نئے صوبے کی آواز بلند کرنیوالے دہشتگردی چاہتے ہیں :اویس نورانی

نئے صوبے کی آواز بلند کرنیوالے دہشتگردی چاہتے ہیں :اویس نورانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ فائلر اور نان فائلر کی پہچان کے لئے مستند طریقہ نکالا جائے دوسرے صورت میںیہ انتہائی غلط ہے کہ ہر چیز میں ، ہر بل پر وتھ ہالڈنگ ٹیکس لگایا جائے، فیڈرل ایکسائز ڈویوٹی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، پانچ لاکھ سالانہ کمانے والے کی تیس سے چالیس فیصد تنخواہ ٹیکس کا حصہ بن جاتی ہے، مہنگی تعلیم، مہنگی کپڑے کی صنعت، مہنگا کاسمیٹیک، مہنگی ادویات، اور ہر وہ کھانے کی چیز یا فاس فوڈ جو ڈبے میں پیک ہو کر ملے گی اس پر بھاری ٹیکس لگایا گیاہے، منرل واٹر، کول ڈرنک اور دیگر چیزوں پر بھی ٹیکس، معیار زندگی بہتر نہیں بنایا جا رہا ہے بلکہ معیار پیمانے کو مڈل کلاس سے اوپر لے جایا جا رہا ہے، 2016مڈل کلاس طبقے کے لئے معاشی طور پر سخت ترین اذیت والا سال ہوگا، اگر تین ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات پھر سے پرانے ریٹ پر آگئیں تو یہ بجٹ گلے کا پھندہ بن جائے گا،حکومت کو سبسڈی دینی پڑی گی ورنہ نئے دھرنوں اور مظاہروں کوسلسلہ شروع ہوگا جو سیاسی نہیں بلکہ عوامی ہوگا، ورلڈ اسلامک مشن کے زیر اہتمام امام اعظم مسجد میں پہلے دن کی تراویح کے اختتام پر جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ کیا بجٹ 2016سے مراد ہے کہ عوام ایک سال تک ساکت رہے؟اشیائے ضروریات براہ راست مہنگی نہ بھی کی گئی ہوں لیکن اس کے آس پاس کی ساری اشیاء مہنگی کردی گئیں، پاکستان کی تاریخ میں اس زیادہ ٹیکس زدہ بجٹ کوئی نہیں آ یا ہے، ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بدترین ٹیکس لگائے گئے ہیں، بڑی آمدن کی کمپنیوں پر سپر ٹیکس لگانے سے تین سال سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے، پراپرٹی ٹیکس لگاتے وقت تک عادی بیوپاری اور نقل مکانی والے میں فرق نہیں کیا گیا، اس ٹیکس سے رمضان المبار ک گزر جائے مگر پورا سال نہیں گزر سکے گا، حکومت عوامی امیدوں کے خلاف جا رہی ہے، متحدہ اور پیپلز پارٹی کشمکش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ متحدہ نے نئے صوبے کی تحریک کا آغاز کیا تو سب سے پہلے مخالفت میں اینٹی صوبہ تحریک ہم چلائیں گے، قائم علی شاہ اب جاگ رہے ہیں کہ سندھ دھرتی تقسیم ہوجائے گی جو کہ حیرت کی بات ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر