے انہوں نے پردھان منتری بھون میں قدم رکھا ہے معلوم ہوتا ہے آتش زیرپا ہو چکے ہیں۔ اب تک بیرونی ممالک کے 50دورے کر چکے ہیں۔ خبر نہیں ان کا مقصد کسی گنی بک میں اپنا نام لکھوانا ہے یا دنیا کے چاروں کھونٹ ڈھنڈورا پیٹنا ہے کہ بھارت امریکہ کے بعد، دنیا کی دوسری بڑی جمہوریہ ہے۔۔۔ یہ ان کا امریکہ کا چوتھا دورہ تھا اور اوباما سے ان کی ساتویں ملاقات تھی۔

امریکیوں سے بار بار کی یہ ملاقاتیں ہم پاکستانیوں کے لئے نئی نہیں ہیں۔ ہم بھی کبھی امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر ہوا کرتے تھے اور ناٹو تنظیم سے باہر امریکہ کے ایک اہم ترین کلیدی اتحادی تھے۔ ماضی قریب و بعید میں ہم نے امریکہ کی دوستیاں اور دشمنیاں دونوں بار بار پالیں اور یہ شائد ایک ریکارڈ بھی ہو۔ اگر آج امریکہ بھارت کا ’’فطری اتحادی‘‘ (Natural Ally) کہا جا رہا ہے تو کل ’’فطری دشمن‘‘ بھی بن سکتا ہے۔ بھارتیوں کو اپنے ہمسایہ میں جھانک کر ہی کوئی عبرت پکڑنی چاہیے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے ابھی ان کو اس انجام تک پہنچنے کی خبر نہیں۔ مودی کو آج امریکہ کی جو اودی اودی گھٹائیں نظر آ رہی ہیں آنے والے کل میں یہی کالی کالی گھٹاؤں میں تبدیل ہو کر کسی طوفانی سیلاب کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔۔۔بہرحال اوباما سے بغلگیر ہونے کے بعد بھارت کی وزارت خارجہ نے ان کو جو ایجنڈا دیا تھا وہ یہ تھا:

1۔ دفاع

2۔امریکی سولجرز کے مشہور عالم قبرستان آرلنگٹن میں امریکی ’’شہدا‘‘ کی سمادھیوں اورقبور کی زیارت

3۔اوباما سے ون ٹو ون ملاقات

4۔ساؤتھ چائنہ سمندر میں امریکہ سے (چین کے خلاف) قریبی تعاون

5۔ان دفاعی سودوں کا فیصلہ اور اعلان جو پینٹاگان میں زیر غور تھے اور جن پر امریکی وزیر دفاع آشٹن ایک عرصے سے زور دے رہے تھے کہ ان کا جلد فیصلہ کیا جائے۔

6۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی بندرگاہوں اور ہوائی مستقروں پر ’’کال آن‘‘ کرنے کے جو معاہدے تیار کر رکھے تھے ان کو حتمی شکل دینا۔

7۔آندھرا پردیش میں امریکہ کی ویسٹنگ ہاؤس کمپنی کی طرف سے 6عدد جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر و تنصیب

8۔ امریکہ۔ بھارت۔ بزنس کمیونٹی (USIBC) کے چوٹی کے ایک اجلاس میں شمولیت اور خطاب

9۔امریکی کانگریس کے مشترکہ ایوانوں سے خطاب

قارئین کو یاد ہوگا گیارہ برس پہلے اسی امریکی کانگریس نے مودی کو امریکہ آنے کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب اسی کانگریس کے دونوں ایوان ان کو خوش آمدید کہیں گے۔ امریکیوں کا یہ اباؤٹ ٹرن بھارت کے لئے چشم کشا ہونا چاہیے۔ فارسی میں کہا جاتا ہے کہ : ’’کمان جتنی بھی خم ہوگی، اس کا تیر اتنا ہی دور جائے گا۔‘‘

کماں چندا نکہ خَم گرددخند نگش دور ترافتد

جب مودی کا طیارہ 6جون کو واشنگٹنD.C میں لینڈ ہوا تو جو لوگ استقبال کے لئے آئے ان میں بھارت میں امریکی سفیر رچرڈ ورما اور امریکہ کی جنوب اور جنوب مشرقی ایشیاء میں نائب وزیر خارجہ نشابسوال شامل تھیں۔۔۔ یہ بی بی بھی بھارت نژاد ہیںیعنی وزیراعظم کا استقبال روٹین طریقے سے کیا گیا۔

بھارت کا میڈیا آج کل مودی اور اوباما کی دوستی کا بہت پرچارک بنا ہوا ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ مودی اور اوباما دونوں کا ماضی غربت میں گزرا اس لئے دونوں کے انسانی جذبات و احساسات مشترک ہیں، دونوں کے خیالات گلوبل موسمی آلودگی کو کم کرنے کے موضوع پر بھی یکساں ہیں اور دونوں حضرات، خواتین کو معاشرے میں زیادہ باوقار اور بااختیار بنانے کے حق میں بھی ہیں۔ لیکن یہ مشترک اقدار اور خوبیاں کوئی ایسی خصوصی صفاتِ حسنہ نہیں جو دو سربراہانِ مملکت کے درمیان اتنی گہری ’’ذاتی دوستی‘‘ کی وجہ بن سکیں جو مودی کو بار بار اوباما سے جپھیاں ڈالنے پر مجبور کرتی ہے اور ساتھ کھڑی مشعل اوباما کی آنکھوں میں حیرت اور رقابت کے ملے جلے جذبات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

بعض مبصر دونوں لیڈروں کی ان خصوصیات کا ذکر بھی کرتے ہیں جو ان میں ہر گز مشترک نہیں۔مثلاً اول یہ کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد وہاں کی کل آبادی کا 14فیصد ہے اور چونکہ اوباما کا تعلق سیاہ فام اقلیت سے ہے اس لئے ان کو امریکی اقلیتوں سے بڑی ہمدردی ہے۔ آنے والے الیکشن میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بارہا امریکی مسلمانوں کے جذبات مجروح کر چکے ہیں۔ مجھے اس موضوع پر زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ سب قارئین جانتے ہیں کہ اگر ٹرمپ امریکہ کا اگلا صدربن گیا تو وہاں کی مسلم اقلیت کا حالِ زار کیاہوگا۔ دوسری طرف مسلم اقلیت کی حمائت، ڈیمو کریٹک امیدوار مسز ہلیری کلنٹن کا ایک مضبوط پوائنٹ ہے جو نومبر 2016ء کے الیکشن میں ڈیمو کریٹس کی مدد کرے گا۔۔۔۔ بھارت میں بھی مسلمانوں کی تعداد آبادی کا 14 فیصد ہے۔لیکن اوباما کے علی الرغم مودی صاحب کے کردار پر نگاہ ڈالیئے جو مسلم دشمنی سے شدید آلودہ ہے۔ ان کا تعلق ایک طویل عرصہ تک آر ایس ایس (RSS) سے رہا جو بھارت میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت سمجھی جاتی ہے اور مسلمانانِ ہند کی سخت مخالف اور دشمن رہی ہے(اور آج بھی ہے)۔ جب 2002ء میں مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ان پر 1000 مسلمانوں کے قتل عام کا لیبل لگا ہوا تھا۔ اسی بنیادپر تو امریکی کانگریس نے مودی کا داخلہ امریکہ میں بند کر رکھا تھا۔ ابھی گزشتہ ہفتے اسی مقدمے میں عدالت نے 24انتہا پسند گجراتی ہندوؤں کو مسلمانوں کے قتلِ عام کا مجرم قرار دیا ہے۔

دوسرا شخصی اور ذاتی تضاد مودی اور اوباما کے درمیان وہ ہے جس کو سماجی اور انسانی جذبوں کی تائید و مخالفت کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ مودی نے جس خاتون کے ساتھ ’’پھیرے‘‘ لئے تھے وہ آج بھی مودی کے ’’حق‘‘ میں بیٹھی ہیں اور کہتی ہیں کہ جب بھی پتی آواز دیں گے میں احمد آباد سے دہلی دوڑتی جاؤں گی۔ سچ یہ ہے کہ اپنی پتنی کے بارے میں یہ سنگدلی مودی کو انسانی اور اخلاقی جذبات کے سنگھاسن سے اٹھا کر زمین پر پھینک دیتی ہے جبکہ اوباما اپنی اہلیہ اور بچیوں سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی پاکستان کے شہری اپنے بال بچوں سے کرتے ہیں یا دنیا کے اکثر ممالک کے خاوند اور باپ کرتے ہیں۔

مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی مقبوضہ کشمیر کی سیاسیاست میں جس تبدیلی لانے کا بیڑا اٹھایا تھا اور جس سرگرمی سے فعال ہوئے تھے، وہ ہم سب جانتے ہیں۔ انسانی حقوق کی انجمنوں اور کئی NGOs کو مودی سرکار حکماً بند کرا چکی ہے جبکہ اوباما خوب سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میں تنقید و انتقاد اس طرزِ حکومت کے سنہری اصولوں میں شامل ہیں۔اور یہ پہلو بھی مودی اوراوباما میں تنازعہ فیہ ہے۔

ایک بھارتی مبصر کانتی پرشاد باجپائی نے مودی کی شخصیت کو صرف ایک جملے میں کیپسول کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’مسٹر مودی کا تعلق ایک ایسے طبقے سے ہے جو عوام میں ہر دلعزیز ہوتا ہے، انتخاب جیت سکتا ہے، خود پسند اور خود نگر بھی ہوتا ہے، دائیں بازو کا انتہا پسند ہوتا ہے اور جس کی اپیل (کوالی فیکشن) یہ ہے کہ وہ آبادی کی اکثریت میں غصے کے جذبات کو بھڑکانے کا دلال ہوتا ہے۔ جبکہ اوباما اس کا بالکل الٹ ہیں۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں میں کسی دوستی یاری کی کوئی قربت ہو سکتی ہے‘‘۔

میں باجپائی کے اس جملے کی ہمہ گیر معنویت اور صداقت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا یہ جملہ انگریزی میں بھی لکھنے پر مجبور ہوں:

Mr. Modi is part of a class of "populist, electable, narcissistic right-wing autocrats whose appeal is that they pander to majoritarian anger.Obama is the oppisite of that, so it is hard to see how close they can be," Mr. Bajpai said.

مزید : کالم