نوشہرہ ،رمضان المبارک میں بجلی کی آنکھ مچولی سحری و افطاری میں مشکلات

نوشہرہ ،رمضان المبارک میں بجلی کی آنکھ مچولی سحری و افطاری میں مشکلات

چنوشہرہ(بیورورپورٹ) محکمہ واپڈا نوشہرہ نے وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر پانی وبجلی کے احکامات ماننے سے انکار کردیا ہے سحری اور افطاری کے علاوہ سارا دن بجلی کی لوڈشیڈنگ کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے روزہ داروں کو شدید مشکلات کاسامنا حکومت کے بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے بارے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے محکمہ واپڈا نوشہرہ کا ماہ رمضان میں بھی ضلع بھر میں ظالمانہ اور ناروا لوڈشیڈنگ جاری افطاری، سحری اور دوران تراویح ناروااور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری محکمہ واپڈا نوشہرہ کا ماہ رمضان میں بھی ضلع بھر میں ظالمانہ اور ناروا لوڈشیڈنگ جاری افطاری، سحری اور دوران تراویح ناروااور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری جبکہ رہی سہی کسر اووربلنگ میں نکال دی شریف شہریوں پر ماہانہ سینکڑوں اضافی یونٹ کے ہزاروں روپے پر مشتمل بل تمھادئیے جبکہ 24گھنٹوں میں صرف 4گھنٹے بجلی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود واپڈا کے کرپٹ اہلکار شہریوں کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں واپڈا کے اس ظالمانہ روئیے کے خلاف عوام سراپا احتجاج دن میں 18,18گھنٹے کی طویل ترین لوڈشیڈنگ جاری جس سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر مساجد اور گھروں میں پانی ناپید جبکہ ہسپتالوں مریض اور سکولوں میں بچے رل گئے عوام کا محکمہ واپڈا کی فوری طورپر نجکاری کرنے کا مطالبہ اس سلسلے میں نوشہرہ کینٹ اور دیگرعلاقوں کے عوام اور منتخب عوامی نمائندوں نے واپڈا ظالمانہ لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے خلاف احتجاج کی دھمکی اگر لوڈشیڈنگ ختم نہ کی گئی تو واپڈا کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے جس کی ذمہ داری محکمہ واپڈا کے اعلیٰ حکام پر عائد ہوگی ان خیالات کااظہارانجمن تاجران کے ضلعی صدر آیاز پراچہ، نائب صدر فاروق خان، جنرل سیکرٹری حاجی سعید بخش پراچہ، سیکرٹری اطلاعات راجہ سعید، فنانس سیکرٹری حبیب اسلم، ڈاکٹر فضل الرحمن، سجاد پراچہ، کلیم ، صابر شاہ، میاں احمدشاہ، حاجی اورنگزیب ، خالدخان آفریدی،سردار علی زرگرنے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ محکمہ واپڈا نے ظالمانہ لوڈشیڈنگ نے قوم کا جینا محال کرکے رکھ دیا ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ جلد از جلد واپڈا کو نجکاری میں دے کر قوم کو واپڈا کے ظالم اہلکاروں سے نجات دلائیں عوامی نمائندوں نے حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تین دن کے اندراندر بجلی کے ناروا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیاگیا تو نوشہرہ پشاور، نوشہرہ پنڈی، نوشہرہ مردان نوشہرہ چارسدہ روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کرکے نوشہرہ کا رابطہ سارے ملک سے منقطع کرکے رکھ دیں گے جس کی ذمہ داری محکمہ واپڈا پر عائد ہوگی کیونکہ 18گھنٹے تک لوڈشیڈنگ سے عوام کا جینا محال بنادیا ہے مساجد اور گھروں میں پانی ناپید کاروبار زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے 18گھنٹے لوڈشیڈنگ تک پہنچ گیا ہے اگر نئے فیڈر سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیاگیا تو جی ٹی روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیں گے ہزاروں عوام شدید مشکلات کے شکار ہے مساجد اور گھروں میں پانی ناپید ہوچکاہے اور عوام پانی کے بوند بوند کوترس رہے ہیں خواتین اور بچے دوردراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہوچکے ہیں ایکسویں صدی میں واپڈا کی ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بنیادی سہولیات سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ رات کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے چوری کے وارداتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے اور مچھروں کی بھرمار نے عوام کا جینا محال بنادیا ہے اور عوام مچھر کے کاٹنے سے ہسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر