ڈسٹرکٹ ہسپتال وہاڑی، ہنگامہ آرائی کرنیوالوں کیخلاف مقدمہ درج، مسیحاؤں کی ہڑتال برقرار

ڈسٹرکٹ ہسپتال وہاڑی، ہنگامہ آرائی کرنیوالوں کیخلاف مقدمہ درج، مسیحاؤں کی ...

وہاڑی(بیورو رپورٹ+نما ئندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں مریض کی ہلاکت ، مشتعل افراد کی ہنگامی آرائی اور ڈاکٹرزطبی عملہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف تھانہ دانیوال میں پا نچ نا مزد جبکہ متعدد نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ، ایف آئی آر زیر دفعہ342,186-353ت پ کے تحت درج کی گئی ہے یہ با ت قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی (بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

شب ہونے والے واقعہ کے بعد ایمرجنسی وارڈ بند کردیا گیا تھا اور پی ایم اے کی اپیل پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور ضلع کے دیگر ہسپتال وں میں ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے یہ ہڑتال گذشتہ روز بھی رہی ڈی سی او علی اکبر بھٹی کے حکم پر ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر افضل بشیر اور ایم ایس ڈاکٹر غضنفر دھرلہ نے ایمرجنسی وارڈ میں طبی فرائض انجام دیئے۔ پی ایم اے کا مطالبہ تھا کہ ہنگامی آرائی اور تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جا ئے اس سلسلہ میں معاملہ کو حل کرنے کے لیے گزشتہ روز مذاکرات کے دو دور منعقد ہوئے رات گئے اجلاس جس میں ڈی سی او علی اکبر بھٹی ، ڈی پی او غازی صلاح الدین ، پی ایم اے کے عہدیداران بھی شامل تھے یہ اجلاس رات گئے جاری رہا جس میں ضلعی انتظامیہ نے مذکورہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی یہ مقدمہ شیخ محمد فیاض ، شیخ زاہد عرف طارا ، شیخ اظہر ممتا ز، شیخ سرفراز اور متعدد نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ۔تاہم مقدمہ کے اندراج کے با وجود پا کستان میڈیکل ایسو سی ایشن کا اصرار ہے کہ مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں پی ایم اے نے ہڑتال نہ ختم کی ۔ شہریوں محمد اسلم ، عمران ، محمد ندیم ، کا مران ، محمد نوید ، فدا حسین ، عرفا ن علی اور دیگر نے کہا کہ ڈاکٹر مسیحاہیں اور مسیحاہی کا کردار ادا کریں اور فوری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کریں۔دوسری جا نب ڈی سی او علی اکبر بھٹی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے سنجیدگی سے معاملہ کو لیا ہوا ہے ڈاکٹرز اپنے فرائض انجام دیں ۔ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر غضنفر دھرلہ کے مطابق ایمرجنسی وارڈ پوری طور فعال ہے۔ ڈاکٹر جلد ہڑتال ختم کردیں گے انہو ں نے کہا کہ انتقال کرنے والا مریض پرانا دل کا مریض تھا اور اسکا بائی پا س ہو چکا تھا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر